سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. بَابُ: ذِكْرِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِي الْعُقُولِ وَاخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لَهُ
باب: دیت کے سلسلے میں عمرو بن حزم کی حدیث کا ذکر اور اس کے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 4857
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ كِتَابًا فِيهِ الْفَرَائِضُ وَالسُّنَنُ وَالدِّيَاتُ، وَبَعَثَ بِهِ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، فَقُرِئَتْ عَلَى أَهْلِ الْيَمَنِ هَذِهِ نُسْخَتُهَا:" مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِلَى شُرَحْبِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ , وَنُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ , وَالْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ، قَيْلِ ذِيِ رُعَيْنٍ وَمَعَافِرَ , وَهَمْدَانَ أَمَّا بَعْدُ، وَكَانَ فِي كِتَابِهِ:" أَنَّ مَنِ اعْتَبَطَ مُؤْمِنًا قَتْلًا عَنْ بَيِّنَةٍ , فَإِنَّهُ قَوَدٌ إِلَّا أَنْ يَرْضَى أَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ، وَأَنَّ فِي النَّفْسِ الدِّيَةَ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْأَنْفِ إِذَا أُوعِبَ جَدْعُهُ الدِّيَةُ، وَفِي اللِّسَانِ الدِّيَةُ، وَفِي الشَّفَتَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الْبَيْضَتَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الذَّكَرِ الدِّيَةُ، وَفِي الصُّلْبِ الدِّيَةُ، وَفِي الْعَيْنَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الرِّجْلِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي كُلِّ أُصْبُعٍ مِنْ أَصَابِعِ الْيَدِ وَالرِّجْلِ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَأَنَّ الرَّجُلَ يُقْتَلُ بِالْمَرْأَةِ وَعَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفُ دِينَارٍ". خَالَفَهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ.
عمرو بن حزم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے لیے ایک کتاب لکھی، اس میں فرائض و سنن اور دیتوں کا ذکر کیا، وہ کتاب عمرو بن حزم کے ساتھ بھیجی، چنانچہ وہ اہل یمن کو پڑھ کر سنائی گئی، اس کا مضمون یہ تھا: نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شرحبیل بن عبد کلال، نعیم بن عبد کلال اور حارث بن عبد کلال کے نام جو رعین، معافر اور ہمدان کے والی تھے۔ امابعد، اس کتاب میں لکھا تھا: جو بلا وجہ کسی مومن کو مار ڈالے اور اس کا ثبوت ہو تو اس سے قصاص لیا جائے گا سوائے اس کے کہ مقتول کے اولیاء معاف کر دیں، اور ایک جان کی دیت سو اونٹ ہے۔ ناک پوری کٹ جائے تو پوری دیت ہے، اور زبان میں دیت ہے، دونوں ہونٹوں میں دیت ہے، دونوں فوطوں میں دیت ہے، عضو تناسل میں دیت ہے، پیٹھ میں دیت ہے، آنکھوں میں دیت ہے، ایک پاؤں کی دیت آدھی ہے، جو زخم دماغ تک پہنچے اس میں تہائی دیت ہے۔ جو زخم پیٹ تک پہنچے اس میں تہائی دیت ہے، اور جس زخم سے ہڈی سرک جائے اس میں دیت پندرہ اونٹ ہیں۔ اور ہاتھ پاؤں کی ہر انگلی میں دیت دس اونٹ ہیں۔ دانت میں دیت پانچ اونٹ ہیں، اس زخم میں جس سے ہڈی کھل جائے دیت پانچ اونٹ ہیں، اور مرد عورت کے بدلے قتل کیا جائے اور سونا والے لوگوں پر ہزار دینار ہیں۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) محم بن بکار بن بلال نے اس سے اختلاف کیا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4857]
حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن والوں کی طرف ایک تحریر لکھوا کر بھیجی جس میں فرائض و سنن اور دیت کے مسائل تھے۔ آپ نے وہ تحریر حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے ہاتھ بھیجی تھی۔ وہ اہل یمن کو پڑھ کر سنائی گئی۔ اس کی عبارت یوں تھی: ”یہ تحریر نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شرحبیل بن عبد کلال، نعیم بن عبد کلال اور حارث بن عبد کلال کی طرف ہے، جو ذو رعین، معافر اور ہمدان کے سردار ہیں۔ «أَمَّا بَعْدُ» ”امابعد!“ (اس تحریر میں بہت سی باتیں تھیں) اس تحریر میں یہ بات بھی تھی کہ جو شخص کسی مومن کو بے گناہ قتل کر دے اور گواہ موجود ہوں تو اس کو قصاصاً قتل کر دیا جائے گا الا یہ کہ مقتول کے ورثاء راضی ہو جائیں۔ اور ہر انسانی جان کی دیت سو اونٹ ہے۔ اگر پوری ناک کاٹ دی جائے تو اس میں مکمل دیت (سو اونٹ) ہوگی۔ زبان پوری کاٹ دی جائے تو اس میں بھی پوری دیت ہوگی۔ دونوں ہونٹ کاٹے جانے کی صورت میں بھی پوری دیت ہوگی۔ خصیتین مکمل کاٹ دیے جائیں تو پوری دیت ہوگی۔ ذکر پورا کاٹ دیا جائے تو پوری دیت ہوگی۔ کمر (ریڑھ) کی ہڈی توڑ دی جائے تو پوری دیت ہوگی۔ دونوں آنکھیں پھوڑ یا نکال دی جائیں تو پوری دیت ہوگی۔ ایک پاؤں کی نصف دیت ہوگی۔ دماغ تک پہنچ جانے والے زخم میں تہائی دیت ہوگی۔ پیٹ کے اندر تک پہنچ جانے والے زخم میں تہائی دیت ہوگی۔ ہڈی کو توڑ دینے والے زخم کی دیت پندرہ اونٹ ہوں گے۔ ہاتھ پاؤں کی انگلیوں میں سے ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہوگی۔ ہر دانت کی دیت پانچ اونٹ ہوگی۔ ہڈی کو ننگا کرنے والے زخم کی دیت پانچ اونٹ ہوگی۔ آدمی عورت کو قتل کرے تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔ اگر کوئی شخص سونے کی صورت میں دیت دینا چاہے تو دیت ایک ہزار دینار ہوگی۔“ محمد بن بکار بن بلال نے اس کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4857]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4850 (ضعیف) (اس کے راوی ”سلیمان‘‘ (جو حقیقت میں ’’ابن داود‘‘ نہیں بلکہ ’’ابن ارقم‘‘ ہیں، متروک الحدیث ہیں، صحیح سن دوں سے یہ حدیث زہری سے مرسلاً ہی مروی ہے، بہر حال اس کے اکثر مشمولات کے صحیح شواہد موجود ہیں)»
وضاحت: ۱؎: محمد بن بکار نے حکم بن موسیٰ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے یحییٰ سے انہوں نے سلیمان بن ارقم سے روایت کی ہے، اور یہی صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، سليمان بن داود صوابه سليمان بن أرقم،انظر الحديث الآتي (4858) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 357
حدیث نمبر: 4858
أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ مَرْوَانَ بْنِ الْهَيْثَمِ بْنِ عِمْرَانَ الْعَنْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ، قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ بِكِتَابٍ فِيهِ الْفَرَائِضُ وَالسُّنَنُ وَالدِّيَاتُ، وَبَعَثَ بِهِ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، فَقُرِئَ عَلَى أَهْلِ الْيَمَنِ هَذِهِ نُسْخَتُهُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَفِي الْعَيْنِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ، وَفِي الْيَدِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ، وَفِي الرِّجْلِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَذَا أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ , وَسُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ. وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ مُرْسَلًا.
عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو ایک کتاب لکھی جس میں فرائض، سنن اور دیات کا ذکر تھا۔ اسے عمرو بن حزم کے ساتھ بھیجا، چنانچہ وہ اہل یمن کو پڑھ کر سنائی گئی۔ جس کا مضمون یہ تھا۔ پھر انہوں نے اسی طرح بیان کیا، سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا: ایک آنکھ میں دیت آدھی ہے۔ ایک ہاتھ میں آدھی دیت ہے اور ایک پاؤں میں دیت آدھی ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ روایت زیادہ قرین صواب ہے۔ واللہ اعلم۔ اور سلیمان بن ارقم متروک الحدیث ہیں، اس حدیث کو یونس نے زہری سے مرسلاً روایت کیا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4858]
حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن والوں کی طرف ایک تحریر لکھ کر بھیجی جس میں فرائض و سنن اور دیت کے مسائل تھے۔ آپ نے یہ تحریر حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے ہاتھ بھیجی تھی اور یہ یمن والوں کو پڑھ کر سنائی گئی۔ یہ اس کا مضمون ہے۔ پھر راوی نے سابقہ روایت کی طرح بیان کیا مگر اس نے کہا: ”ایک آنکھ میں نصف دیت (پچاس اونٹ) ہے۔ ایک ہاتھ میں نصف دیت ہے اور ایک پاؤں میں نصف دیت ہے۔“ امام ابوعبدالرحمن (نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ یہ روایت درست ہونے کے زیادہ قریب ہے۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ!» ”اور اللہ بہتر جانتا ہے!“ اور سلیمان بن ارقم متروک الحدیث ہے۔ اور یہی روایت یونس (بن یزید) نے امام زہری رحمہ اللہ سے مرسلاً بیان کی ہے جیسا کہ درج ذیل روایت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4858]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2850 (ضعیف) (سلیمان بن ارقم متروک الحدیث ہیں)»
وضاحت: ۱؎: اور یہی زیادہ صحیح ہے، ان کی روایت آگے آ رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (4857) سليمان بن أرقم ضعيف، (تقريب: 2532) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 358
حدیث نمبر: 4859
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَرَأْتُ كِتَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي كَتَبَ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ حِينَ بَعَثَهُ عَلَى نَجْرَانَ , وَكَانَ الْكِتَابُ عِنْدَ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا بَيَانٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ وَكَتَبَ الْآيَاتِ مِنْهَا حَتَّى بَلَغَ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ سورة المائدة آية 1 - 4" , ثُمَّ كَتَبَ:" هَذَا كِتَابُ الْجِرَاحِ , فِي النَّفْسِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ" , نَحْوَهُ.
محمد بن شہاب زہری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ کتاب پڑھی جو آپ نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے لیے لکھی جب انہیں نجران کا والی بنا کر بھیجا، کتاب ابوبکر بن حزم کے پاس تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا تھا: یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بیان ہے: «يا أيها الذين آمنوا أوفوا بالعقود» ”اے ایمان والو! عہد و پیماں پورے کرو“ (المائدہ: ۱) اور اس کے بعد کی آیات لکھیں یہاں تک کہ آپ «إن اللہ سريع الحساب» ”اللہ جلد حساب لینے والا ہے“ (المائدہ: ۴) تک پہنچے۔ پھر لکھا تھا: یہ زخموں کی کتاب ہے، ایک جان کی دیت سو اونٹ ہیں، پھر آگے اسی طرح ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4859]
حضرت ابن شہاب (زہری) رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ تحریر پڑھی ہے جو آپ نے حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو نجران کا حاکم بناتے وقت لکھ کر دی تھی۔ یہ تحریر حضرت ابوبکر بن حزم رحمہ اللہ کے پاس تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا تھا کہ ”یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے (احکام کا) بیان ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ﴾ [سورة المائدة: 1] ”اے ایمان والو! عہد پورے کرو۔“”پھر آپ نے چند آیات لکھیں، حتیٰ کہ یہاں تک پہنچے: ﴿إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴾ [سورة المائدة: 4] ”بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔“ پھر آپ نے تحریر فرمایا تھا کہ ”یہ زخموں وغیرہ (کی دیت) کے بارے میں ایک تحریر ہے، جان (ختم کر دینے کی صورت) میں دیت سو اونٹ ہوگی۔“ باقی روایت حسب سابق ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4859]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4850 (ضعیف) (یہ روایت مرسل ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4860
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: جَاءَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَزْمٍ بِكِتَابٍ فِي رُقْعَةٍ مِنْ أَدَمٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا بَيَانٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ سورة المائدة آية 1" , فَتَلَا مِنْهَا آيَاتٍ، ثُمَّ قَالَ:" فِي النَّفْسِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْعَيْنِ خَمْسُونَ، وَفِي الْيَدِ خَمْسُونَ، وَفِي الرِّجْلِ خَمْسُونَ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ فَرِيضَةً، وَفِي الْأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ، وَفِي الْأَسْنَانِ خَمْسٌ خَمْسٌ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ".
زہری کہتے ہیں کہ ابوبکر بن حزم میرے پاس ایک تحریر لے آئے جو چمڑے کے ایک ٹکڑے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لکھی ہوئی تھی: یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بیان ہے: اے ایمان والو! عہد و پیمان پورے کرو، پھر انہوں نے اس میں سے بعض آیات تلاوت کیں، پھر کہا: جان میں دیت سو اونٹ ہیں، آنکھ میں پچاس، ہاتھ میں پچاس، پیر میں پچاس، مغز تک پہنچنے والے زخم میں تہائی دیت، پیٹ کے اندر تک پہنچی چوٹ میں تہائی دیت اور ہڈی سرک جانے میں پندرہ اونٹنیاں ہیں۔ انگلیوں میں دس دس، دانتوں میں پانچ پانچ اور اس زخم میں جس میں ہڈی نظر آئے پانچ پانچ اونٹ ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4860]
حضرت زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میرے پاس حضرت ابوبکر بن حزم رحمہ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریر لے کر آئے جو چمڑے کے ٹکڑے پر لکھی ہوئی تھی کہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے (احکام کا) بیان ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ﴾ [سورة المائدة: 1] ”اے ایمان والو! عہد پورے کرو۔“ پھر اس کے بعد کئی آیتیں پڑھیں۔ پھر کہا: (پھر لکھا تھا) ”کسی جان کو ختم کر دینے کی صورت میں دیت سو اونٹ ہوگی۔ ایک ہاتھ میں پچاس اونٹ ہیں۔ ایک آنکھ میں (آنکھ کی دیت) پچاس اونٹ ہیں اور ایک پاؤں کی دیت بھی پچاس اونٹ ہیں۔ دماغ تک پہنچ جانے والے زخم میں تہائی دیت ہے۔ اور پیٹ کے اندر تک پہنچ جانے والے زخم کی دیت بھی ایک تہائی ہے۔ ہڈی کو توڑ دینے والے زخم میں پندرہ اونٹ دیت ہے۔ انگلیوں کی دیت دس دس اونٹ ہے۔ دانتوں کی دیت پانچ پانچ اونٹ ہے۔ اور ہڈی کو ننگا کرنے والے زخم میں پانچ اونٹ دیت ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4860]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4850 (ضعیف) (مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4861
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ: عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: الْكِتَابُ الَّذِي كَتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِي الْعُقُولِ:" إِنَّ فِي النَّفْسِ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْأَنْفِ إِذَا أُوعِيَ جَدْعًا مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ النَّفْسِ، وَفِي الْجَائِفَةِ مِثْلُهَا، وَفِي الْيَدِ خَمْسُونَ، وَفِي الْعَيْنِ خَمْسُونَ، وَفِي الرِّجْلِ خَمْسُونَ، وَفِي كُلِّ إِصْبَعٍ مِمَّا هُنَالِكَ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ".
محمد بن عمرو بن حزم کہتے ہیں کہ وہ تحریر جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے لیے دیتوں کے سلسلے میں لکھی، یہ تھی: جان میں سو اونٹ ہیں، ناک میں جب وہ جڑ سے کاٹ لی گئی ہو، سو اونٹ ہیں، مغز (گودے) تک پہنچنے والے زخم میں جان کی دیت کے اونٹوں کے تہائی ہیں۔ اسی قدر اس زخم میں ہیں جو پیٹ کے اندر تک پہنچ جائے، ہاتھ میں پچاس اونٹ ہیں۔ آنکھ میں پچاس اونٹ ہیں، پیر میں پچاس اونٹ ہیں، اور ہر ایک انگلی میں دس دس اونٹ ہیں۔ دانت میں پانچ اونٹ ہیں، اس زخم میں جس میں ہڈی کھل جائے پانچ اونٹ ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4861]
حضرت ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ تحریر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کے مسائل کے بارے میں حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو لکھ کر دی تھی (وہ یوں ہے کہ): ”جان (ختم کر دینے کی صورت) میں سو اونٹ دیت ہے۔ اور ناک میں، جب وہ جڑ سے کاٹ دی جائے، بھی سو اونٹ دیت ہے۔ اور دماغ تک پہنچ جانے والے زخم میں کل دیت کا ایک تہائی ہے۔ اور پیٹ کے اندر پہنچ جانے والے زخم میں بھی تہائی دیت ہی ہے۔ ایک ہاتھ میں پچاس اونٹ دیت ہے۔ اور ایک آنکھ میں بھی پچاس اونٹ ہیں اور ایک پاؤں میں بھی پچاس اونٹ ہیں۔ اور (ہاتھ پاؤں کی) ہر انگلی میں دس اونٹ دیت ہے۔ ہر دانت میں پانچ اونٹ ہیں اور ہڈی کو ننگا کر دینے والے زخم میں بھی پانچ اونٹ دیت ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4861]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4850 (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4862
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى بَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَلْقَمَ عَيْنَهُ خُصَاصَةَ الْبَابِ، فَبَصُرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَتَوَخَّاهُ بِحَدِيدَةٍ أَوْ عُودٍ لِيَفْقَأَ عَيْنَهُ، فَلَمَّا أَنْ بَصُرَ انْقَمَعَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا إِنَّكَ لَوْ ثَبَتَّ لَفَقَأْتُ عَيْنَكَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر آیا تو دراز میں آنکھ لگا کر جھانکنے لگا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ دیکھا تو لوہا یا لکڑی لے کر اس کی آنکھ پھوڑنے کا ارادہ کیا، جب اس کی نظر پڑی تو اس نے اپنی آنکھ ہٹا لی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اگر تم اپنی آنکھ یہیں رکھتے تو میں تمہاری آنکھ پھوڑ دیتا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4862]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس آیا اور اس نے اپنی آنکھ دروازے کے سوراخ پر لگا دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھ لیا اور آپ ایک تیز دھار والی چیز یا ایک (نوک دار) لکڑی لے کر اس کی طرف چلے تاکہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں۔ جب اس نے آپ کو (آتے) دیکھا تو آنکھ پیچھے ہٹا لی۔ (پیچھے ہٹ گیا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (غصے کے ساتھ) فرمایا: ”اگر تو اسی طرح کھڑا رہتا تو میں تیری آنکھ پھوڑ دیتا۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4862]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 222)، مسند احمد (3/191) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کے گھر کے اندر اس طرح جھانکنے والے کی آنکھ اگر گھر والا پھوڑ دے تو اس پر آنکھ پھوڑنے کی دیت واجب نہیں ہو گی۔ نیز دیکھئیے اگلی حدیث۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4863
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ جُحْرٍ فِي بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرَى يَحُكُّ بِهَا رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ تَنْظُرُنِي لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الْإِذْنُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ".
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک سوراخ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے میں جھانکا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک لکڑی تھی جس سے اپنا سر کھجا رہے تھے، جب آپ نے اسے دیکھا تو فرمایا: ”اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو مجھے دیکھ رہا ہے تو میں تیری آنکھ میں یہ لکڑی گھونپ دیتا، نگاہ ہی کے سبب اجازت کا حکم دیا گیا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4863]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے سوراخ سے جھانکنے لگا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک نوکدار لکڑی تھی جس سے آپ اپنے سر کو کھجلا رہے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا تو فرمایا: ”اگر مجھے علم ہوتا کہ تو مجھے دیکھ رہا ہے تو میں یہ لکڑی تیری آنکھ میں مار دیتا، اجازت لینے کا حکم تو اسی لیے دیا گیا ہے کہ نظر نہ پڑ سکے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4863]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 75 (5924)، الاستئذان 11 (6241)، الدیات 23 (6901)، صحیح مسلم/الأدب 9 (2156)، سنن الترمذی/الاستئذان 17 (2709)، (تحفة الأشراف: 4806)، مسند احمد (5/330، 334، 335) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه