صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
66. بَابُ بَيْعِ الْعَبْدِ الزَّانِي:
باب: زانی غلام کی بیع کا بیان۔
حدیث نمبر: Q2152
وَقَالَ شُرَيْحٌ: إِنْ شَاءَ رَدَّ مِنَ الزِّنَا.
اور شریح رحمہ اللہ نے کہا کہ اگر خریدار چاہے تو زنا کے عیب کی وجہ سے ایسے لونڈی غلام کو واپس پھیر سکتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: Q2152]
حدیث نمبر: 2152
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا زَنَتِ الْأَمَةُ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَجْلِدْهَا وَلَا يُثَرِّبْ، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَلْيَجْلِدْهَا وَلَا يُثَرِّبْ، ثُمَّ إِنْ زَنَتِ الثَّالِثَةَ فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعَرٍ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ مجھے سعید مقبری نے خبر دی، ان سے ان کے باپ نے، اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی باندی زنا کرے اور اس کے زنا کا ثبوت (شرعی) مل جائے تو اسے کوڑے لگوائے، پھر اس کی لعنت ملامت نہ کرے۔ اس کے بعد اگر پھر وہ زنا کرے تو پھر کوڑے لگوائے مگر پھر لعنت ملامت نہ کرے۔ پھر اگر تیسری مرتبہ بھی زنا کرے تو اسے بیچ دے چاہے بال کی ایک رسی کے بدلہ ہی میں کیوں نہ ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2152]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لونڈی زنا کرے اور اس کا زنا ظاہر ہو جائے تو اس کا مالک اسے کوڑے لگائے، صرف ڈانٹ ڈپٹ پر اکتفا نہ کرے۔ اگر وہ پھر زنا کرے تو پھر اسے کوڑے لگائے، زجر و تنبیہ پر اکتفا نہ کرے۔ اگر وہ تیسری مرتبہ زنا کرے تو اس کو فروخت کر دے، خواہ بالوں کی رسی کے عوض ہی ہو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2152]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2153
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سُئِلَ عَنْ الْأَمَةِ إِذَا زَنَتْ وَلَمْ تُحْصِنْ؟ قَالَ: إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَبِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ"، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: لَا أَدْرِي بَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ.
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی غیر شادی شدہ باندی زنا کرے (تو اس کا کیا حکم ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے کوڑے لگاؤ۔ اگر پھر زنا کرے تو پھر کوڑے لگاؤ۔ پھر بھی اگر زنا کرے تو اسے بیچ دو، اگرچہ ایک رسی ہی کے بدلے میں وہ فروخت ہو۔ ابن شہاب نے کہا کہ مجھے یہ معلوم نہیں کہ (بیچنے کے لیے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا تھا یا چوتھی مرتبہ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2153]
حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کنواری لونڈی کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ”اگر وہ زنا کرے تو اس کو کوڑے مارو، پھر اگر زنا کرے تو اس کو حد لگاؤ، پھر اگر بدکاری کا ارتکاب کرے تو اسے فروخت کر دو اگرچہ بالوں کی رسی کے عوض کیوں نہ ہو۔“ ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ (آپ نے بیچنے کا) تیسری مرتبہ کے بعد فرمایا یا چوتھی مرتبہ کے بعد فرمایا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2153]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2154
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سُئِلَ عَنْ الْأَمَةِ إِذَا زَنَتْ وَلَمْ تُحْصِنْ؟ قَالَ: إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَبِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ"، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: لَا أَدْرِي بَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ.
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی غیر شادی شدہ باندی زنا کرے (تو اس کا کیا حکم ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے کوڑے لگاؤ۔ اگر پھر زنا کرے تو پھر کوڑے لگاؤ۔ پھر بھی اگر زنا کرے تو اسے بیچ دو، اگرچہ ایک رسی ہی کے بدلے میں وہ فروخت ہو۔ ابن شہاب نے کہا کہ مجھے یہ معلوم نہیں کہ (بیچنے کے لیے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا تھا یا چوتھی مرتبہ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2154]
حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کنواری لونڈی کے متعلق سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ زنا کرے تو اس کو کوڑے مارو، پھر اگر زنا کرے تو اس کو حد لگاؤ، پھر اگر بدکاری کا ارتکاب کرے تو اسے فروخت کر دو اگرچہ بالوں کی رسی کے عوض کیوں نہ ہو۔“ ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ (آپ نے بیچنے کا) تیسری مرتبہ کے بعد فرمایا یا چوتھی مرتبہ کے بعد فرمایا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2154]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة