🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

67. بَابُ الْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ مَعَ النِّسَاءِ:
باب: عورتوں سے خرید و فروخت کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2155
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: دَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اشْتَرِي وَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَشِيِّ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہمیں شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (بریرہ رضی اللہ عنہا کے خریدنے کا) ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم خرید کر آزاد کر دو۔ ولاء تو اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ (خرید و فروخت میں) ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی کوئی اصل کتاب اللہ میں نہیں ہے جو شخص بھی کوئی ایسی شرط لگائے گا جس کی اصل کتاب اللہ میں نہ ہو وہ شرط باطل ہو گی۔ خواہ سو شرطیں ہی کیوں نہ لگا لے کیونکہ اللہ ہی کی شرط حق اور مضبوط ہے (اور اسی کا اعتبار ہے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2155]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے (حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدنے کا) ذکر کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم (بریرہ کو) خرید کر آزاد کر سکتی ہو، ولاء تو اسی کے لیے ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم شام کے وقت منبر پر کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی شایانِ شان حمد و ثنا کی، اس کے بعد فرمایا: لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ (معاملات میں) ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں، جس نے ایسی شرط لگائی جو کتاب اللہ میں نہیں تو وہ باطل ہے اگرچہ اس طرح کی سو شرطیں لگائے، اللہ تعالیٰ کی شرط ہی زیادہ سچی اور مضبوط ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2155]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2156
حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ أَبِي عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، سَاوَمَتْ بَرِيرَةَ، فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَمَّا جَاءَ، قَالَتْ: إِنَّهُمْ أَبَوْا أَنْ يَبِيعُوهَا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطُوا الْوَلَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، قُلْتُ لِنَافِعٍ: حُرًّا كَانَ زَوْجُهَا أَوْ عَبْدًا؟ فَقَالَ: مَا يُدْرِينِي.
ہم سے حسان بن ابی عباد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا کہ میں نے نافع سے سنا، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے تھے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا، بریرہ رضی اللہ عنہا کی (جو باندی تھیں) قیمت لگا رہی تھیں (تاکہ انہیں خرید کر آزاد کر دیں) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے (مسجد میں) تشریف لے گئے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ (بریرہ رضی اللہ عنہا کے مالکوں نے تو) اپنے لیے ولاء کی شرط کے بغیر انہیں بیچنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ولاء تو اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ میں نے نافع سے پوچھا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر آزاد تھے یا غلام، تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2156]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کا سودا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لے گئے۔ جب واپس آئے تو ام المومنین رضی اللہ عنہا نے کہا کہ وہ لوگ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو فروخت کرنے سے انکاری ہیں مگر اس شرط پر کہ ولاء ان کی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولاء تو اس کا حق ہے جس نے اسے آزاد کیا ہو۔ (راوی حدیث ہمام کہتے ہیں کہ) میں نے (اپنے شیخ) نافع رحمہ اللہ سے پوچھا: حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر آزاد تھا یا غلام؟ انہوں نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2156]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں