🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

شریعت کی نافرمانی میں خلیفہ کی کوئی اطاعت نہیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2324 ترقیم فقہی: -- 1309
-" من أمركم من الولاة بمعصية فلا تطيعوه".
سیدنا ابوسعید خدری رضى اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علقمہ بن مجزز رضى اللہ عنہ کو ایک لشکر، (جس میں میں بھی تھا) کا امیر بنا کر بھیجا۔ جب وہ غزدہ کی جگہ پر پہنچا یا راستے میں تھا، تو لشکر کے ایک حصے نے اس سے اجازت طلب کی، اس نے اجازت دے دی اور سیدنا عبداللہ بن حذافہ بن قیس سہمی رضى اللہ عنہ کو ان کا امیر بنا دیا، میں بہی انھی کے ساتھ غزوہ کرنے والوں میں تھا۔ وہ راستے میں ہی تھا کہ اس نے گرمی حاصل کرنے کے لیے یا کوئی چیز پکانے کے لیے آگ جلائی۔ لشکر کے امیر عبداللہ نے کہا:، جن کے مزاج میں خوش طبعی پائی جاتی تہی، کیا تمہارے لیے ضروری نہیں کہ تم میرا حکم سنو اور مانو؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں؛ اس نے کہا: میں تمہیں جس چیز کا حکم دوں گا، تم اس کی تعیل کرو گے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: میں تمہیں سختی کے ساتھ حکم دیتا ہوں کہ اس آگ میں کود پڑو۔ لوگوں نے کمروں پر پیٹیاں باندہ لیں۔ جب اسے گمان ہوا کہ یہ آگ میں کودنے والے ہیں، تو ان سے کہا: ٹھر جاؤ، میں تو تمہارے ساتھ مذاق کر رہا تہا۔ جب ہم نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو یہ سارا واقعہ آپ صلى اللہ علیہ وسلم کو سنایا۔ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو امرا تمہیں (اللہ تعالىٰ کی) نافرمانی کا حکم دیں، ان کی اطاعت نہ کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1309]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2324

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں