🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. بَابُ: الثَّمَرِ يُسْرَقُ بَعْدَ أَنْ يُئْوِيَهُ الْجَرِينُ
باب: کھلیان سے پھل کی چوری کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4961
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ، فَقَالَ:" مَا أَصَابَ مِنْ ذِي حَاجَةٍ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ وَمَنْ خَرَجَ بِشَيْءٍ مِنْهُ فَعَلَيْهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَالْعُقُوبَةُ وَمَنْ سَرَقَ شَيْئًا مِنْهُ بَعْدَ أَنْ يُؤْوِيَهُ الْجَرِينُ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَعَلَيْهِ الْقَطْعُ، وَمَنْ سَرَقَ دُونَ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَالْعُقُوبَةُ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخت پر لٹکے ہوئے پھلوں کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: جس ضرورت مند نے اسے کھا لیا اور جمع کر کے نہیں رکھا تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو اس میں سے کچھ لے جائے تو اس پر اس کا دوگنا تاوان اور سزا ہے، اور جو اسے کھلیان میں جمع کیے جانے کے بعد چرائے اور وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ رہا ہو تو پھر اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4961]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخت پر لگے ہوئے پھل کو توڑنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اگر کوئی حاجت مند پھل توڑ کر کھا لے، ساتھ نہ لے جائے تو اسے کچھ نہیں کہا جائے گا۔ اور اگر وہ پھل ساتھ بھی لے جائے تو اس سے دگنی قیمت وصول کی جائے گی اور سزا بھی دی جائے گی۔ اور اگر کھلیان میں رکھنے کے بعد کسی شخص نے کوئی پھل اٹھا لیا اور اس کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر یا زائد ہو تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ اور اگر ڈھال کی قیمت سے کم چرایا تو اس سے دگنی قیمت لے لی جائے گی اور اسے سزا بھی ملے گی۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4961]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللقطة 1 (1710)، الحدود 12 (4390)، سنن الترمذی/البیوع 54 (1289)، (تحفة الأشراف: 8798) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4962
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ: عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَيْفَ تَرَى فِي حَرِيسَةِ الْجَبَلِ؟ فَقَالَ:" هِيَ , وَمِثْلُهَا وَالنَّكَالُ وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمَاشِيَةِ قَطْعٌ إِلَّا فِيمَا آوَاهُ الْمُرَاحُ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ , فَفِيهِ قَطْعُ الْيَدِ، وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَيْفَ تَرَى فِي الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ؟ قَالَ:" هُوَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَالنَّكَالُ وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ قَطْعٌ إِلَّا فِيمَا آوَاهُ الْجَرِينُ , فَمَا أُخِذَ مِنَ الْجَرِينِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ، فَفِيهِ الْقَطْعُ , وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ، وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مزینہ کے ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! پہاڑ پر چرنے والے جانوروں کے (چوری ہونے کے) بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: (اگر کوئی ایسا جانور چوری کرے) تو اسے وہ جانور اور اس کے مثل ایک اور جانور دینا ہو گا اور سزا الگ ہو گی، لیکن چرنے والے جانوروں میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا سوائے اس صورت میں کہ جانور اپنے رہنے کی جگہ میں لوٹ آئے اور اس کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اور جس کی قیمت ڈھال کی قیمت کو نہ پہنچی ہو تو اس میں دوگنا تاوان ہو گا اور سزا کے کوڑے الگ ہوں گے۔ وہ بولا: اللہ کے رسول! درخت میں لگے پھلوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: (اس کی چوری کرنے پر) وہ پھل اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور پھل دینا ہو گا اور سزا الگ ہو گی۔ لیکن درخت پر لگے پھلوں میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا سوائے اس صورت میں کہ وہ کھلیان تک لایا جا چکا ہو۔ لہٰذا جو کچھ وہ کھلیان سے لے اور اس کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا اور جس کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر نہ ہو تو اس میں دوگنا تاوان ہو گا اور سزا کے کوڑے الگ ہوں گے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4962]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مزینہ قبیلے کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! پہاڑ پر چرنے والی بکری (یا کسی اور جانور) کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: دگنی قیمت اور جسمانی سزا۔ جانور کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، الا یہ کہ وہ جانور باڑے میں ہو اور اس کی قیمت ڈھال کے برابر یا اس سے زائد ہو تو پھر اس کی چوری پر ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اور اگر اس کی قیمت اس سے کم ہو تو دگنی قیمت لی جائے گی اور بطور سزا کوڑے لگائے جائیں گے۔ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! درخت پر لگے ہوئے پھل کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: اس میں بھی دگنی قیمت اور جسمانی سزا۔ درخت پر لگے ہوئے پھل کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ البتہ اگر پھل کھلیان میں لگا دیا جائے، اس کے بعد چوری ہو اور اس کی قیمت ڈھال کے برابر یا زائد ہو تو ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اگر پھل ڈھال کی قیمت سے کم ہو تو چور سے دگنی قیمت لی جائے گی اور جسمانی سزا کے طور پر کوڑے بھی لگائے جائیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4962]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8768، 8810) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: اس لیے کہ درخت کی کھجوریں اور گابے حرز میں نہیں ہوتے۔
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں