سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
95. بَابُ: ذِكْرِ النَّهْىِ عَنْ لُبْسِ الْمُعَصْفَر
باب: زرد رنگ کا کپڑا پہننا منع ہے۔
حدیث نمبر: 5318
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , أَنَّ خَالِدَ بْنَ مَعْدَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، أخبَرهُ: أَنَّهُ رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُعَصْفَرَانِ، فَقَالَ:" هَذِهِ ثِيَابُ الْكُفَّارِ , فَلَا تَلْبَسْهَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا، وہ دو کپڑے زرد رنگ کے پہنے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا: ”یہ کفار کا لباس ہے، اسے مت پہنو“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5318]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں معصفر کپڑے پہنے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”یہ تو کافروں کا لباس ہے۔ تو نہ پہن۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5318]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس4(2077)، (تحفة الأشراف: 8613)، مسند احمد (2/162، 164، 193، 207، 211) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 5319
أَخْبَرَنِي حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُعَصْفَرَانِ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" اذْهَبْ فَاطْرَحْهُمَا عَنْكَ"، قَالَ: أَيْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" فِي النَّارِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وہ پیلے رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے تھے، یہ دیکھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہوئے اور فرمایا: ”جاؤ اور اسے اپنے جسم سے اتار دو“۔ وہ بولے: کہاں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”آگ میں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5319]
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ انہوں نے معصفر کپڑے پہن رکھے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (دیکھ کر) ناراض ہوئے اور فرمایا: ”جا ان کو اتار پھینک۔“ انہوں نے عرض کی: کہاں پھینکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ میں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5319]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 4 (2077)، (تحفة الأشراف: 8830) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چنانچہ انہوں نے اسے گھر کے تنور میں ڈال دیا، صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ میں ڈال دینے کا حکم دیا، ایسا صرف زجر و توبیخ کے لیے تھا، ورنہ اس نوع کا کپڑا عورتوں کے لیے جائز ہے، نیز بیچ کر کے قیمت کا استعمال بھی جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 5320
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا، يَقُولُ:" نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ لُبُوسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ، وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَأَنَا رَاكِعٌ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی سے، ریشمی کپڑوں سے، زعفرانی رنگ کے لباس سے، اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5320]
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ”سونے کی انگوٹھی، «القَسِّيِّ» ”قسی“ اور «المُعَصْفَرِ» ”معصفر“ کپڑے پہننے اور دوران رکوع (اور سجود) قرآن مجید پڑھنے“ سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5320]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1044 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن