سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب : الثمر يسرق بعد أن يئويه الجرين
باب: کھلیان سے پھل کی چوری کا بیان۔
حدیث نمبر: 4962
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ: عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَيْفَ تَرَى فِي حَرِيسَةِ الْجَبَلِ؟ فَقَالَ:" هِيَ , وَمِثْلُهَا وَالنَّكَالُ وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمَاشِيَةِ قَطْعٌ إِلَّا فِيمَا آوَاهُ الْمُرَاحُ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ , فَفِيهِ قَطْعُ الْيَدِ، وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَيْفَ تَرَى فِي الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ؟ قَالَ:" هُوَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَالنَّكَالُ وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ قَطْعٌ إِلَّا فِيمَا آوَاهُ الْجَرِينُ , فَمَا أُخِذَ مِنَ الْجَرِينِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ، فَفِيهِ الْقَطْعُ , وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ، وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مزینہ کے ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! پہاڑ پر چرنے والے جانوروں کے (چوری ہونے کے) بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: (اگر کوئی ایسا جانور چوری کرے) تو اسے وہ جانور اور اس کے مثل ایک اور جانور دینا ہو گا اور سزا الگ ہو گی، لیکن چرنے والے جانوروں میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا سوائے اس صورت میں کہ جانور اپنے رہنے کی جگہ میں لوٹ آئے اور اس کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اور جس کی قیمت ڈھال کی قیمت کو نہ پہنچی ہو تو اس میں دوگنا تاوان ہو گا اور سزا کے کوڑے الگ ہوں گے۔ وہ بولا: اللہ کے رسول! درخت میں لگے پھلوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: (اس کی چوری کرنے پر) وہ پھل اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور پھل دینا ہو گا اور سزا الگ ہو گی۔ لیکن درخت پر لگے پھلوں میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا سوائے اس صورت میں کہ وہ کھلیان تک لایا جا چکا ہو۔ لہٰذا جو کچھ وہ کھلیان سے لے اور اس کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا اور جس کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر نہ ہو تو اس میں دوگنا تاوان ہو گا اور سزا کے کوڑے الگ ہوں گے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4962]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مزینہ قبیلے کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! پہاڑ پر چرنے والی بکری (یا کسی اور جانور) کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: ”دگنی قیمت اور جسمانی سزا۔ جانور کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، الا یہ کہ وہ جانور باڑے میں ہو اور اس کی قیمت ڈھال کے برابر یا اس سے زائد ہو تو پھر اس کی چوری پر ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اور اگر اس کی قیمت اس سے کم ہو تو دگنی قیمت لی جائے گی اور بطور سزا کوڑے لگائے جائیں گے۔“ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! درخت پر لگے ہوئے پھل کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس میں بھی دگنی قیمت اور جسمانی سزا۔ درخت پر لگے ہوئے پھل کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ البتہ اگر پھل کھلیان میں لگا دیا جائے، اس کے بعد چوری ہو اور اس کی قیمت ڈھال کے برابر یا زائد ہو تو ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اگر پھل ڈھال کی قیمت سے کم ہو تو چور سے دگنی قیمت لی جائے گی اور جسمانی سزا کے طور پر کوڑے بھی لگائے جائیں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4962]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8768، 8810) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: اس لیے کہ درخت کی کھجوریں اور گابے ”حرز“ میں نہیں ہوتے۔
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4962 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4962
اردو حاشہ:
معلوم ہوا کہ چوری بہرصورت جرم ہے۔ اتنی بات ہے کہ اگر معمولی ہو تو ہاتھ نہ کٹے گا مگر مالی اور جسمانی سزا نافذ ہو گی۔ اور اگر نصاب کو پہنچ جائے تو ہاتھ کاٹ دیا جائے گا بشرطیکہ چیز محفوظ ہو۔ غیر محفوظ چیز کی صورت میں بھی مالی اور جسمانی سزا ہوگی، البتہ محتاج آدمی مستثنیٰ ہے جیسا کہ سابقہ حدیث میں صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔
معلوم ہوا کہ چوری بہرصورت جرم ہے۔ اتنی بات ہے کہ اگر معمولی ہو تو ہاتھ نہ کٹے گا مگر مالی اور جسمانی سزا نافذ ہو گی۔ اور اگر نصاب کو پہنچ جائے تو ہاتھ کاٹ دیا جائے گا بشرطیکہ چیز محفوظ ہو۔ غیر محفوظ چیز کی صورت میں بھی مالی اور جسمانی سزا ہوگی، البتہ محتاج آدمی مستثنیٰ ہے جیسا کہ سابقہ حدیث میں صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4962]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4962 in Urdu
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي