🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

دوران سفر روزہ رکھنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 85 ترقیم فقہی: -- 830
-" ارحلوا لصاحبيكم واعملوا لصاحبيكم! ادنوا فكلا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھانا لایا گیا، اس حال میں آپ ”مرالظہران“ مقام پر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”قریب ہو جاؤ اور کھاؤ۔“ انہوں نے کہا: ہم تو روزے دار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے ساتھیوں کے لیے سواری پر کجاوہ باندھو اور ان کے لیے کام کرو، قریب ہو جاؤ اور کھاؤ۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 830]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 85

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2884 ترقیم فقہی: -- 831
-" أي ذلك عليك أيسر فافعل. يعني إفطار رمضان أو صيامه في السفر".
سیدنا حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تمہارے لیے آسان ہے وہ کر لو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 831]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2884

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 192 ترقیم فقہی: -- 832
-" هي رخصة ـ يعني الفطر في السفر ـ من الله، فمن أخذ بها فحسن، ومن أحب أن يصوم، فلا جناح عليه".
سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، (اگر میں ایسے کروں تو) کیا مجھ پر کوئی گناہ ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا: ”یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے، جو اس کو قبول کرے گا، سو اچھی بات ہو گی اور جو روزہ رکھنا چاہے، اس پر کوئی گناہ نہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 832]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 192

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 194 ترقیم فقہی: -- 833
-" صم إن شئت، وأفطر إن شئت".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: بے شک سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! میں لگاتار روزے رکھتا ہوں، تو کیا میں سفر میں روزہ رکھ سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(تیری مرضی ہے) چاہے تو روزہ رکھ لے اور چاہے تو ترک کر دے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 833]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 194

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2595 ترقیم فقہی: -- 834
-" أما يكفيك في سبيل الله ومع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى تصوم؟!".
ابوزبیر، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جو الٹ پلٹ ہو رہا تھا۔ آپ نے اس کے بارے میں پوچھا؟ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ روزے دار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور روزہ افطار کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”کیا تجھے یہ (نیک عمل) کافی نہیں ہے کہ رسول اللہ کی صحبت میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے کہ تو نے روزہ رکھنا بھی شروع کر دیا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 834]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2595

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 191 ترقیم فقہی: -- 835
-" كان يصوم في السفر ويفطر، ويصلي ركعتين لا يدعهما، يقول: لا يزيد عليهما. يعني الفريضة".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوران سفر روزہ رکھتے بھی تھے اور ترک بھی کرتے تھے اور (سفر میں ظہر و عصر و عشاء) کی دو دو رکعتیں چھوڑتے تھے اور دو رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 835]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 191

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں