🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. بَابُ: ذِكْرِ اخْتِلاَفِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں عمرہ سے روایت کرنے میں ابوبکر بن محمد اور عبداللہ بن ابی بکر کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4952
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَمُجَاهِدٍ , عَنْ أَيْمَنَ، قَالَ:" لَا يُقْطَعُ السَّارِقُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَمَنِ الْمِجَنِّ".
ایمن کہتے ہیں: ڈھال سے کم قیمت کی چیز میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4952]
حضرت ایمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم میں نہیں کاٹا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4952]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4946 (منکر)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4953
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ كَانَ، يَقُولُ:" ثَمَنُهُ يَوْمَئِذٍ عَشْرَةُ دَرَاهِمَ".
عطا بن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے: اس وقت اس (ڈھال) کی قیمت دس درہم تھی۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4953]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ڈھال کی قیمت ان دنوں دس درہم تھی۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4953]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5951) (شاذ) (سند حسن ہے مگر صحیح مرفوع احادیث کے مخالف ہے)»
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4954
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ:" كَانَ ثَمَنُ الْمِجَنِّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَوَّمُ عَشْرَةَ دَرَاهِمَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی جیسی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ڈھال کی قیمت دس درہم لگائی جاتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4954]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ڈھال کی قیمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مبارک میں دس درہم لگائی جاتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4954]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5885)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4955، 4956) (شاذ)»
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، محمد بن إسحاق بن يسار مدلس وعنعن. والحديث السابق (الأصل: 4953) وسنده حسن يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 359

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4955
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ إِسْحَاق، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءٍ مُرْسَلٌ.
اس سند سے عطاء سے مرسلاً روایت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4955]
یہ روایت حضرت عطاء رحمہ اللہ سے مرسل بھی آتی ہے (صحابی کے ذکر کے بغیر)۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4955]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (شاذ)»
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4956
أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ , عَنْ سُفْيَانَ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ، عَنْ الْعَرْزَمِيِّ وَهُوَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ , عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ:" أَدْنَى مَا يُقْطَعُ فِيهِ ثَمَنُ الْمِجَنِّ"، قَالَ:" وَثَمَنُ الْمِجَنِّ يَوْمَئِذٍ عَشْرَةُ دَرَاهِمَ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَأَيْمَنُ الَّذِي تَقَدَّمَ ذِكْرُنَا لِحَدِيثِهِ مَا أَحْسَبُ أَنَّ لَهُ صُحْبَةً، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ حَدِيثٌ آخَرُ يَدُلُّ عَلَى مَا قُلْنَاهُ.
عطاء کہتے ہیں: کم سے کم جس میں ہاتھ کاٹا جائے گا ڈھال کی قیمت ہے، اور ڈھال کی قیمت اس وقت دس درہم تھی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ایمن جن کی حدیث ہم نے اوپر ذکر کی ہے، میں نہیں سمجھتا کہ وہ صحابی تھے، ان سے ایک حدیث اور مروی ہے جو ہمارے خیال کی تائید کرتی ہے، (جو آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4956]
حضرت عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: کم از کم مقدار جس کی چوری میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے ڈھال کی قیمت ہے اور ڈھال کی قیمت ان دنوں دس درہم تھی۔ ابوعبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے فرمایا: وہ حضرت ایمن جن کی حدیث ہم اس سے پہلے (اس باب میں) ذکر کر چکے ہیں میرے خیال کے مطابق وہ صحابی نہیں، ان سے ایک اور حدیث مروی ہے جو ہماری بات کی دلیل ہے (اور وہ حدیث یہ ہے، یعنی ۴۹۵۷)۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4956]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (منکر) (یہ اثر مرفوع حدیث کے مخالف ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف مقطوع مخالف للمرفوع
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4957
حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ. ح وَأَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْحَاق هُوَ الْأَزْرَقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِهِ عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَيْمَنَ مَوْلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ، وَقَالَ خَالِدٌ فِي حَدِيثِهِ: مَوْلَى الزُّبَيْرِ، عَنْ تُبَيْعٍ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ صَلَّى، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، فَأَتَمَّ، وَقَالَ سَوَّارٌ: يُتِمُّ رُكُوعَهُنَّ وَسُجُودَهُنَّ وَيَعْلَمُ مَا يَقْتَرِئُ، وَقَالَ سَوَّارٌ: يَقْرَأُ فِيهِنَّ كُنَّ لَهُ بِمَنْزِلَةِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ".
کعب الاحبار کہتے ہیں کہ جس نے وضو کیا اور خوب اچھی طرح وضو کیا پھر نماز ادا کی، (عبدالرحمٰن کی روایت میں ہے، پھر نماز عشاء کی جماعت میں شریک ہوا)، پھر اس کے بعد چار رکعتیں رکوع اور سجدہ کے اتمام کے ساتھ اور پڑھیں، اور جو کچھ قرأت کیا اسے سمجھا بھی تو یہ سب اس کے لیے شب قدر کے مثل باعث اجر ہوں گی۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4957]
حضرت عطاء رحمہ اللہ نے حضرت ایمن رحمہ اللہ مولیٰ ابن زبیر رضی اللہ عنہما یا مولیٰ زبیر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، وہ روایت کرتے ہیں حضرت تبیع رحمہ اللہ سے اور وہ بیان کرتے ہیں حضرت کعب رحمہ اللہ سے، انہوں نے فرمایا: جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر عشاء کی نماز (باجماعت) پڑھے، پھر اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے، ان میں رکوع سجدہ پورا پورا کرے اور جو کچھ پڑھے، سوچ سمجھ کر پڑھے، تو یہ چار رکعتیں اس کے لیے (ثواب کے لحاظ سے) لیلة القدر کی طرح بن جائیں گی۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4957]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1749، 19241) (ضعیف) (اس کے راوی ’’ایمن‘‘ مجہول ہیں)»
قال الشيخ الألباني: مقطوع موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4958
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَيْمَنَ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، عَنْ تُبَيْعٍ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ شَهِدَ صَلَاةَ الْعَتَمَةِ فِي جَمَاعَةٍ، ثُمَّ صَلَّى إِلَيْهَا أَرْبَعًا مِثْلَهَا يَقْرَأُ فِيهَا وَيُتِمُّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ".
کعب الاحبار کہتے ہیں کہ جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا پھر عشاء جماعت کے ساتھ پڑھی، پھر اسی جیسی چار رکعتیں قرأت اور رکوع، سجدہ کے اتمام کے ساتھ پڑھیں، تو اسے شب قدر جیسا اجر ملے گا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4958]
حضرت ایمن مولیٰ ابن عمر رضی اللہ عنہما، حضرت تبیع رحمہ اللہ سے اور وہ حضرت کعب رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر عشاء کی نماز باجماعت پڑھے، پھر بعد میں اس جیسی چار رکعتیں اور پڑھے، ان میں (توجہ کے ساتھ) قراءت کرے اور رکوع اور سجدے مکمل کرے، اسے لیلۃ القدر کی عبادت کے برابر ثواب ملے گا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4958]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: مقطوع موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4959
أَخْبَرَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:" كَانَ ثَمَنُ الْمِجَنِّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَةَ دَرَاهِمَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ڈھال کی قیمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دس درہم تھی۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4959]
حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) بیان کرتے ہیں کہ ڈھال کی قیمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں دس درہم تھی۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4959]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8791) (شاذ) (سند حسن ہے، مگر صحیح احادیث کے خلاف ہے)»
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: حسن وللحديث شاهد تقدم (4953، 4954)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں