🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

51. بَابُ الْكَيْلِ عَلَى الْبَائِعِ وَالْمُعْطِي:
باب: ناپ تول کرنے والے کی مزدوری بیچنے والے پر اور دینے والے پر ہے (خریدار پر نہیں)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2126
لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَإِذَا كَالُوهُمْ أَوْ وَزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ} يَعْنِي كَالُوا لَهُمْ وَوَزَنُوا لَهُمْ كَقَوْلِهِ: {يَسْمَعُونَكُمْ} يَسْمَعُونَ لَكُمْ. وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اكْتَالُوا حَتَّى تَسْتَوْفُوا» . وَيُذْكَرُ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «إِذَا بِعْتَ فَكِلْ، وَإِذَا ابْتَعْتَ فَاكْتَلْ» .
‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «وإذا كالوهم أو وزنوهم يخسرون‏» جب وہ انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم کر دیتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ بیچنے والے خریدنے والوں کے لیے ناپتے اور وزن کرتے ہیں۔ جیسے دوسری آیت میں کلمہ «يسمعونكم‏» سے مراد ہے «يسمعون لكم‏.‏» ہے۔ ویسے ہی اس آیت میں «كالوهم» سے مراد «كالوا لهم» ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھجور ناپ لو اور اپنے اونٹ کی قیمت پوری بھر لو۔ اور عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، جب تو کوئی چیز بیچا کرے تو ناپ کے دیا کر اور جب کوئی چیز خریدے تو اسے بھی نپوا لیا کر۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: Q2126]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2126
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا، فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب کوئی شخص کسی قسم کا غلہ خریدے تو جب تک اس پر پوری طرح قبضہ نہ کر لے، اسے نہ بیچے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2126]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غلہ خریدے تو اس وقت تک اسے فروخت نہ کرے جب تک اس کو پوری طرح قبضے میں نہ لے لے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2126]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2127
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ، وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَاسْتَعَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غُرَمَائِهِ، أَنْ يَضَعُوا مِنْ دَيْنِهِ، فَطَلَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ، فَلَمْ يَفْعَلُوا، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبْ فَصَنِّفْ تَمْرَكَ أَصْنَافًا الْعَجْوَةَ عَلَى حِدَةٍ، وَعَذْقَ زَيْدٍ عَلَى حِدَةٍ، ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَيَّ، فَفَعَلْتُ، ثُمَّ أَرْسَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ فَجَلَسَ عَلَى أَعْلَاهُ، أَوْ فِي وَسَطِهِ، ثُمَّ قَالَ: كِلْ لِلْقَوْمِ، فَكِلْتُهُمْ حَتَّى أَوْفَيْتُهُمُ الَّذِي لَهُمْ، وَبَقِيَ تَمْرِي، كَأَنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مِنْهُ شَيْءٌ"، وَقَالَ فِرَاسٌ: عَنْ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنِي جَابِرٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا زَالَ يَكِيلُ لَهُمْ حَتَّى أَدَّاهُ، وَقَالَ هِشَامٌ: عَنْ وَهْبٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جُذَّ لَهُ فَأَوْفِ لَهُ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہمیں جریر نے خبر دی، انہیں مغیرہ نے، انہیں عامر شعبی نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ (میرے باپ) شہید ہو گئے تو ان کے ذمے (لوگوں کا) کچھ قرض باقی تھا۔ اس لیے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ کوشش کی کہ قرض خواہ کچھ اپنے قرضوں کو معاف کر دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی چاہا، لیکن وہ نہیں مانے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ جاؤ اپنی تمام کھجور کی قسموں کو الگ الگ کر لو۔ عجوہ (ایک خاص قسم کی کھجور) کو الگ رکھ اور عذق زید (کھجور کی ایک قسم) کو الگ کر۔ پھر مجھے بلا بھیج۔ میں نے ایسا ہی کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہلا بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کھجوروں کے ڈھیر پر یا بیچ میں بیٹھ گئے اور فرمایا کہ اب ان قرض خواہوں کو ناپ کر دو۔ میں نے ناپنا شروع کیا۔ جتنا قرض لوگوں کا تھا۔ میں نے سب کو ادا کر دیا، پھر بھی تمام کھجور جوں کی توں تھی۔ اس میں سے ایک دانہ برابر کی کمی نہیں ہوئی تھی۔ فراس نے بیان کیا کہ ان سے شعبی نے، اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ برابر ان کے لیے تولتے رہے، یہاں تک کہ ان کا پورا قرض ادا ہو گیا۔ اور ہشام نے کہا، ان سے وہب نے، اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کھجور توڑ اور اپنا قرض پورا ادا کر دے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2127]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ (میرے والد) حضرت عبد اللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہما نے جب وفات پائی تو ان پر کچھ قرض تھا، لہٰذا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کرائی کہ قرض خواہ کچھ معاف کر دیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ان لوگوں سے سفارش کی لیکن انہوں نے اسے منظور نہ کیا۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جاؤ اپنی کھجوروں کو چھانٹ کر ہر قسم علیحدہ علیحدہ کر لو۔ «عَجْوَة» اور «عَذْقُ ابْنِ زَيْدٍ» الگ الگ کر کے مجھے اطلاع دینا۔ چنانچہ میں نے یہی کیا، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے کے لیے (کسی کو) بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کھجوروں کے ڈھیر پر یا اس کے درمیان بیٹھ گئے۔ پھر مجھے فرمایا: قرض خواہوں کو ناپ ناپ کر دو۔ میں نے ناپ کر سب کے حصے پورے کر دیے، پھر بھی اس قدر کھجوریں باقی رہیں جیسے ان سے کچھ بھی کم نہ ہوا ہو۔ فراس نے امام شعبی رحمہ اللہ سے بیان کیا، انہیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ وہ (حضرت جابر رضی اللہ عنہ) ان کے لیے کھجوریں ماپتے رہے یہاں تک کہ قرض ادا کر دیا۔ حضرت ہشام رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھجوریں توڑ کر ان کا قرض ادا کرو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2127]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں