صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ إِذَا أَهْدَى لِلْمُحْرِمِ حِمَارًا وَحْشِيًّا حَيًّا لَمْ يَقْبَلْ:
باب: اگر کسی نے محرم کے لیے زندہ گورخر تحفہ بھیجا ہو تو اسے قبول نہ کرے۔
حدیث نمبر: 1825
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ،" أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ، أَوْ بِوَدَّانَ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وَجْهِهِ، قَالَ: إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ، إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے، انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اور انہیں صعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ نے کہ جب وہ ابواء یا ودان میں تھے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک گورخر کا تحفہ دیا تو آپ نے اسے واپس کر دیا تھا، پھر جب آپ نے ان کے چہروں پر ناراضگی کا رنگ دیکھا تو آپ نے فرمایا واپسی کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم احرام باندھے ہوئے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب جَزَاءِ الصَّيْدِ/حدیث: 1825]
حضرت صعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے ایک جنگلی گدھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور ہدیہ پیش کیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابواء یا مقام ودان میں تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے چہرے پر افسردگی دیکھی تو فرمایا: ”ہم نے یہ اس لیے واپس کیا ہے کہ ہم محرم ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب جَزَاءِ الصَّيْدِ/حدیث: 1825]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة