🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. بَابُ كَمِ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے ہیں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1775
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا جَالِسٌ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ،" وَإِذَا نَاسٌ يُصَلُّونَ فِي الْمَسْجِدِ صَلَاةَ الضُّحَى، قَالَ: فَسَأَلْنَاهُ عَنْ صَلَاتِهِمْ، فَقَالَ: بِدْعَةٌ، ثُمّ قَالَ لَهُ: كَمْ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَرْبَعًا، إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ، فَكَرِهْنَا أَنْ نَرُدَّ عَلَيْهِ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے مجاہد نے بیان کیا کہ میں اور عروہ بن زبیر مسجد نبوی میں داخل ہوئے، وہاں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، کچھ لوگ مسجد نبوی میں اشراق کی نماز پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے عبداللہ بن عمر سے ان لوگوں کی اس نماز کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ بدعت ہے، پھر ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے تھے؟ انہوں نے کہا کہ چار، ایک ان میں سے رجب میں کیا تھا، لیکن ہم نے پسند نہیں کیا کہ ان کی اس بات کی تردید کریں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعُمْرَةِ/حدیث: 1775]
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اور عروہ بن زبیر رحمہ اللہ مسجد نبوی میں گئے تو دیکھا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس بیٹھے تھے اور لوگ مسجد میں چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے ان لوگوں کی اس نماز کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ بدعت ہے، پھر ان سے عرض کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کیے تھے؟ انہوں نے فرمایا: چار، ان میں سے ایک عمرہ رجب میں کیا تھا، چنانچہ ہم نے ان کی تردید کرنا مناسب خیال نہ کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعُمْرَةِ/حدیث: 1775]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1776
قَالَ: وَسَمِعْنَا اسْتِنَانَ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْحُجْرَةِ، فَقَالَ عُرْوَةُ: يَا أُمَّاهُ، يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَلَا تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ , قَالَتْ: مَا يَقُولُ؟ قَالَ: يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرَاتٍ إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ، قَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا اعْتَمَرَ عُمْرَةً إِلَّا وَهُوَ شَاهِدُهُ، وَمَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَطُّ".
مجاہد نے بیان کیا کہ ہم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ سے ان کے مسواک کرنے کی آواز سنی تو عروہ نے پوچھا اے میری ماں! اے ام المؤمنین! ابوعبدالرحمٰن کی بات آپ سن رہی ہیں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے تھے جن میں سے ایک رجب میں کیا تھا، انہوں نے فرمایا کہ اللہ ابوعبدالرحمٰن پر رحم کرے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو کوئی عمرہ ایسا نہیں کیا جس میں وہ خود موجود نہ رہے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں تو کبھی عمرہ ہی نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعُمْرَةِ/حدیث: 1776]
ہم نے حجرے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مسواک کرنے کی آواز سنی تو عروہ رحمہ اللہ نے کہا: اماں جان! کیا آپ نے ابوعبدالرحمن رضی اللہ عنہما کی بات سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ کیا کہتے ہیں؟ عروہ رحمہ اللہ گویا ہوئے: وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے ہیں اور ان میں سے ایک رجب میں تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: «يَرْحَمُ اللّٰهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ» اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن رضی اللہ عنہما پر رحم کرے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی عمرہ نہیں کیا جس میں وہ موجود نہ ہوں (پھر وہ بھول گئے) رجب میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی عمرہ بھی ادا نہیں فرمایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعُمْرَةِ/حدیث: 1776]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1777
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ".
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عطاء بن ابی رباح نے خبر دی، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعُمْرَةِ/حدیث: 1777]
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعُمْرَةِ/حدیث: 1777]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1778
حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ حَسَّانٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، سَأَلْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" كَمْ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَرْبَعٌ عُمْرَةُ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ حَيْثُ صَدَّهُ الْمُشْرِكُونَ، وَعُمْرَةٌ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ حَيْثُ صَالَحَهُمْ، وَعُمْرَةُ الْجِعِرَّانَةِ إِذْ قَسَمَ غَنِيمَةَ أُرَاهُ حُنَيْنٍ، قُلْتُ: كَمْ حَجَّ؟ قَالَ: وَاحِدَةً".
ہم سے حسان بن حسان نے بیان کیا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے تھے؟ تو آپ نے فرمایا کہ چار، عمرہ حدیبیہ ذی قعدہ میں جہاں پر مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک دیا تھا، پھر آئندہ سال ذی قعدہ ہی میں ایک عمرہ قضاء جس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین سے صلح کی تھی اور تیسرا عمرہ جعرانہ جس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غالباً حنین کی غنیمت تقسیم کی تھی، چوتھا حج کے ساتھ میں نے پوچھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کتنے کئے؟ فرمایا کہ ایک۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعُمْرَةِ/حدیث: 1778]
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کیے تھے؟ انہوں نے فرمایا: چار۔ ایک عمرہ حدیبیہ جو ذوالقعدہ کے مہینے میں کیا جبکہ مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس کر دیا تھا۔ دوسرا عمرہ آئندہ سال ذوالقعدہ میں کیا جبکہ مشرکین سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کا معاہدہ فرمایا۔ تیسرا عمرہ جعرانہ جب مالِ غنیمت تقسیم کیا۔ میرا خیال ہے کہ وہ مالِ غنیمت غزوہ حنین کا تھا۔ میں نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے حج کیے تھے؟ انہوں نے فرمایا: صرف ایک حج کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعُمْرَةِ/حدیث: 1778]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1779
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ" اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ رَدُّوهُ، وَمِنَ الْقَابِلِ عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَعُمْرَةً فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ".
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرہ کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عمرہ وہاں کیا جہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین نے واپس کر دیا تھا اور دوسرے سال (اسی) عمرہ حدیبیہ (کی قضاء) کی تھی اور ایک عمرہ ذی قعدہ میں اور ایک اپنے حج کے ساتھ کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعُمْرَةِ/حدیث: 1779]
حضرت قتادہ رحمہ اللہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت عمرہ کیا جب مشرکین نے آپ کو بیت اللہ جانے سے روک دیا تھا، پھر آئندہ سال عمرہ حدیبیہ، تیسرا ذوالقعدہ میں اور چوتھا عمرہ اپنے حج کے ساتھ ادا فرمایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعُمْرَةِ/حدیث: 1779]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1780
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، وَقَالَ: اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، إِلَّا الَّتِي اعْتَمَرَ مَعَ حَجَّتِهِ عُمْرَتَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَمِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، وَمِنْ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ، وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ.
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، اس روایت میں یوں ہے کہ جو عمرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کے ساتھ کیا تھا اس کے سوا تمام عمرے ذی قعدہ ہی میں کئے تھے۔ حدیبیہ کا عمرہ اور دوسرے سال اس کی قضاء کا عمرہ تھا۔ (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قران کیا تھا اور حجۃ الوداع سے متعلق ہے) اور جعرانہ کا عمرہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین کی غنیمت تقسیم کی تھی۔ پھر ایک عمرہ اپنے حج کے ساتھ کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعُمْرَةِ/حدیث: 1780]
حضرت ہمام رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاروں عمرے ذوالقعدہ میں کیے تھے سوائے اس عمرے کے جو حج کے ساتھ ادا کیا تھا؛ ایک عمرہ حدیبیہ، ایک عمرہ قضا آئندہ سال، تیسرا عمرہ جعرانہ جبکہ حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا اور چوتھا عمرہ اپنے حج کے ساتھ ادا فرمایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعُمْرَةِ/حدیث: 1780]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1781
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَأَلْتُ مَسْرُوقًا , وَعَطَاءً , وَمُجَاهِدًا، فقالوا: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ، وَقَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ:" اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ مَرَّتَيْنِ".
ہم سے احمد بن عثمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابواسحٰق نے بیان کیا کہ میں نے مسروق، عطاء اور مجاہد رحمہم اللہ تعالیٰ سے پوچھا تو ان سب حضرات نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج سے پہلے ذی قعدہ ہی میں عمرے کئے تھے اور انہوں نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ ذی قعدہ میں حج سے پہلے دو عمرے کئے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعُمْرَةِ/حدیث: 1781]
ابو اسحاق سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت مسروق، حضرت عطاء اور حضرت مجاہد رحمہم اللہ سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کرنے سے پہلے ماہ ذوالقعدہ میں عمرہ کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کرنے سے پہلے ذوالقعدہ میں دو عمرے کیے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعُمْرَةِ/حدیث: 1781]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں