سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
ایک مقتدی کا امام کی دائیں جانب اس کے برابر کھڑے ہونا
ترقیم الباني: 141 ترقیم فقہی: -- 815
- عن أنس بن مالك: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتى أم حرام، فأتيناه بتمر وسمن فقال:" ردوا هذا في وعائه وهذا في سقائه فإني صائم".
جناب ثابت، انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ام حرام رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، ہم کھجور اور گھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ (کھجور) برتن میں اور یہ (گھی) مشکیزے میں واپس کر دو،کیونکہ میں روزے دار ہوں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہمیں دو رکعت نفلی نماز پڑھائی، ام حرام اور ام سلیم کو ہمارے پیچھے اور مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کیا، جیسا کہ ثابت نے بیان کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چٹائی پر نفلی نماز پڑھائی۔ جب نماز مکمل کی تو ام سلیم نے کہا: یہ آپ کا پیارا سا خادم انس ہے، اس کے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیں۔ جواباً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دنیا و آخرت کی ہر خیر و بھلائی کی دعا کی۔ پھر فرمایا: ”اے اللہ! اس کے مال و اولاد میں کثرت فرما اور پھر اس کے لیے اس میں برکت فرما۔“ انس کہتے ہیں: مجھے میری بیٹی نے بتلایا کہ میری اولاد میں نوے سے زائد افرد ہو چکے ہیں اور انصار کا کوئی آدمی مجھ سے زیادہ مال والا نہیں تھا۔ پھر سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ثابت! میں سونے اور چاندی کا مالک نہیں ہوں، مگر اس انگوٹھی کا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 815]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 141
ترقیم الباني: 2590 ترقیم فقہی: -- 816
-" ما شأني (وفي رواية: ما لك) أجعلك حذائي فتخنس؟!".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز شروع کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کھینچا اور اپنے برابر کھڑا کر دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں مشغول ہوئے تو میں پیچھے ہٹ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہے، جب فارغ ہوئے تو مجھے فرمایا: ”تجھے کیا ہوا، میں نے تجھے اپنے برابر کھڑا کیا اور تو پیچھے ہٹ گیا؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھلا کیا کسی کو زیب دیتا ہے کہ وہ آپ کے برابر نماز پڑھے، آپ تو اللہ کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت کچھ عطا کیا ہے۔ (میں نے ان باتوں کے ذریعے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حیرت و تعجب میں ڈال دیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ میرے علم و فہم میں اضافہ فرمائے۔ امام احمد کی روایت میں یہ زیادتی ہے: پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ سو گئے اور سانس لینے کی آواز آنے لگی، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! نماز پڑھائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، نماز پڑھائی اور دوبارہ وضو نہیں کیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 816]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2590