سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
54. بَابُ: مَا يَجُوزُ شُرْبُهُ مِنَ الْعَصِيرِ وَمَا لاَ يَجُوزُ
باب: کون سا رس (شیرہ) پینا جائز ہے اور کون سا ناجائز؟
حدیث نمبر: 5732
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ السُّلَمِيِّ , عَنْ أَبِي ثَابِتٍ الثَّعْلَبِيِّ , قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ , فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنِ الْعَصِيرِ؟ , فَقَالَ:" اشْرَبْهُ مَا كَانَ طَرِيًّا" , قَالَ: إِنِّي طَبَخْتُ شَرَابًا وَفِي نَفْسِي مِنْهُ , قَالَ:" أَكُنْتَ شَارِبَهُ قَبْلَ أَنْ تَطْبُخَهُ؟" , قَالَ: لَا , قَالَ:" فَإِنَّ النَّارَ لَا تُحِلُّ شَيْئًا قَدْ حَرُمَ".
ابوثابت ثعلبی کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا اتنے میں ایک شخص آیا اور ان سے رس (شیرے) کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: جب تک تازہ ہو پیو۔ اس نے کہا: میں نے ایک مشروب کو پکایا ہے پھر بھی وہ میرے دل میں کھٹک رہا ہے؟ انہوں نے کہا: کیا تم اسے پکانے سے پہلے پیتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: آگ سے کوئی حرام چیز حلال نہیں ہو جاتی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5732]
حضرت ابو ثابت ثعلبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا کہ ایک آدمی آیا اور ان سے انگوروں کے جوس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: جب تک وہ تازہ ہو، تم پی سکتے ہو۔ اس نے کہا کہ میں نے ایک مشروب کو آگ پر پکایا ہے لیکن مجھے اس کے بارے میں اطمینان نہیں۔ انہوں نے فرمایا: کیا اس کو پکانے سے پہلے تو اسے پی سکتا تھا؟ اس نے کہا: نہیں۔ انہوں نے فرمایا: پھر آگ تو کسی حرام چیز کو حلال نہیں کر سکتی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5732]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 5369) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5733
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قِرَاءَةً , أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ , قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ , يَقُولُ:" وَاللَّهِ , مَا تُحِلُّ النَّارُ شَيْئًا وَلَا تُحَرِّمُهُ" , قَالَ: ثُمَّ فَسَّرَ لِي قَوْلَهُ: لَا تُحِلُّ شَيْئًا لِقَوْلِهِمْ فِي الطِّلَاءِ وَلَا تُحَرِّمُهُ.
عطاء بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”اللہ کی قسم! آگ کسی (حرام) چیز کو حلال نہیں کرتی، اور نہ ہی کسی (حلال) چیز کو حرام کرتی ہے“ پھر آپ نے اپنے اس قول ”آگ کسی چیز کو حلال نہیں کرتی“ کی شرح میں یہ کہا کہ یہ رد ہے طلاء کے سلسلے میں بعض لوگوں کے قول کا ۱؎ کہ ”آگ جس کو چھولے اس سے وضو واجب ہو جاتا ہے“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5733]
حضرت عطاء رحمہ اللہ نے بتایا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے سنا: اللہ کی قسم! آگ نہ کسی چیز کو حلال کر سکتی ہے نہ حرام۔ پھر حضرت عطاء رحمہ اللہ نے اس قول کی تفسیر بیان کی کہ لوگ کہتے ہیں نشہ آور مشروب کو آگ پر پکا کر طلاء بنا لیا جائے تو وہ حلال ہو جاتا ہے (حالانکہ یہ ممکن نہیں)۔ آگ کسی چیز کو حلال نہیں کر سکتی ہے۔ جس طرح آگ سے پکی ہوئی چیز سے وضو کرنے کا مسئلہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5733]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 5932) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: وہ قول یہ ہے ”آگ سے طلاء حلال ہو جاتا ہے“ یعنی: طلاء کا دد تہائی جب جل جائے اور ایک ثلث باقی رہ جائے تو یہ آخری تہائی حلال ہے۔ ۲؎: یہ تردید اس طرح ہے کہ اگر یہ کہتے ہیں کہ آگ سے پکنے سے پہلے کوئی چیز حلال تھی اور پکنے کے بعد وہ حرام ہو گئی، تو یہ ماننا پڑے گا کہ آگ بھی کسی چیز کو حلال اور حرام کرتی ہے، حالانکہ ایسی بات نہیں ہے۔ اس تشریح سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ «الوضوء مما مست النار» کا جملہ حدیث نمبر ۵۷۳۳ کا «تتمہ» ہے، نہ کہ کوئی مستقل باب کا عنوان، جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھ لیا ہے (سندھی اور حاشیہ نظامیہ میں اس پر انتباہ موجود ہے، نیز: اگر اس جملے کو ایک مستقل باب مانتے ہیں تو اس میں مذکور آثار (نمبر ۵۷۳۴ تا ۵۷۳۷) کا اس باب سے کوئی تعلق بھی نظر نہیں آتا)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5734
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ , قَالَ أَخْبَرَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , قَالَ:" اشْرَبْ الْعَصِيرَ مَا لَمْ يُزْبِدْ".
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ شیرہ (رس) پیو، جب تک کہ اس میں جھاگ نہ آ جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5734]
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ انگوروں کا جوس اس وقت تک پی سکتے ہو جب تک اس میں جھاگ پیدا نہ ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5734]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 18744) (صحیح الٕاسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن شهاب الزهري عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 368
حدیث نمبر: 5735
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عَائِذٍ الْأَسَدِيِّ , قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْعَصِيرِ , قَالَ:" اشْرَبْهُ حَتَّى يَغْلِيَ مَا لَمْ يَتَغَيَّرْ".
ہشام بن عائذ اسدی کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم نخعی سے شیرے (رس) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اسے پیو، جب تک کہ ابل کر بدل جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5735]
حضرت ہشام بن عائذ اسدی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابراہیم (نخعی) رحمہ اللہ سے انگوروں کے جوس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: جب تک اس میں جوش اور تغیر رونما نہ ہو تو اسے پی سکتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5735]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 18424) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 5736
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ , عَنْ عَطَاءٍ فِي الْعَصِيرِ , قَالَ:" اشْرَبْهُ حَتَّى يَغْلِيَ".
عطا سے شیرے (رس) کے بارے میں کہتے ہیں: پیو، جب تک اس میں جھاگ نہ آ جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5736]
حضرت عطاء رحمہ اللہ نے انگوروں کے جوس کے بارے میں فرمایا: جوش اور جھاگ پیدا ہونے سے پہلے اسے پی سکتے ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5736]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 19055) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 5737
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ , عَنْ دَاوُدَ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , قَالَ:" اشْرَبْهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا أَنْ يَغْلِيَ".
شعبی کہتے ہیں کہ اسے (رس) تین دن تک پیو سوائے اس کے کہ اس میں جھاگ آ جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5737]
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: جوس کو تین دن تک بھی پیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اس میں جوش اور جھاگ پیدا نہ ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5737]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 18858) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح