سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
75. باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْحَلْقِ لِلنِّسَاءِ
باب: عورتوں کے بال مونڈانے کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 914
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ تَحْلِقَ الْمَرْأَةُ رَأْسَهَا ".
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ عورت اپنا سر مونڈوائے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 914]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزینة 4 (5052) (تحفة الأشراف: 10085) (ضعیف) (اس سند میں اضطراب ہے جس کو مؤلف نے بیان کر دیا ہے، جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (2653 / التحقيق الثاني) ، الضعيفة (678)
حدیث نمبر: 915
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ خِلَاسٍ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَلِيٍّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ فِيهِ اضْطِرَابٌ، وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ تَحْلِقَ الْمَرْأَةُ رَأْسَهَا ". وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ عَلَى الْمَرْأَةِ حَلْقًا، وَيَرَوْنَ أَنَّ عَلَيْهَا التَّقْصِيرَ.
اس سند سے بھی خلاس سے اسی طرح مروی ہے، لیکن اس میں انہوں نے علی رضی الله عنہ کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث میں اضطراب ہے، یہ حدیث حماد بن سلمہ سے بطریق: «قتادة عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم» مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو اپنا سر مونڈانے سے منع فرمایا،
۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ عورت کے لیے سر منڈانے کو درست نہیں سمجھتے ان کا خیال ہے کہ اس پر تقصیر (بال کتروانا) ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 915]
۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث میں اضطراب ہے، یہ حدیث حماد بن سلمہ سے بطریق: «قتادة عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم» مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو اپنا سر مونڈانے سے منع فرمایا،
۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ عورت کے لیے سر منڈانے کو درست نہیں سمجھتے ان کا خیال ہے کہ اس پر تقصیر (بال کتروانا) ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 915]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 18617) (ضعیف)»