صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ بَيْعِ الْحَطَبِ وَالْكَلإِ:
باب: لکڑی اور گھاس بیچنا۔
حدیث نمبر: 2373
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ أَحْبُلًا، فَيَأْخُذَ حُزْمَةً مِنْ حَطَبٍ فَيَبِيعَ، فَيَكُفَّ اللَّهُ بِهِ وَجْهَهُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أُعْطِيَ أَمْ مُنِعَ".
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ہاشم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے زبیر بن عوام نے رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص رسی لے کر لکڑیوں کا گھٹا لائے، پھر اسے بیچے اور اس طرح اللہ تعالیٰ اس کی آبرو محفوظ رکھے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے اور (بھیک) اسے دی جائے یا نہ دی جائے۔ اس کی بھی کوئی امید نہ ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرْبِ والْمُسَاقَاةِ/حدیث: 2373]
حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص رسیاں اٹھا کر لکڑیوں کا گٹھا بنائے، پھر اسے فروخت کر دے، اس کے باعث اللہ تعالیٰ اس کی خود داری محفوظ رکھے تو یہ اس بات سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرے، اسے کچھ دیا جائے یا نہ دیا جائے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرْبِ والْمُسَاقَاةِ/حدیث: 2373]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2374
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَنْ يَحْتَطِبَ أَحَدُكُمْ حُزْمَةً عَلَى ظَهْرِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ أَحَدًا فَيُعْطِيَهُ أَوْ يَمْنَعَهُ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب، ان سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام ابوعبید نے، اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر کوئی شخص لکڑیوں کا گٹھا اپنی پیٹھ پر (بیچنے کے لیے) لیے پھرے تو وہ اس سے اچھا ہے کہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے۔ پھر خواہ اسے کچھ دے یا نہ دے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرْبِ والْمُسَاقَاةِ/حدیث: 2374]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنی کمر پر لکڑیوں کا گٹھا لائے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ دوسروں سے سوال کرے، خواہ کوئی اس کو دے یا نہ دے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرْبِ والْمُسَاقَاةِ/حدیث: 2374]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2375
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، أَنَّهُ قَالَ:" أَصَبْتُ شَارِفًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَغْنَمٍ يَوْمَ بَدْرٍ، قَالَ: وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَارِفًا أُخْرَى، فَأَنَخْتُهُمَا يَوْمًا عِنْدَ بَابِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِمَا إِذْخِرًا لِأَبِيعَهُ، وَمَعِي صَائِغٌ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ فَأَسْتَعِينَ بِهِ عَلَى وَلِيمَةِ فَاطِمَةَ، وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ المُطَّلِبِ يَشْرَبُ فِي ذَلِكَ الْبَيْتِ مَعَهُ قَيْنَةٌ، فَقَالَتْ: أَلَا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ، فَثَارَ إِلَيْهِمَا حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ، فَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا، ثُمَّ أَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، قُلْتُ لِابْنِ شِهَابٍ: وَمِنَ السَّنَامِ، قَالَ: قَدْ جَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا فَذَهَبَ بِهَا، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَنَظَرْتُ إِلَى مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِي، فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ، فَخَرَجَ وَمَعَهُ زَيْدٌ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَدَخَلَ عَلَى حَمْزَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ فَرَفَعَ حَمْزَةُ بَصَرَهُ، وَقَالَ: هَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِآبَائِي؟ فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَهْقِرُ حَتَّى خَرَجَ عَنْهُمْ، وَذَلِكَ قَبْلَ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے ابن شہاب نے خبر دی، انہیں زید العابدین علی بن حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے، ان سے ان کے والد حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی لڑائی کے موقع پر مجھے ایک جوان اونٹنی غنیمت میں ملی تھی اور ایک دوسری اونٹنی مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عنایت فرمائی تھی۔ ایک دن ایک انصاری صحابی کے دروازے پر میں ان دونوں کو اس خیال سے باندھے ہوئے تھا کہ ان کی پیٹھ پر اذخر (عرب کی ایک خوشبودار گھاس جسے سنار وغیرہ استعمال کرتے تھے) رکھ کر بیچنے لے جاؤں گا۔ بنی قینقاع کا ایک سنار بھی میرے ساتھ تھا۔ اس طرح (خیال یہ تھا کہ) اس کی آمدنی سے فاطمہ رضی اللہ عنہا (جن سے میں نکاح کرنے والا تھا ان) کا ولیمہ کروں گا۔ حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اسی (انصاری کے) گھر میں شراب پی رہے تھے۔ ان کے ساتھ ایک گانے والی بھی تھی۔ اس نے جب یہ مصرعہ پڑھا: ”ہاں: اے حمزہ! اٹھو، فربہ جوان اونٹنیوں کی طرف“ (بڑھ) حمزہ رضی اللہ عنہ جوش میں تلوار لے کر اٹھے اور دونوں اونٹنیوں کے کوہان چیر دیئے۔ ان کے پیٹ پھاڑ ڈالے۔ اور ان کی کلیجی نکال لی (ابن جریج نے بیان کیا کہ) میں نے ابن شہاب سے پوچھا، کیا کوہان کا گوشت بھی کاٹ لیا تھا۔ تو انہوں نے بیان کیا کہ ان دونوں کے کوہان کاٹ لیے اور انہیں لے گئے۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا، مجھے یہ دیکھ کر بڑی تکلیف ہوئی۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ کی خدمت میں اس وقت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ میں نے آپ کو اس واقعہ کی اطلاع دی تو آپ تشریف لائے۔ زید رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ ہی تھے اور میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خفگی ظاہر فرمائی تو حمزہ نے نظر اٹھا کر کہا ”تم سب میرے باپ دادا کے غلام ہو۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں لوٹ کر ان کے پاس سے چلے آئے۔ یہ شراب کی حرمت سے پہلے کا قصہ ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرْبِ والْمُسَاقَاةِ/حدیث: 2375]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ میں نے بدر کے دن مال غنیمت میں سے ایک جوان اونٹنی حاصل کی اور ایک اونٹنی مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمائی تھی۔ میں نے ایک دن ان دونوں اونٹنیوں کو ایک انصاری شخص کے دروازے پر بٹھا دیا۔ میرا ارادہ تھا کہ میں ان پر اذخر گھاس لا کر فروخت کروں۔ میرے ساتھ بنو قینقاع کا ایک زرگر بھی تھا۔ میں چاہتا تھا کہ اس کی مدد حاصل کروں اور اذخر فروخت کر کے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کا ولیمہ کروں۔ اس وقت حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اس گھر میں مے نوشی کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ ایک گانے والی عورت بھی تھی۔ اس نے جب یہ مصرع گایا: اے حمزہ! اٹھو فربہ جوان اونٹنیوں کے لیے، تو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ تلوار لے کر ان کی طرف جھپٹ پڑے، ان کے کوہان کاٹ ڈالے اور پیٹ بھی پھاڑ ڈالے، پھر ان دونوں کی کلیجیاں نکال لیں۔ (راویِ حدیث ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ) میں نے ابن شہاب رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کوہانوں میں سے کیا لیا؟ تو انہوں نے کہا: کوہان تو وہ کاٹ کر لے گئے۔ ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اس منظر کو دیکھا تو انتہائی پریشان ہوا، چنانچہ میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ کے پاس حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ میں نے تمام روداد بیان کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے۔ آپ کے ساتھ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ میں بھی آپ کے ساتھ ہو لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو ان پر اظہارِ ناراضی فرمایا۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے نظر اٹھائی اور کہا: تم میرے باپ دادا کے غلام ہی ہو۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں لوٹ آئے۔ یہ واقعہ تحریمِ خمر سے پہلے کا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرْبِ والْمُسَاقَاةِ/حدیث: 2375]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة