سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
207. باب مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَالْقِرَاءَةِ فِيهِمَا
باب: مغرب کے بعد دو رکعت پڑھنے اور ان میں قرأت کا بیان۔
حدیث نمبر: 431
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَعْدَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ: " مَا أُحْصِي مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ بِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَاصِمٍ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں شمار نہیں کر سکتا کہ میں نے کتنی بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کے بعد کی دونوں رکعتوں میں اور فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھتے سنا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے،
۲- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف «عبدالله بن معدان عن عاصم» ہی کے طریق سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 431]
۱- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے،
۲- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف «عبدالله بن معدان عن عاصم» ہی کے طریق سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 431]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الإقامة112 (1166) (تحفة الأشراف: 9278) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مغرب کی دونوں سنتوں میں ان دونوں سورتوں کا پڑھنا مستحب ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، ابن ماجة (1166)
قال الشيخ زبير على زئي:(431) إسناده ضعيف /جه 1166
عبدالملك بن معدان: ضعيف (تق:4227) وللحديث شواھد ضعيفة۔
عبدالملك بن معدان: ضعيف (تق:4227) وللحديث شواھد ضعيفة۔