🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. بَابُ: النَّهْىِ عَنِ الْقَزَعِ
باب: قزع یعنی کچھ بال رکھنا اور کچھ منڈانا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5053
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" نَهَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، عَنِ الْقَزَعِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ نے «قزع» (سر کے کچھ بال منڈانے اور کچھ رکھ چھوڑنے) سے منع کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5053]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے مجھے قزع سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5053]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس72(5921)، صحیح مسلم/اللباس31(2120)، سنن ابی داود/الترجل14(4193)، سنن ابن ماجہ/اللباس38(3637)، مسند احمد (2/4، 39، 55، 67، 83، 101، 106، 118، 137، 143، 154)، ویأتي عند المؤلف بأرقام5230- 5233 (منکر) (اس کے راوی ’’عبدالرحمن‘‘ حافظہ کے کمزور ہیں، لیکن اس کے بعد کی حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5054
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَزَعِ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ أَوْلَى بِالصَّوَابِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» (سر کے کچھ بال منڈانے اور کچھ رکھ چھوڑنے) سے منع فرمایا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید اور محمد بن بشر کی حدیث زیادہ قرین صواب ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5054]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْقَزَعِ» قزع سے منع فرمایا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے کہا کہ یحییٰ بن سعید (القطان) اور محمد بن بشر کی روایت (اس مذکورہ روایت سے) زیادہ درست اور صحیح ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5054]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7901) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یحییٰ بن سعید اور محمد بن بشر کی حدیث باب «ذکر النہی عن أن یحلق بعض شعر الصبي و یترک بعضہ» کے ضمن میں نمبر ۵۲۳۲، ۵۲۳۳ کے تحت ذکر ہے۔ ان دونوں حدیثوں میں عبیداللہ اور نافع کے درمیان عمر بن نافع کا ذکر ہے، جب کہ سفیان کی اس روایت میں ایسا نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں