🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. بَابُ: تَحْرِيمِ الأَشْرِبَةِ الْمُسْكِرَةِ مِنَ الأَثْمَارِ وَالْحُبُوبِ
باب: مختلف قسم کے غلوں اور پھلوں سے بنی ہوئی نشہ لانے والی شراب کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5584
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: إِنَّ أَهْلَنَا يَنْبِذُونَ لَنَا شَرَابًا عَشِيًّا فَإِذَا أَصْبَحْنَا شَرِبْنَا، قَالَ:" أَنْهَاكَ عَنِ الْمُسْكِرِ قَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، وَأُشْهِدُ اللَّهَ عَلَيْكَ، أَنْهَاكَ عَنِ الْمُسْكِرِ قَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، وَأُشْهِدُ اللَّهَ عَلَيْكَ، إِنَّ أَهْلَ خَيْبَرَ يَنْتَبِذُونَ شَرَابًا مِنْ كَذَا وَكَذَا وَيُسَمُّونَهُ كَذَا وَكَذَا، وَهِيَ الْخَمْرُ، وَإِنَّ أَهْلَ فَدَكٍ يَنْتَبِذُونَ شَرَابًا مِنْ كَذَا وَكَذَا يُسَمُّونَهُ كَذَا وَكَذَا، وَهِيَ الْخَمْرُ، حَتَّى.. عَدَّ أَشْرِبَةً أَرْبَعَةً أَحَدُهَا الْعَسَلُ".
عبداللہ بن سیرین کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر کہا: ہمارے گھر والے ہمارے لیے شام کو شراب بناتے ہیں، جب صبح ہوتی ہے تو ہم پیتے ہیں، وہ بولے: میں تمہیں ہر نشہ لانے والی چیز سے روکتا ہوں، کم ہو یا زیادہ، اور میں تم پر اللہ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں تمہیں کم ہو یا زیادہ ہر نشہ لانے والی چیز سے روکتا ہوں، اور میں تم پر اللہ کو گواہ بناتا ہوں کہ خیبر والے فلاں فلاں چیز سے شراب بناتے ہیں اور اسے فلاں فلاں نام دیتے ہیں حالانکہ وہ خمر (شراب) ہے، اور اہل فدک فلاں فلاں چیز سے شر اب بناتے ہیں اور اسے فلاں فلاں نام دیتے ہیں، حالانکہ وہ خمر (شراب) ہے، یہاں تک کہ انہوں نے چار طرح کی شرابیں گنائیں ان میں سے ایک شہد تھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5584]
ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آکر کہا: ہمارے گھر والے شام کے وقت نبیذ بناتے ہیں، ہم صبح کے وقت وہ پی لیتے ہیں (کیا یہ جائز ہے؟)۔ آپ نے فرمایا: میں تجھے ہر نشہ آور چیز سے روکتا ہوں، تھوڑی ہو یا زیادہ، اور میں اللہ تعالیٰ کو تجھ پر گواہ بنا کر تجھے نشہ آور چیز سے روکتا ہوں، قلیل ہو یا کثیر۔ اور میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر تجھے بتاتا ہوں کہ خیبر والے فلاں فلاں چیز سے مشروب تیار کرتے ہیں اور اس کا نام یہ رکھتے ہیں مگر وہ درحقیقت شراب (خمر) ہے، اور فدک والے بھی فلاں فلاں چیز سے مشروب تیار کرتے ہیں اور اس کا نام یہ اور یہ رکھتے ہیں، حالانکہ وہ بھی شراب ہی ہے، حتیٰ کہ انہوں نے چار (قسم کے) مشروب شمار کیے۔ ان میں سے ایک شہد (سے تیار ہوتا) تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5584]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7436) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: یعنی نشہ لانے والی چیزوں کے نام کی تبدیلی سے اس کی حرمت پر کچھ بھی اثر نہیں پڑتا، اسی طرح اس کی حرمت پر قلت و کثرت کا کوئی بھی اثر نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں