🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

42. باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الدُّبَّاءِ
باب: کدو کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1849
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي طَالُوتَ قَالَ: " دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهُوَ يَأْكُلُ الْقَرْعَ وَهُوَ يَقُولُ يَا لَكِ شَجَرَةً مَا أَحَبَّكِ إِلَيَّ لِحُبِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ابو طالوت کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک کے پاس گیا، وہ کدو کھا رہے تھے، اور کہہ رہے تھے: اے بیل! کس قدر تو مجھے پسند ہے! کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تجھے پسند کرتے تھے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے،
۲- اس باب میں حکیم بن جابر سے بھی روایت ہے جسے حکیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1849]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: 1719) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابو طالوت شامی مجہول راوی ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:(1849) إسناده ضعيف
أبو طالوت : مجھول (تق:8183) والحديث الآتي (سنن الترمذي /الأصل ؛ 1850) شاھد لبعضه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1850
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ فِي الصَّحْفَةِ يَعْنِي الدُّبَّاءَ فَلَا أَزَالُ أُحِبُّهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ وَرُوِيَ أَنَّهُ رَأَى الدُّبَّاءَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: " هَذَا الدُّبَّاءُ نُكَثِّرُ بِهِ طَعَامَنَا ".
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ رکابی میں ڈھونڈ رہے تھے یعنی کدو، اس وقت سے میں اسے ہمیشہ پسند کرتا ہوں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے،
۳- روایت کی گئی ہے کہ انس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کدو دیکھا تو آپ سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کدو ہے ہم اس سے اپنے کھانے کی مقدار بڑھاتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1850]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 30 (2092)، والأطعمة 4 (5379)، و 25 (5420)، صحیح مسلم/الأشربة والأطعمة 21 (2041)، سنن ابی داود/ الأطعمة 22 (3782)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 26 (3304)، (تحفة الأشراف: 198)، وط/النکاح 21 (51)، سنن الدارمی/الأطعمة 19 (2094) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں