صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
130. بَابُ إِذَا رَمَى بَعْدَ مَا أَمْسَى أَوْ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ نَاسِيًا أَوْ جَاهِلاً:
باب: کسی نے شام تک رمی نہ کی یا قربانی سے پہلے بھول کر یا مسئلہ نہ جان کر سر منڈوا لیا تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 1734
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ لَهُ: فِي الذَّبْحِ وَالْحَلْقِ وَالرَّمْيِ وَالتَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ، فَقَالَ: لَا حَرَجَ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ابن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قربانی کرنے، سر منڈانے، رمی جمار کرنے اور ان سے آگے پیچھے کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1734]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذبح کرنے، سر منڈوانے، کنکریاں مارنے اور تقدیم و تاخیر کے متعلق عرض کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1734]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1735
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى، فَيَقُولُ: لَا حَرَجَ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ؟ قَالَ: اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ، وَقَالَ: رَمَيْتُ بَعْدَ مَا أَمْسَيْتُ؟ فَقَالَ: لَا حَرَجَ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے خالد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم نحر میں منیٰ میں مسائل پوچھے جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جاتے کہ کوئی حرج نہیں، ایک شخص نے پوچھا تھا کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈا لیا ہے تو آپ نے اس کے جواب میں بھی یہی فرمایا کہ جاؤ قربانی کر لو کوئی حرج نہیں اور اس نے یہ بھی پوچھا کہ میں نے کنکریاں شام ہونے کے بعد ہی مار لی ہیں، تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1735]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قربانی کے دن منیٰ کے میدان میں (تقدیم و تاخیر کے متعلق) دریافت کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ” «لَا حَرَجَ» ”کوئی حرج نہیں۔“”چنانچہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میں نے قربانی کرنے سے قبل سر منڈوا لیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ» ”اب ذبح کر دو، کوئی حرج نہیں۔“”پھر اس نے کہا: میں نے شام ہونے کے بعد رمی کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَا حَرَجَ» ”کوئی حرج نہیں ہے۔“” [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1735]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة