سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
قضائے حاجت کے آداب
ترقیم الباني: 2749 ترقیم فقہی: -- 436
-" إذا ذهبتم إلى الغائط فاتقوا المجالس على الظل والطريق، خذوا النبل (¬1) واستنشبوا على سوقكم واستجمروا وترا".
سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے آئے تو اپنی قوم کو کچھ باتیں بیان کیں اور (امورِ دین) کی تعلیم دی۔ ایک دن ایک آدمی نے ان کے ساتھ مذاق کرتے ہوئے کہا: سراقہ کے لیے تو صرف یہی چیز رہ گئی ہے کہ وہ تمہیں قضائے حاجت کا طریقہ سکھائے۔ سراقہ نے (بات کو سنجیدگی میں تبدیل کرتے ہوئے) کہا: جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ تو سایہ دار مقامات اور راستوں پر بیٹھنے سے بچو، چھوٹے چھوٹے پتھروں کا اہتمام کرو، اپنی (بائیں) پنڈلی پر زور دو اور طاق (پتھروں) سے استنجا کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 436]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2749
ترقیم الباني: 3120 ترقیم فقہی: -- 437
- (إذا تغوَّط الرَّجُلانِ، فليَتَوارَ كلَّ واحدٍ منهما عن صاحبِهِ، ولا يتحدَّثان على طوفِهِما، فإن الله يَمقُتُ على ذلك) .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو آدمی قضائے حاجت کے لیے نکلیں تو ان میں سے ہر ایک دوسرے ساتھی سے چھپ جائے اور پاخانہ کرتے وقت آپس میں باتیں نہ کریں، کیونکہ ایسا کرنے پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 437]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3120
ترقیم الباني: 1071 ترقیم فقہی: -- 438
-" كان إذا أراد حاجة لا يرفع ثوبه حتى يدنو من الأرض".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو اس وقت تک کپڑا نہ اٹھاتے، جب تک زمین کے قریب نہ ہو جاتے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 438]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1071
ترقیم الباني: 1159 ترقیم فقہی: -- 439
-" كان إذا ذهب المذهب أبعد".
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلتے تو دور چلے جاتے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 439]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1159
ترقیم الباني: 1072 ترقیم فقہی: -- 440
-" كان يذهب لحاجته إلى المغمس. قال نافع:" المغمس" ميلين أو ثلاثة من مكة".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے مغمس مقام تک چلے تھے۔ نافع کہتے ہیں: مغمس، مکہ مکرمہ سے دو یا تین میلوں کے فاصلے پر واقع تھا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 440]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1072