صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. باب استعمال فضل وضوء الناس:
باب: لوگوں کے وضو کا بچا ہوا پانی استعمال کرنا۔
حدیث نمبر: 189
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ: وَهُوَ الَّذِي مَجّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ، وَهُوَ غُلَامٌ مِنْ بِئْرِهِمْ، وَقَالَ عُرْوَةُ: عَنْ الْمِسْوَرِ وَغَيْرِهِ يُصَدِّقُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ،" وَإِذَا تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے، کہا ہم سے میرے باپ نے، انہوں نے صالح سے سنا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، کہا انہیں محمود بن الربیع نے خبر دی، ابن شہاب کہتے ہیں محمود وہی ہیں کہ جب وہ چھوٹے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی کے کنویں (کے پانی) سے ان کے منہ میں کلی ڈالی تھی اور عروہ نے اسی حدیث کو مسور وغیرہ سے بھی روایت کیا ہے اور ہر ایک (راوی) ان دونوں میں سے ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے ہوئے وضو کے پانی پر صحابہ رضی اللہ عنہم جھگڑنے کے قریب ہو جاتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 189]
حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، یہ وہی محمود ہیں جن کے چہرے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی کے کنویں کے پانی سے کلی فرمائی تھی جب کہ وہ بچے تھے۔ حضرت عروہ رحمہ اللہ، حضرت مسور رضی اللہ عنہ وغیرہ سے بیان کرتے ہیں، ان میں سے ہر ایک دوسرے کی تصدیق کرتا ہے: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرماتے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے وضو سے بچے ہوئے پانی کو لینے کے لیے آپس میں جھگڑتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 189]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥المسور بن مخرمة القرشي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← المسور بن مخرمة القرشي | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥محمود بن الربيع الخزرجي، أبو محمد، أبو نعيم محمود بن الربيع الخزرجي ← عروة بن الزبير الأسدي | صحابي صغير | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← محمود بن الربيع الخزرجي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥صالح بن كيسان الدوسي، أبو محمد، أبو الحارث صالح بن كيسان الدوسي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت | |
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق إبراهيم بن سعد الزهري ← صالح بن كيسان الدوسي | ثقة حجة | |
👤←👥يعقوب بن إبراهيم القرشي، أبو يوسف يعقوب بن إبراهيم القرشي ← إبراهيم بن سعد الزهري | ثقة | |
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن علي بن المديني ← يعقوب بن إبراهيم القرشي | ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
189
| إذا توضأ النبي كادوا يقتتلون على وضوئه |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 189 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 189
تشریح:
یہ ایک طویل حدیث کا حصہ ہے جو کتاب الشروط میں نقل کی ہے اور یہ صلح حدیبیہ کا واقعہ ہے جب مشرکوں کی طرف سے عروہ بن مسعود ثقفی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے آیا تھا۔ اس نے واپس ہو کر مشرکین مکہ سے صحابہ کرام کی جان نثاری کو والہانہ انداز میں بیان کرتے ہوئے بتلایا کہ وہ ایسے سچے فدائی ہیں کہ آپ کے وضو سے جو پانی بچ رہتا ہے اس کو لینے کے لیے ایسے دوڑتے ہیں گویا قریب ہے کہ لڑ مریں گے۔ اس سے بھی آبِ مستعمل کا پاک ہونا ثابت ہوا۔
یہ ایک طویل حدیث کا حصہ ہے جو کتاب الشروط میں نقل کی ہے اور یہ صلح حدیبیہ کا واقعہ ہے جب مشرکوں کی طرف سے عروہ بن مسعود ثقفی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے آیا تھا۔ اس نے واپس ہو کر مشرکین مکہ سے صحابہ کرام کی جان نثاری کو والہانہ انداز میں بیان کرتے ہوئے بتلایا کہ وہ ایسے سچے فدائی ہیں کہ آپ کے وضو سے جو پانی بچ رہتا ہے اس کو لینے کے لیے ایسے دوڑتے ہیں گویا قریب ہے کہ لڑ مریں گے۔ اس سے بھی آبِ مستعمل کا پاک ہونا ثابت ہوا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 189]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 189
حدیث حاشیہ:
یہ ایک طویل حدیث کا حصہ ہے جو کتاب الشروط میں نقل کی ہے اور یہ صلح حدیبیہ کا واقعہ ہے جب مشرکوں کی طرف سے عروہ بن مسعود ثقفی آپ سے گفتگو کرنے آیا تھا۔
اس نے واپس ہوکر مشرکین مکہ سے صحابہ کرام ؓ کی جان نثاری کو والہانہ انداز میں بیان کرتے ہوئے بتلایا کہ وہ ایسے سچے فدائی ہیں کہ آپ کے وضو سے جو پانی بچ رہتا ہے اس کو لینے کے لیے ایسے دوڑتے ہیں گویا قریب ہے کہ لڑمریں گے۔
اس سے بھی آبِ مستعمل کا پاک ہونا ثابت ہوا۔
یہ ایک طویل حدیث کا حصہ ہے جو کتاب الشروط میں نقل کی ہے اور یہ صلح حدیبیہ کا واقعہ ہے جب مشرکوں کی طرف سے عروہ بن مسعود ثقفی آپ سے گفتگو کرنے آیا تھا۔
اس نے واپس ہوکر مشرکین مکہ سے صحابہ کرام ؓ کی جان نثاری کو والہانہ انداز میں بیان کرتے ہوئے بتلایا کہ وہ ایسے سچے فدائی ہیں کہ آپ کے وضو سے جو پانی بچ رہتا ہے اس کو لینے کے لیے ایسے دوڑتے ہیں گویا قریب ہے کہ لڑمریں گے۔
اس سے بھی آبِ مستعمل کا پاک ہونا ثابت ہوا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 189]
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 139
«ومستعمل وغير مستعمل»
”مستعمل اور غیر مستعمل (پانی میں کوئی فرق نہیں)۔“
مستعمل (استعمال شدہ) پانی طاہر (پاک) ہے اور اس کے دلائل حسب ذیل ہیں:
❀ حضرت عروہ اور حضرت مسور رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ
«وَإِذَا تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ»
نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قریب ہوتے کہ کہیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو سے (بچے ہوئے) پانی کو لینے میں جھگڑا نہ شروع کر دیں۔ [بخاري/ كتاب الوضوء /باب استعمال فضل وضوء الناس/ ح: 189، أحمد 329/4 - 330]
❀ حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو کیا تو لوگوں کی یہ حالت تھی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو سے بچے پانی کو حاصل کر کے اسے (اپنے جسموں پر) لگاتے تھے۔ [بخاري/ كتاب الوضوء /باب استعمال فضل وضوء الناس/ ح: 187]
❀ جب جابر رضی اللہ عنہ مریض تھے تو نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے اپنے وضوء کا پانی ان پر بہایا۔ [صحيح البخاري/كتاب المرضى/ بَابُ وُضُوءِ الْعَائِدِ لِلْمَرِيضِ:/ ح: 5676]
مستعمل پانی مطہر (یعنی پاک کرنے والا) بھی ہے۔ اگرچہ اس مسئلے کے اثبات کے لیے علماء کی طرف سے پیش کیے جانے والے مندرجہ ذیل دلائل سے استدلال کرنا تو محل نظر ہے لیکن یہ مسئلہ صحیح ثابت ہے۔
❀ حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
«أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مِنْ فَضْلِ مَاءٍ كَانَ فِي يَدِهِ»
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح اسی زائد پانی سے کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں موجود تھا۔“ [سنن ابي داود ح: 130] ۱؎
❀ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی نے ایک ٹب میں غسل کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس ٹب سے وضو یا غسل کرنے کے لیے آئے تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ میں جنبی تھی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنَّ الْمَاءَ لَا يُجْنِبُ» ”بے شک پانی ناپاک نہیں ہوتا۔“ [أبو داود 68] ۲؎
واضح رہے کہ مستعمل پانی سے مراد فقہاء کے نزدیک ایسا پانی ہے جسے جنابت رفع کرنے کے لیے، یا رفع حدث (یعنی وضو یا غسل)کے لیے، یا ازالہ نجاست کے لیے، یا تقرب کی نیت سے اجر و ثواب کے کاموں (مثلاًً وضو پر وضو کرنا یا نماز جنازہ کے لیے، مسجد میں داخلے کے لیے، قرآن پکڑنے کے لیے وضو کرنا وغیرہ) میں استعمال کیا گیا ہو۔ [فتح القدير 58/1] ۳؎
مستعمل پانی کے حکم میں فقہاء نے اختلاف کیا ہے۔
(ابوحنفیہ رحمہ اللہ، شافعی رحمہ اللہ) کسی حال میں بھی ایسے پانی کے ذریعے طہارت حاصل کرنا جائز نہیں۔ امام لیث رحمہ اللہ، امام اوزاعی رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ اور ایک روایت کے مطابق امام مالک رحمہ اللہ سے بھی یہی مذہب منقول ہے۔
(مالکیہ) مستعمل پانی کی موجودگی میں تیمم جائز نہیں۔
(ابویوسف رحمہ اللہ) مستعمل پانی نجس ہے (یاد رہے کہ یہ اپنے قول میں منفرد ہیں)۔
(اہل ظاھر) مستعمل پانی اور مطلق پانی میں کوئی فرق نہیں (یعنی جیسے مطلق پانی طاہر و مطہر ہے اسی طرح مستعمل پانی بھی طاہر و مطہر ہے) امام حسن، امام عطاء، امام نخعی، امام زہری، امام مکحول، اور امام احمد رحمہم اللہ اجمعین سے ایک روایت میں یہی مذہب مروی ہے۔ [بدائع الصنائع 66/1] ۴؎
(راجح) مستعمل پانی طاہر ومطہر ہے جیسا کہ ابتدا میں دلائل ذکر کر دیے گئے ہیں۔
(شوکانی رحمہ اللہ) مستعمل پانی سے طہارت حاصل کرنا درست ہے۔ [نيل الأوطار 85/1]
(ابن رشد رحمہ اللہ) مستعمل پانی حکم میں مطلق پانی کی طرح ہی ہے۔ [بداية المجتهد 55/1]
(صدیق حسن خان رحمہ اللہ) حق بات یہی ہے کہ مجرد استعال کی وجہ سے پانی پاک کرنے والی صفت سے خارج نہیں ہوتا۔ [الروضة الندية 68/1]
(ابن حزم رحمہ اللہ) استعمال شدہ پانی کے ساتھ غسل جنابت اور وضو جائز ہے قطع نظر اس سے کہ دوسرا پانی موجود ہو یا نہ ہو۔ [المحلى بالآثار 182/1]
استعمال شدہ پانی کو مطہرنہ کہنے والوں کے دلائل اور ان پر حرف تنقید
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد و عورت کو ایک دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے سے منع فرمایا ہے لیکن اگر وہ دونوں اکٹھے چلو بھریں تو اس میں کوئی مضائقہ ہیں۔ [سنن ابن ماجه/ ح: 374] ۵؎
اس کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ جواز کی احادیث کے قرینہ کی وجہ سے اس حدیث کی ممانعت کو نہی تنز یہی پر محمول کیا جائے گا۔ [سبل السلام 26/1]
جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اہلیہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے بچے ہوئے پانی سے غسل کر لیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/ 323] ۶؎
❀ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے پانی میں پیشاب اور غسل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح بخاري/ ح 239]
ان کے نزدیک (مذکورہ حدیث میں) ممانعت کا سبب یہ ہے کہ کہیں پانی مستعمل ہو کر غیر مطہر نہ ہو جائے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا، لیکن اس بات کا کوئی ثبوت موجو نہیں بلکہ منع کا سبب زیادہ سے زیادہ صرف یہی ہے کہ کہیں پانی خراب نہ ہو جائے اور اس کا نفع جاتا رہے اس بات کی تائید اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول سے ہوتی ہے کو ”وہ شخص اسے (یعنی پانی کو) باہر نکال کر استعمال کر لے۔“ [نيل الأوطار 58/1] ۷؎
امام ابن حزم رحمہ اللہ رقمطراز ہیں کہ ہم نے احناف کے جو اقوال نقل کیے ہیں ان میں سے عجیب ترین قول یہ ہے کہ ایک صاف ستھرے طاہر مسلمان کے وضو کا مستعمل پانی مردہ چوہے سے زیادہ نجس ہے۔ [المحلى بالآثار 150/1]
------------------
۱؎ [حسن: صحيح أبو داود 120، كتاب الطهارة: باب صفة وضوء النبى، أبو داود 130، تر مذي 33]
۲؎ [صحيح: صحيح أبو داود 16، كتاب الطهارة: باب الماء لا يجنب أبو داود 68، ابن ماجة 364، عارضة الأحوذي 82/1]
۳؎ [كشاف القناع 31/1-37، المغني 10/1، ہداية المجتهد 26/1، بدائع الصنائع 69/1، الدر المختار 182/1، فتح القدير 58/1]
۴؎ [والمجموع 151/1، المبسوط 46/1، بدائع الصنائع 66/1، مختصر الطحاوي 16، المغني 47/1، قوانين الأحكام الشرعية ص/40، اللباب 76/1، الأصل 125/1]
۵؎ [صحيح: صحيح ابن ماجه 300، كتاب الطهارة وسننها: باب النهي عن ذلك، ابن ماجة 374، طحاوي 64/1، دار قطني 26/1]
۶؎ [مسلم 323، كتاب الحيض: باب القدر المستحب من الماء فى غسل الجنابة . . .، احمد 366/1، بيهقي 188/1]
۷؎ [نيل الأوطار 58/1، السيل الجرار 57/1، المحلي 186/1]
* * * * * * * * * * * * * *
”مستعمل اور غیر مستعمل (پانی میں کوئی فرق نہیں)۔“
مستعمل (استعمال شدہ) پانی طاہر (پاک) ہے اور اس کے دلائل حسب ذیل ہیں:
❀ حضرت عروہ اور حضرت مسور رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ
«وَإِذَا تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ»
نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قریب ہوتے کہ کہیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو سے (بچے ہوئے) پانی کو لینے میں جھگڑا نہ شروع کر دیں۔ [بخاري/ كتاب الوضوء /باب استعمال فضل وضوء الناس/ ح: 189، أحمد 329/4 - 330]
❀ حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو کیا تو لوگوں کی یہ حالت تھی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو سے بچے پانی کو حاصل کر کے اسے (اپنے جسموں پر) لگاتے تھے۔ [بخاري/ كتاب الوضوء /باب استعمال فضل وضوء الناس/ ح: 187]
❀ جب جابر رضی اللہ عنہ مریض تھے تو نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے اپنے وضوء کا پانی ان پر بہایا۔ [صحيح البخاري/كتاب المرضى/ بَابُ وُضُوءِ الْعَائِدِ لِلْمَرِيضِ:/ ح: 5676]
مستعمل پانی مطہر (یعنی پاک کرنے والا) بھی ہے۔ اگرچہ اس مسئلے کے اثبات کے لیے علماء کی طرف سے پیش کیے جانے والے مندرجہ ذیل دلائل سے استدلال کرنا تو محل نظر ہے لیکن یہ مسئلہ صحیح ثابت ہے۔
❀ حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
«أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مِنْ فَضْلِ مَاءٍ كَانَ فِي يَدِهِ»
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح اسی زائد پانی سے کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں موجود تھا۔“ [سنن ابي داود ح: 130] ۱؎
❀ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی نے ایک ٹب میں غسل کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس ٹب سے وضو یا غسل کرنے کے لیے آئے تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ میں جنبی تھی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنَّ الْمَاءَ لَا يُجْنِبُ» ”بے شک پانی ناپاک نہیں ہوتا۔“ [أبو داود 68] ۲؎
واضح رہے کہ مستعمل پانی سے مراد فقہاء کے نزدیک ایسا پانی ہے جسے جنابت رفع کرنے کے لیے، یا رفع حدث (یعنی وضو یا غسل)کے لیے، یا ازالہ نجاست کے لیے، یا تقرب کی نیت سے اجر و ثواب کے کاموں (مثلاًً وضو پر وضو کرنا یا نماز جنازہ کے لیے، مسجد میں داخلے کے لیے، قرآن پکڑنے کے لیے وضو کرنا وغیرہ) میں استعمال کیا گیا ہو۔ [فتح القدير 58/1] ۳؎
مستعمل پانی کے حکم میں فقہاء نے اختلاف کیا ہے۔
(ابوحنفیہ رحمہ اللہ، شافعی رحمہ اللہ) کسی حال میں بھی ایسے پانی کے ذریعے طہارت حاصل کرنا جائز نہیں۔ امام لیث رحمہ اللہ، امام اوزاعی رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ اور ایک روایت کے مطابق امام مالک رحمہ اللہ سے بھی یہی مذہب منقول ہے۔
(مالکیہ) مستعمل پانی کی موجودگی میں تیمم جائز نہیں۔
(ابویوسف رحمہ اللہ) مستعمل پانی نجس ہے (یاد رہے کہ یہ اپنے قول میں منفرد ہیں)۔
(اہل ظاھر) مستعمل پانی اور مطلق پانی میں کوئی فرق نہیں (یعنی جیسے مطلق پانی طاہر و مطہر ہے اسی طرح مستعمل پانی بھی طاہر و مطہر ہے) امام حسن، امام عطاء، امام نخعی، امام زہری، امام مکحول، اور امام احمد رحمہم اللہ اجمعین سے ایک روایت میں یہی مذہب مروی ہے۔ [بدائع الصنائع 66/1] ۴؎
(راجح) مستعمل پانی طاہر ومطہر ہے جیسا کہ ابتدا میں دلائل ذکر کر دیے گئے ہیں۔
(شوکانی رحمہ اللہ) مستعمل پانی سے طہارت حاصل کرنا درست ہے۔ [نيل الأوطار 85/1]
(ابن رشد رحمہ اللہ) مستعمل پانی حکم میں مطلق پانی کی طرح ہی ہے۔ [بداية المجتهد 55/1]
(صدیق حسن خان رحمہ اللہ) حق بات یہی ہے کہ مجرد استعال کی وجہ سے پانی پاک کرنے والی صفت سے خارج نہیں ہوتا۔ [الروضة الندية 68/1]
(ابن حزم رحمہ اللہ) استعمال شدہ پانی کے ساتھ غسل جنابت اور وضو جائز ہے قطع نظر اس سے کہ دوسرا پانی موجود ہو یا نہ ہو۔ [المحلى بالآثار 182/1]
استعمال شدہ پانی کو مطہرنہ کہنے والوں کے دلائل اور ان پر حرف تنقید
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد و عورت کو ایک دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے سے منع فرمایا ہے لیکن اگر وہ دونوں اکٹھے چلو بھریں تو اس میں کوئی مضائقہ ہیں۔ [سنن ابن ماجه/ ح: 374] ۵؎
اس کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ جواز کی احادیث کے قرینہ کی وجہ سے اس حدیث کی ممانعت کو نہی تنز یہی پر محمول کیا جائے گا۔ [سبل السلام 26/1]
جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اہلیہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے بچے ہوئے پانی سے غسل کر لیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/ 323] ۶؎
❀ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے پانی میں پیشاب اور غسل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح بخاري/ ح 239]
ان کے نزدیک (مذکورہ حدیث میں) ممانعت کا سبب یہ ہے کہ کہیں پانی مستعمل ہو کر غیر مطہر نہ ہو جائے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا، لیکن اس بات کا کوئی ثبوت موجو نہیں بلکہ منع کا سبب زیادہ سے زیادہ صرف یہی ہے کہ کہیں پانی خراب نہ ہو جائے اور اس کا نفع جاتا رہے اس بات کی تائید اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول سے ہوتی ہے کو ”وہ شخص اسے (یعنی پانی کو) باہر نکال کر استعمال کر لے۔“ [نيل الأوطار 58/1] ۷؎
امام ابن حزم رحمہ اللہ رقمطراز ہیں کہ ہم نے احناف کے جو اقوال نقل کیے ہیں ان میں سے عجیب ترین قول یہ ہے کہ ایک صاف ستھرے طاہر مسلمان کے وضو کا مستعمل پانی مردہ چوہے سے زیادہ نجس ہے۔ [المحلى بالآثار 150/1]
------------------
۱؎ [حسن: صحيح أبو داود 120، كتاب الطهارة: باب صفة وضوء النبى، أبو داود 130، تر مذي 33]
۲؎ [صحيح: صحيح أبو داود 16، كتاب الطهارة: باب الماء لا يجنب أبو داود 68، ابن ماجة 364، عارضة الأحوذي 82/1]
۳؎ [كشاف القناع 31/1-37، المغني 10/1، ہداية المجتهد 26/1، بدائع الصنائع 69/1، الدر المختار 182/1، فتح القدير 58/1]
۴؎ [والمجموع 151/1، المبسوط 46/1، بدائع الصنائع 66/1، مختصر الطحاوي 16، المغني 47/1، قوانين الأحكام الشرعية ص/40، اللباب 76/1، الأصل 125/1]
۵؎ [صحيح: صحيح ابن ماجه 300، كتاب الطهارة وسننها: باب النهي عن ذلك، ابن ماجة 374، طحاوي 64/1، دار قطني 26/1]
۶؎ [مسلم 323، كتاب الحيض: باب القدر المستحب من الماء فى غسل الجنابة . . .، احمد 366/1، بيهقي 188/1]
۷؎ [نيل الأوطار 58/1، السيل الجرار 57/1، المحلي 186/1]
* * * * * * * * * * * * * *
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 135]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:189
حدیث حاشیہ:
1۔
امام بخاری ؒ نے حضرت محمود بن ربیع ؓ کے ایک واقعے سے استدلال کیا ہے، یہ استدلال اس صورت میں صحیح ہو سکتا ہے جب قائم کردہ عنوان میں وسعت پیدا کی جائے بصورت دیگر یہاں وضوئے تام تو دور کی بات ہے وضوئے ناقص بھی نہیں، گویا امام بخاری ؒ پانی کے استعمال میں تعمیم کر رہے ہیں، کلی بھی پانی کے استعمال کی ایک شکل ہے، لہٰذا ان کے نزدیک پانی کسی بھی طرح استعمال ہو، سب کا ایک ہی حکم ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس عمل مبارک سے برکت پہنچانا مقصود تھا اور برکت کے لیے طہارت لازم ہے۔
واضح رہے کہ حضرت محمود بن ربیع ؓ کی عمر اس وقت پانچ برس کی تھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں ڈول سے پانی لے کر ان کے منہ پر کلی کی تھی۔
(صحیح البخاري، العلم، حدیث: 77)
2۔
اس سلسلے میں امام بخاری ؒ نے ایک دوسری روایت بھی پیش کی ہے جو حضرت عروہ بن زبیر ؓ نے حضرت مسور بن مخرمہ ؓ اور مروان بن حکم سے نقل کی ہے۔
امام بخاری ؒ نے اسے دوسرے مقام پر سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔
اس میں عروہ بن مسعود ثقفی اپنے تاثرات بیان کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی والہانہ عقیدت سے متعلق ہیں، فرماتے ہیں:
اللہ کی قسم! میں قیصر و کسریٰ نجاشی اور دیگر ملوک و سلاطین کے درباروں میں بطور سفیر گیا ہوں، میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی بادشاہ کے حواری اس کی اتنی تعظیم کرتے ہوں جتنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ کی تعظیم کرتے ہیں۔
اللہ کی قسم! اگر آپ نے تھوکا تو آپ کے اصحاب نے اسے اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور اپنے چہرے اور بدن پر مل لیا۔
آپ نے اگر انھیں کوئی حکم دیا تو ہر شخص اس کی بجاآوری کے لیے دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا۔
اگر آپ نے وضو کیا تو ایسا معلوم ہوتا کہ آپ کے وضو کے باقی ماندہ پانی کے لیے لڑائی ہو جائے گی۔
جب آپ گفتگو کرتے ہیں تو سناٹا چھا جاتا ہے۔
تمام اصحاب ہمہ تن گوش ہو کر سنتے ہیں، ان کے دلوں میں آپ کی تعظیم کا یہ عالم ہے کہ آپ کو نظر بھر کر دیکھ نہیں سکتے۔
(صحیح البخاري، الشروط، حدیث: 2731۔
2732)
3۔
امام بخاری ؒ اس حدیث سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ایک دفعہ استعمال کیا ہوا پانی دوبارہ کام میں لایا جا سکتا ہے اور محل استدلال یہ الفاظ ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین چھینا جھپٹی کرتے اور اسے زمین پر نہ گرنے دیتے۔
اس میں دونوں احتمال ہیں۔
(1)
۔
وضو کے بعد برتن میں بچے ہوئے پانی کے حصول کے لیے کوشش کرتے۔
(2)
۔
ماءِ مستعمل حاصل کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کرتےلیکن ماءِ مستعمل کے لیے مسابقت کرنا زیادہ قرین قیاس ہے، کیونکہ اس میں انوار و برکات جسم مبارک کے اتصال کی وجہ سے زیادہ ہوتی ہے۔
4۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو آپ سے انتہائی محبت و عقیدت تھی، آپ کی ہر ہرادا پر جان قربان کرتے تھے۔
لیکن اصلاحی صاحب کے نزدیک یہ عقیدت محل نظر ہے۔
وہ لکھتے ہیں۔
”رہا روایت کا آخری حصہ کہ لوگ وضو کے پانی پر ٹوٹ ٹوٹ پڑتے تو میرے نزدیک یہ ابن شہاب کا اضافہ ہے جس کو قابل قبول بنانے کے لیے وہ کہتے ہیں کہ فلاں اور فلاں اس کی تصدیق کرتے تھے۔
ابن شہاب نے یہ اضافہ صرف یہ بتانے کے لیے کیا ہے کہ مسلمانوں کی عقیدت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بالکل اندھے بہرے لوگوں کی عقیدت تھی۔
یہ بات اگر کہہ سکتے ہیں تو عام سادہ لوگ کہہ سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ کسی روایت میں آپ یہ بات نہیں پائیں گے کہ سید نا ابو بکر ؓ اور سیدنا عمر ؓ نے کبھی ایسا کیا ہو۔
“ (تدبر حدیث: 289/1)
اس عبارت میں محدثین عظام بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق جو زہر اگلا گیا ہے وہ قارئین سے مخفی نہیں۔
اس کی بنیاد علمی دلائل نہیں بلکہ ان حضرات کی عقل عیار ہے۔
اس پر ہماری درج ذیل گزارشات ہیں:
(1)
۔
عروہ بن مسعود ثقفیؓ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق اپنی قوم کے سامنے جس قسم کے جذبات واحساسات کا اظہار کیا ہے وہ وقت کی اہم ضرورت کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے قلبی تعلق اور حسن ارادت کی واضح دلیل ہے جسے اصلاحی صاحب نے ”اندھے بہرے لوگوں کی عقیدت “ کانام دے کر ان حضرات کا مذاق اڑایا ہے۔
بات صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی لینے کے متعلق تھی کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے مسابقت کرتے تھے۔
اس کو ”اندھے بہرے لوگوں کی عقیدت“ سے تعبیر کرنا عجیب ہے۔
حالانکہ صحیح بخاری ہی کی ایک روایت ہے کہ آپ نے پانی میں اپنے ہاتھ منہ دھوئے اور اس میں کلی فرمائی، پھر اس پانی کے متعلق حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ اور حضرت بلال ؓ کو نوش جان کرنے کا حکم دیا۔
حضرت اُم سلمہ ؓ نے ان سے کہا کہ یہ متبرک پانی میرے لیے بھی بچا کر رکھیں۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4328)
کیا اسے بھی ” اندھے بہرے لوگوں کی عقیدت“ کہا جائے گا؟ مذکورہ روایت مختصر ہے۔
دوسرے مقام پر تفصیلی روایت میں حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے جذبات کا بھی ذکر ہے۔
جب عروہ بن مسعود ؓ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جب مصیبت آئی تو آپ کے اصحاب آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔
یہ سن کر حضرت ابو بکر صدیق ؓ اپنے جذبات پر کنٹرول نہ رکھ سکے اور اسےبایں الفاظ جواب دیا:
”جا اور اپنے بت لات کی شرم گاہ چوس۔
“ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے اس جواب کے متعلق آپ کیا گوہر افشانی فرمائیں گے؟ اسی طرح حضرت عمرؓ نے بھی حدیبیہ کے موقع پر قریش کی شرائط کے متعلق اپنے جذبات کا بایں الفاظ اظہار فرمایا:
”اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر ہم حق پر ہیں تو ان کا دباؤ کیوں قبول کریں اور اپنے دین کو کیوں ذلیل کریں؟“ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں:
میں نے اپنی اس عجلت پسندی کی تلافی کے لیے بہت نیک اعمال کیے۔
حضرت عمر ؓ کے متعلق اصلاحی صاحب کے کیا ارشادات ہیں۔
1۔
امام بخاری ؒ نے حضرت محمود بن ربیع ؓ کے ایک واقعے سے استدلال کیا ہے، یہ استدلال اس صورت میں صحیح ہو سکتا ہے جب قائم کردہ عنوان میں وسعت پیدا کی جائے بصورت دیگر یہاں وضوئے تام تو دور کی بات ہے وضوئے ناقص بھی نہیں، گویا امام بخاری ؒ پانی کے استعمال میں تعمیم کر رہے ہیں، کلی بھی پانی کے استعمال کی ایک شکل ہے، لہٰذا ان کے نزدیک پانی کسی بھی طرح استعمال ہو، سب کا ایک ہی حکم ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس عمل مبارک سے برکت پہنچانا مقصود تھا اور برکت کے لیے طہارت لازم ہے۔
واضح رہے کہ حضرت محمود بن ربیع ؓ کی عمر اس وقت پانچ برس کی تھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں ڈول سے پانی لے کر ان کے منہ پر کلی کی تھی۔
(صحیح البخاري، العلم، حدیث: 77)
2۔
اس سلسلے میں امام بخاری ؒ نے ایک دوسری روایت بھی پیش کی ہے جو حضرت عروہ بن زبیر ؓ نے حضرت مسور بن مخرمہ ؓ اور مروان بن حکم سے نقل کی ہے۔
امام بخاری ؒ نے اسے دوسرے مقام پر سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔
اس میں عروہ بن مسعود ثقفی اپنے تاثرات بیان کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی والہانہ عقیدت سے متعلق ہیں، فرماتے ہیں:
اللہ کی قسم! میں قیصر و کسریٰ نجاشی اور دیگر ملوک و سلاطین کے درباروں میں بطور سفیر گیا ہوں، میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی بادشاہ کے حواری اس کی اتنی تعظیم کرتے ہوں جتنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ کی تعظیم کرتے ہیں۔
اللہ کی قسم! اگر آپ نے تھوکا تو آپ کے اصحاب نے اسے اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور اپنے چہرے اور بدن پر مل لیا۔
آپ نے اگر انھیں کوئی حکم دیا تو ہر شخص اس کی بجاآوری کے لیے دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا۔
اگر آپ نے وضو کیا تو ایسا معلوم ہوتا کہ آپ کے وضو کے باقی ماندہ پانی کے لیے لڑائی ہو جائے گی۔
جب آپ گفتگو کرتے ہیں تو سناٹا چھا جاتا ہے۔
تمام اصحاب ہمہ تن گوش ہو کر سنتے ہیں، ان کے دلوں میں آپ کی تعظیم کا یہ عالم ہے کہ آپ کو نظر بھر کر دیکھ نہیں سکتے۔
(صحیح البخاري، الشروط، حدیث: 2731۔
2732)
3۔
امام بخاری ؒ اس حدیث سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ایک دفعہ استعمال کیا ہوا پانی دوبارہ کام میں لایا جا سکتا ہے اور محل استدلال یہ الفاظ ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین چھینا جھپٹی کرتے اور اسے زمین پر نہ گرنے دیتے۔
اس میں دونوں احتمال ہیں۔
(1)
۔
وضو کے بعد برتن میں بچے ہوئے پانی کے حصول کے لیے کوشش کرتے۔
(2)
۔
ماءِ مستعمل حاصل کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کرتےلیکن ماءِ مستعمل کے لیے مسابقت کرنا زیادہ قرین قیاس ہے، کیونکہ اس میں انوار و برکات جسم مبارک کے اتصال کی وجہ سے زیادہ ہوتی ہے۔
4۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو آپ سے انتہائی محبت و عقیدت تھی، آپ کی ہر ہرادا پر جان قربان کرتے تھے۔
لیکن اصلاحی صاحب کے نزدیک یہ عقیدت محل نظر ہے۔
وہ لکھتے ہیں۔
”رہا روایت کا آخری حصہ کہ لوگ وضو کے پانی پر ٹوٹ ٹوٹ پڑتے تو میرے نزدیک یہ ابن شہاب کا اضافہ ہے جس کو قابل قبول بنانے کے لیے وہ کہتے ہیں کہ فلاں اور فلاں اس کی تصدیق کرتے تھے۔
ابن شہاب نے یہ اضافہ صرف یہ بتانے کے لیے کیا ہے کہ مسلمانوں کی عقیدت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بالکل اندھے بہرے لوگوں کی عقیدت تھی۔
یہ بات اگر کہہ سکتے ہیں تو عام سادہ لوگ کہہ سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ کسی روایت میں آپ یہ بات نہیں پائیں گے کہ سید نا ابو بکر ؓ اور سیدنا عمر ؓ نے کبھی ایسا کیا ہو۔
“ (تدبر حدیث: 289/1)
اس عبارت میں محدثین عظام بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق جو زہر اگلا گیا ہے وہ قارئین سے مخفی نہیں۔
اس کی بنیاد علمی دلائل نہیں بلکہ ان حضرات کی عقل عیار ہے۔
اس پر ہماری درج ذیل گزارشات ہیں:
(1)
۔
عروہ بن مسعود ثقفیؓ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق اپنی قوم کے سامنے جس قسم کے جذبات واحساسات کا اظہار کیا ہے وہ وقت کی اہم ضرورت کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے قلبی تعلق اور حسن ارادت کی واضح دلیل ہے جسے اصلاحی صاحب نے ”اندھے بہرے لوگوں کی عقیدت “ کانام دے کر ان حضرات کا مذاق اڑایا ہے۔
بات صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی لینے کے متعلق تھی کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے مسابقت کرتے تھے۔
اس کو ”اندھے بہرے لوگوں کی عقیدت“ سے تعبیر کرنا عجیب ہے۔
حالانکہ صحیح بخاری ہی کی ایک روایت ہے کہ آپ نے پانی میں اپنے ہاتھ منہ دھوئے اور اس میں کلی فرمائی، پھر اس پانی کے متعلق حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ اور حضرت بلال ؓ کو نوش جان کرنے کا حکم دیا۔
حضرت اُم سلمہ ؓ نے ان سے کہا کہ یہ متبرک پانی میرے لیے بھی بچا کر رکھیں۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4328)
کیا اسے بھی ” اندھے بہرے لوگوں کی عقیدت“ کہا جائے گا؟ مذکورہ روایت مختصر ہے۔
دوسرے مقام پر تفصیلی روایت میں حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے جذبات کا بھی ذکر ہے۔
جب عروہ بن مسعود ؓ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جب مصیبت آئی تو آپ کے اصحاب آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔
یہ سن کر حضرت ابو بکر صدیق ؓ اپنے جذبات پر کنٹرول نہ رکھ سکے اور اسےبایں الفاظ جواب دیا:
”جا اور اپنے بت لات کی شرم گاہ چوس۔
“ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے اس جواب کے متعلق آپ کیا گوہر افشانی فرمائیں گے؟ اسی طرح حضرت عمرؓ نے بھی حدیبیہ کے موقع پر قریش کی شرائط کے متعلق اپنے جذبات کا بایں الفاظ اظہار فرمایا:
”اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر ہم حق پر ہیں تو ان کا دباؤ کیوں قبول کریں اور اپنے دین کو کیوں ذلیل کریں؟“ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں:
میں نے اپنی اس عجلت پسندی کی تلافی کے لیے بہت نیک اعمال کیے۔
حضرت عمر ؓ کے متعلق اصلاحی صاحب کے کیا ارشادات ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 189]
Sahih Bukhari Hadith 189 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← المسور بن مخرمة القرشي