صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
64. بَابُ هَلْ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الأَيَّامِ:
باب: روزے کے لیے کوئی دن مقرر کرنا۔
حدیث نمبر: 1987
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:" هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْتَصُّ مِنَ الْأَيَّامِ شَيْئًا؟ قَالَتْ: لَا، كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً"، وَأَيُّكُمْ يُطِيقُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطِيقُ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (روزہ وغیرہ عبادات کے لیے) کچھ دن خاص طور پر مقرر کر رکھے تھے؟ انہوں نے کہا نہیں۔ بلکہ آپ کے ہر عمل میں ہمیشگی ہوتی تھی اور دوسرا کون ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جتنی طاقت رکھتا ہو؟ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1987]
حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبادت کے لیے کچھ دنوں کی تخصیص فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل دائمی ہوا کرتا تھا، اور تم میں سے کون ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر طاقت رکھتا ہو؟ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1987]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة