🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

سجدہ سہو کی مختلف کیفیات
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1356 ترقیم فقہی: -- 682
-" إذا سها أحدكم في صلاته، فلم يدر واحدة صلى أو اثنتين، فليبن على واحدة، فإن لم يدر ثنتين صلى أو ثلاثا؟ فليبن على ثنتين، وإن لم يدر ثلاثا صلى أو أربعا؟ فليبن على ثلاثا، وليسجد سجدتين قبل أن يسلم".
سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی نماز میں بھول جائے اور وہ یہ نہ جان سکے کہ ایک رکعت پڑھی ہے یا دو؟ تو اپنی نماز کی بنیاد ایک پر رکھے اور جب اسے یہ معلوم نہ ہو سکے کہ دو پڑھی ہیں یا تین؟ تو دو پر بنیاد رکھے اور اسی طرح جب تین اور چار میں شک ہو جائے تو تین کو یقینی سمجھے اور (اس حساب سے نماز مکمل کر کے) سلام سے پہلے دو سجدے کر لے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 682]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1356

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2457 ترقیم فقہی: -- 683
-" صلى لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة من الصلوات (وفي رواية: صلاة الظهر) فقام من اثنتين [ولم يجلس] فسبح به [فلما اعتدل مضى ولم يرجع] [فقام الناس معه]، فمضى حتى [إذا] فرغ من صلاته ولم يبق إلا السلام [ وانتظر الناس تسليمه] سجد سجدتين [يكبر في كل سجدة، وهو جالس] قبل أن يسلم [ثم سلم] [وسجد الناس معه، مكان ما نسي من الجلوس]".
سیدنا عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک نماز اور (ایک روایت کے مطابق ظہر کی نماز) پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد (تشہد کے لیے) بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہو گئے، (آگاہ کرنے کے لیے) سبحان اللہ تو کہا گیا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدے کھڑے ہو گئے تو نماز جاری رکھی اور واپس نہ لوٹے، لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو جاری رکھا، یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہونے لگے، صرف سلام باقی تھا اور لوگ بھی سلام پھیرنے کا انتظار کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبل از سلام بھولنے کی وجہ سے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کئے اور ہر سجدے کے لیے «‏‏‏‏اللہ اكبر» کہا، پھر سلام پھیر دیا، لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدے کئے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 683]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2457

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 321 ترقیم فقہی: -- 684
-" إذا قام الإمام في الركعتين، فإن ذكر قبل أن يستوي قائما فليجلس، فإن استوى قائما فلا يجلس، ويسجد سجدتي السهو".
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام (بھول جائے اور تشہد کے لئے بیٹھنے کے بجائے) دو رکعتوں کے بعد کھڑا ہونا شروع ہو جائے، اگر اسے سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آ جائے تو بیٹھ جائے اور اگر سیدھا کھڑا ہو جائے تو (تیسری رکعت جاری رکھے اور تشہد کے لیے) نہ بیٹھے اور (درمیانہ تشہد رہ جانے کی وجہ سے سلام سے پہلے) دو سجدے کر لے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 684]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 321

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1362 ترقیم فقہی: -- 685
-" إذا صلى أحدكم فلم يدر كيف صلى؟ فليسجد سجدتين وهو جالس".
عیاض بن ہلال کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابوسعید سے پوچھا: ایک آدمی نماز تو پڑھتا ہے لیکن وہ (بھول چوک کی وجہ سے) یہ نہیں جانتا کہ کتنی پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سےکوئی آدمی نماز پڑھے اور اسے یہ معلوم نہ ہو سکے کہ کتنی پڑھی ہے تو بیٹھے بیٹھےدو سجدے کر لے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 685]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1362

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1889 ترقیم فقہی: -- 686
-" سجدتا السهو تجزي في الصلاة من كل زيادة ونقصان".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھول چوک کی وجہ سے کئے جانے والے دو سجدے نماز میں ہونے والی ہر قسم کی کمی و بیشی سے کفایت کرتے ہیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 686]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1889

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں