🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. بَابُ الصَّوْمُ كَفَّارَةٌ:
باب: روزہ گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1895
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا جَامِعٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَنْ يَحْفَظُ حَدِيثًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ، قَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا سَمِعْتُهُ، يَقُولُ:" فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ، وَمَالِهِ، وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ، وَالصِّيَامُ، وَالصَّدَقَةُ"، قَالَ: لَيْسَ أَسْأَلُ عَنْ ذِهِ، إِنَّمَا أَسْأَلُ عَنِ الَّتِي تَمُوجُ كَمَا يَمُوجُ الْبَحْرُ، قَالَ: وَإِنَّ دُونَ ذَلِكَ بَابًا مُغْلَقًا، قَالَ: فَيُفْتَحُ أَوْ يُكْسَرُ، قَالَ: يُكْسَرُ، قَالَ: ذَاكَ أَجْدَرُ أَنْ لَا يُغْلَقَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ سَلْهُ: أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: نَعَمْ، كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ اللَّيْلَةَ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے جامع بن راشد نے بیان کیا، ان سے ابووائل نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا فتنہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کسی کو یاد ہے؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ انسان کے لیے اس کے بال بچے، اس کا مال اور اس کے پڑوسی فتنہ (آزمائش و امتحان) ہیں جس کا کفارہ نماز روزہ اور صدقہ بن جاتا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس کے متعلق نہیں پوچھتا میری مراد تو اس فتنہ سے ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح امنڈ آئے گا۔ اس پر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ کے اور اس فتنہ کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ (یعنی آپ کے دور میں وہ فتنہ شروع نہیں ہو گا) عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا وہ دروازہ کھل جائے گا یا توڑ دیا جائے گا؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ توڑ دیا جائے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر تو قیامت تک کبھی بند نہ ہو پائے گا۔ ہم نے مسروق سے کہا آپ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھئے کہ کیا عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم تھا کہ وہ دروازہ کون ہے، چنانچہ مسروق نے پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں! بالکل اس طرح (انہیں علم تھا) جیسے رات کے بعد دن کے آنے کا علم ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1895]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ فتنے کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کسی کو یاد ہے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: انسان کے لیے اس کے بال بچے، اس کا مال اور اس کے پڑوسی باعثِ آزمائش ہیں جس کا کفارہ نماز پڑھنا، روزہ رکھنا اور صدقہ دینا بن جاتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس فتنے کے متعلق نہیں پوچھ رہا ہوں بلکہ مجھے اس فتنے کے بارے میں دریافت کرنا ہے جو سمندر کی طرح موجزن ہو گا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اس فتنے سے پہلے ایک بند دروازہ ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اس دروازے کو کھولا جائے گا یا توڑا جائے گا؟ عرض کیا: اسے توڑا جائے گا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر تو یہ دروازہ اس لائق ہے کہ قیامت کے دن تک بند نہ ہو۔ ہم نے راویِ حدیث مسروق رحمہ اللہ سے دریافت کیا: تم ان سے پوچھو کہ آیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ وہ دروازہ کون ہے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہاں، انہیں بخوبی علم تھا جیسے وہ جانتے تھے کہ کل سے پہلے رات کا آنا یقینی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1895]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں