🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. بَابُ: تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ}
باب: آیت کریمہ: ”جس نے اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کیا وہ کافر ہیں“ کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5402
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كَانَتْ مُلُوكٌ بَعْدَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ بَدَّلُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ، , وَكَانَ فِيهِمْ مُؤْمِنُونَ يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ، قِيلَ لِمُلُوكِهِمْ: مَا نَجِدُ شَتْمًا أَشَدَّ مِنْ شَتْمٍ يَشْتِمُونَّا هَؤُلَاءِ , إِنَّهُمْ يَقْرَءُونَ: وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ سورة المائدة آية 44 , وَهَؤُلَاءِ الْآيَاتِ مَعَ مَا يَعِيبُونَّا بِهِ فِي أَعْمَالِنَا فِي قِرَاءَتِهِمْ , فَادْعُهُمْ فَلْيَقْرَءُوا كَمَا نَقْرَأُ، وَلْيُؤْمِنُوا كَمَا آمَنَّا، فَدَعَاهُمْ فَجَمَعَهُمْ وَعَرَضَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلَ , أَوْ يَتْرُكُوا قِرَاءَةَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ إِلَّا مَا بَدَّلُوا مِنْهَا , فَقَالُوا: مَا تُرِيدُونَ إِلَى ذَلِكَ دَعُونَا، فَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ: ابْنُوا لَنَا أُسْطُوَانَةً، ثُمَّ ارْفَعُونَا إِلَيْهَا، ثُمَّ اعْطُونَا شَيْئًا نَرْفَعُ بِهِ طَعَامَنَا وَشَرَابَنَا فَلَا نَرِدُ عَلَيْكُمْ، وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ: دَعُونَا نَسِيحُ فِي الْأَرْضِ وَنَهِيمُ وَنَشْرَبُ كَمَا يَشْرَبُ الْوَحْشُ فَإِنْ قَدَرْتُمْ عَلَيْنَا فِي أَرْضِكُمْ فَاقْتُلُونَا، وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ: ابْنُوا لَنَا دُورًا فِي الْفَيَافِي وَنَحْتَفِرُ الْآبَارَ، وَنَحْتَرِثُ الْبُقُولَ فَلَا نَرِدُ عَلَيْكُمْ وَلَا نَمُرُّ بِكُمْ، وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْقَبَائِلِ إِلَّا وَلَهُ حَمِيمٌ فِيهِمْ , قَالَ: فَفَعَلُوا ذَلِكَ , فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا سورة الحديد آية 27، وَالْآخَرُونَ قَالُوا: نَتَعَبَّدُ كَمَا تَعَبَّدَ فُلَانٌ، وَنَسِيحُ كَمَا سَاحَ فُلَانٌ، وَنَتَّخِذُ دُورًا كَمَا اتَّخَذَ فُلَانٌ، وَهُمْ عَلَى شِرْكِهِمْ لَا عِلْمَ لَهُمْ بِإِيمَانِ الَّذِينَ اقْتَدَوْا بِهِ، فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ، انْحَطَّ رَجُلٌ مِنْ صَوْمَعَتِهِ، وَجَاءَ سَائِحٌ مِنْ سِيَاحَتِهِ، وَصَاحِبُ الدَّيْرِ مِنْ دَيْرِهِ، فَآمَنُوا بِهِ , وَصَدَّقُوهُ , فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ سورة الحديد آية 28 , أَجْرَيْنِ بِإِيمَانِهِمْ بِعِيسَى , وَبِالتَّوْرَاةِ , وَالْإِنْجِيلِ , وَبِإِيمَانِهِمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَتَصْدِيقِهِمْ قَالَ: وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ سورة الحديد آية 28 الْقُرْآنَ , وَاتِّبَاعَهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ سورة الحديد آية 29 يَتَشَبَّهُونَ بِكُمْ أَلا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ سورة الحديد آية 29 الْآيَةَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بعد کئی بادشاہ ہوئے جن ہوں نے تورات اور انجیل کو بدل ڈالا، ان میں کچھ مومن تھے جو توراۃ پڑھتے تھے، ان کے بادشاہوں سے عرض کیا گیا: ہمیں اس سے زیادہ سخت گالی نہیں ملتی جو یہ ہمیں دیتے ہیں، یہ لوگ پڑھتے ہیں جس نے اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کیا وہ کافر ہیں یہ لوگ اس قسم کی آیات پڑھتے ہیں ور ساتھ ہی وہ چیزیں پڑھتے ہیں جس میں ہمارا عیب نکلتا ہے تو انہیں بلا کر کہو کہ وہ بھی ویسے ہی پڑھیں جیسے ہم پڑھتے ہیں اور اسی طرح کا ایمان لائیں جیسا ہم لائے ہیں، چنانچہ اس (بادشاہ) نے انہیں بلایا اور اکٹھا کیا اور کہا: قتل منظور کرو یا پھر توراۃ اور انجیل کو پڑھنا چھوڑ دو، البتہ وہ پڑھو جو بدل دیا گیا ہے۔ وہ بولے: تمہارا اس سے کیا مقصد ہے؟ ہمیں چھوڑ دو۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا: ہمارے لیے ایک مینار بنا دو اور ہمیں اس پر چڑھا دو پھر ہمیں کھانے پینے کی کچھ چیزیں دے دو، تو ہم تمہارے پاس کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا: ہمیں چھوڑ دو، ہم زمین میں گھومیں ور بھٹکتے پھریں اور جنگلی جانوروں کی طرح پئیں، پھر اگر تم ہمیں اپنی زمین میں دیکھ لو تو مار ڈالنا، ان میں سے بعض لوگوں نے کہا: ہمارے لیے صحراء و بیابان میں گھر بنا دو، ہم خود کنویں کھود لیں گے اور سبزیاں بولیں گے، پھر پلٹ کر تمہارے پاس نہ آئیں گے اور نہ تمہارے پاس سے گزریں گے، اور کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جس کا دوست یا رشتہ دار اس میں نہ ہو۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، تو اللہ تعالیٰ نے آیت: «ورهبانية ابتدعوها ما كتبناها عليهم إلا ابتغاء رضوان اللہ فما رعوها حق رعايتها» اور جو درویشی انہوں نے خود نکالی تھی ہم نے انہیں اس کا حکم نہیں دیا تھا سوائے اللہ کی رضا جوئی کے، پھر انہوں نے اس کی بھی پوری رعایت نہیں کی (الحدید: ۲۷) نازل فرمائی، کچھ دوسرے لوگوں نے کہا: ہم بھی فلاں کی طرح عبادت کریں گے اور فلاں کی طرح گھومیں گے اور فلاں کی طرح گھر بنائیں گے حالانکہ وہ شرک میں مبتلا تھے، یہ ان لوگوں کے ایمان سے باخبر نہ تھے جن کی پیروی کا یہ دم بھر رہے تھے، پھر جب اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا تو ان میں سے بہت تھوڑے سے لوگ بچے تھے، ایک شخص اپنے عبادت خانے سے اترا اور جنگل میں گھومنے والا گھوم کر لوٹا اور گرجا گھر میں رہنے والا گرجا گھر سے لوٹا اور یہ سب کے سب آپ پر ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی، تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: «يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ وآمنوا برسوله يؤتكم كفلين من رحمته» اے لوگو! جو ایمان رکھتے ہو، اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت کا دوگنا حصہ دے گا (الحدید: ۲۹) دوہرا اجر ان کے عیسیٰ، تورات اور انجیل پر ایمان کے بدلے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان اور تصدیق کے بدلے، پھر فرمایا: وہ تمہارے چلنے کے لیے ایک روشنی دے گا یعنی قرآن اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی تاکہ اہل کتاب یعنی وہ اہل کتاب جو تمہاری مشابہت کرتے ہیں جان لیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5402]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے بعد کچھ ایسے بادشاہ ہوئے جنہوں نے تورات و انجیل کو بدل دیا اور ان میں سے کچھ ایمان پر قائم رہے، وہ (اصل) تورات پڑھتے تھے۔ ان بادشاہوں سے کہا گیا: ہم کوئی گالی اس گالی سے سخت نہیں پاتے جو یہ ہمیں دیتے ہیں کیونکہ یہ پڑھتے ہیں: ﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ [سورة المائدة: 44] جو شخص اللہ تعالیٰ کے اتارے ہوئے احکام کے مطابق فیصلہ نہ کرے، وہ کافر ہے۔ اور اس قسم کی دوسری آیات، نیز وہ اپنی قرأت میں ہم پر عملی عیب بھی لگاتے ہیں۔ ان کو بلائیں اور انہیں کہیں کہ جس طرح ہم پڑھتے ہیں، وہ بھی اسی طرح پڑھیں اور وہ بھی اسی طرح ایمان لائیں جس طرح ہمارا ایمان ہے۔ بادشاہ نے ان کو بلایا اور ان کو قتل کی دھمکی دی «إِلَّا» بجز یہ کہ وہ تورات و انجیل کی صحیح قرأت چھوڑ کر ان کی طرح تبدیل شدہ قرأت کریں۔ ان (مومن) لوگوں نے کہا: تمہیں اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ تم ہمیں چھوڑ دو۔ ان میں سے ایک گروہ نے کہا: تم ہمارے لیے کوئی بلند عمارت بنا دو، پھر ہمیں اس پر چڑھا دو، ہمیں کوئی ایسی چیز دو کہ ہم اپنا کھانا پینا اوپر لے جا سکیں، ہم تمہارے پاس نہیں آئیں گے۔ ایک گروہ نے کہا: ہمیں چھوڑو، ہم زمین میں گھومتے پھریں گے اور بلا وجہ چکر لگاتے رہیں گے، اگر تم ہمیں اپنے علاقے میں پکڑ لو تو بے شک ہمیں قتل کر دینا۔ ایک اور گروہ نے کہا: ہمارے لیے صحراؤں میں گھر بنا دو، ہم کنویں کھود لیں گے اور سبزیاں کاشت کریں گے، نہ ہم تمہارے پاس آئیں گے، نہ تمہارے قریب سے گزریں گے۔ ان قبائل میں سے کوئی قبیلہ بھی ایسا نہ تھا جس کا کوئی دوست اور رشتے دار ان (مومن) لوگوں میں نہ ہو، اس لیے انہوں نے یہ باتیں مان لیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا﴾ [سورة الحديد: 27] اور رہبانیت انہوں نے خود ایجاد کرلی، ہم نے اسے ان پر فرض نہیں کیا تھا، مگر اللہ کی خوشنودی کی طلب میں انہوں نے آپ ہی یہ بدعت نکالی اور پھر اس کی پابندی کرنے کا جو حق تھا اسے ادا نہ کیا۔ اور کچھ دوسرے لوگ بھی کہنے لگے کہ ہم تو اس طرح عبادت کریں گے جیسے کہ فلاں (اونچی عمارتوں والے) کرتے ہیں اور ہم بھی اسی طرح گھومتے پھریں گے جیسے یہ گھومتے پھرتے ہیں، اور ہم بھی آبادیوں سے دور جھونپڑیاں بنا لیں گے جس طرح انہوں نے بنائی ہیں، حالانکہ یہ لوگ مشرک تھے اور ان کو ان لوگوں کے ایمان کا کوئی علم نہ تھا جن کی اقتدا کا وہ دم بھرتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور ان میں سے بھی چند لوگ ہی رہ گئے تو مناروں والے (راہب لوگ) اپنے مناروں سے اتر آئے اور گھومنے پھرنے والے بھی واپس آ گئے اور جھونپڑیوں والے اپنی جھونپڑیوں سے لوٹ آئے۔ اور یہ سب لوگ آپ پر ایمان لے آئے اور آپ کی تصدیق کی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ﴾ [سورة الحديد: 28] اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی رحمت سے دوہرا اجر عطا فرمائے گا۔ ایک اجر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور تورات و انجیل پر ایمان لانے کا اور دوسرا اجر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان و تصدیق کا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ﴾ [سورة الحديد: 28] اور اللہ تعالیٰ تمہیں نور عطا فرمائے گا جس کی روشنی میں تم (راہ حق پر چلو گے)۔ اس نور سے مراد قرآن مجید اور نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا: ﴿لِئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَلَّا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ﴾ [سورة الحديد: 29] تاکہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) جان لیں، یعنی تمہاری مشابہت اختیار کریں (تمہاری طرح ایمان لے آئیں) کہ وہ بذات خود اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی فضل حاصل نہیں کر سکتے «إِلَخْ» [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5402]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5575) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 363

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں