🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. بَابُ مَنْ عَدَلَ عَشْرًا مِنَ الْغَنَمِ بِجَزُورٍ فِي الْقَسْمِ:
باب: تقسیم میں ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر سمجھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2507
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ، فَأَصَبْنَا غَنَمًا وَإِبِلًا، فَعَجِلَ الْقَوْمُ، فَأَغْلَوْا بِهَا الْقُدُورَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ عَدَلَ عَشْرًا مِنَ الْغَنَمِ بِجَزُورٍ، ثُمَّ إِنَّ بَعِيرًا نَدَّ وَلَيْسَ فِي الْقَوْمِ إِلَّا خَيْلٌ يَسِيرَةٌ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ فَحَبَسَهُ بِسَهْمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا، قَالَ: قَالَ جَدِّي: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَرْجُو أَوْ نَخَافُ أَنْ نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى، فَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ؟ فَقَالَ: اعْجَلْ أَوْ أَرْنِي مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَكُلُوا لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو وکیع نے خبر دی، انہیں سفیان ثوری نے، انہیں ان کے والد سعید بن مسروق نے، انہیں عبایہ بن رفاعہ نے اور ان سے ان کے دادا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہامہ کے مقام ذوالحلیفہ میں تھے (غنیمت میں) ہمیں بکریاں اور اونٹ ملے تھے۔ بعض لوگوں نے جلدی کی اور (جانور ذبح کر کے) گوشت کو ہانڈیوں میں چڑھا دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے گوشت کی ہانڈیوں کو الٹ دیا گیا۔ پھر (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم میں) دس بکریوں کا ایک اونٹ کے برابر حصہ رکھا۔ ایک اونٹ بھاگ کھڑا ہوا۔ قوم کے پاس گھوڑوں کی کمی تھی۔ ایک شخص نے اونٹ کو تیر مار کر روک لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان جانوروں میں بھی جنگی جانوروں کی طرح وحشت ہوتی ہے۔ اس لیے جب تک ان کو نہ پکڑ سکو تو تم ان کے ساتھ ہی ایسا سلوک کیا کرو۔ عبایہ نے بیان کیا کہ میرے دادا نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ہمیں امید ہے یا خطرہ ہے کہ کہیں کل دشمن سے مڈبھیڑ نہ ہو جائے اور چھری ہمارے ساتھ نہیں ہے۔ کیا دھار دار لکڑی سے ہم ذبح کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، لیکن ذبح کرنے میں جلدی کرو۔ جو چیز خون بہا دے (اسی سے کاٹ ڈالو) اگر اس پر اللہ کا نام لیا جائے تو اس کو کھاؤ اور ناخن اور دانت سے ذبح نہ کرو۔ اس کی وجہ میں بتلاتا ہوں دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھریاں ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّرِكَةِ/حدیث: 2507]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہامہ کے علاقے ذوالحلیفہ میں تھے۔ ہم نے بکریاں اور اونٹ غنیمت میں حاصل کیے۔ لوگوں نے جلدی کر کے ان کا گوشت ہانڈیوں پر چڑھا دیا۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہانڈیوں کو الٹ دینے کا حکم دیا تو انہیں الٹ دیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم میں ایک اونٹ کے برابر دس بکریاں رکھیں۔ ان میں سے ایک اونٹ بھاگ نکلا۔ لوگوں کے پاس گھوڑے بہت کم تھے تو ایک آدمی نے اسے تیر مارا اور روک دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ ان چوپایوں میں کوئی کوئی وحشی جانوروں کی طرح بھاگ نکلتے ہیں، تو جب تم ان پر قابو نہ پا سکو تو ایسا ہی کرو۔ عبایہ (راویِ حدیث) کہتے ہیں کہ میرے دادا رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں اندیشہ ہے کہ کل ہمارا دشمن سے مقابلہ ہوگا اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں (جس سے جانور ذبح کریں) تو کیا بانس کی کھپچی سے ذبح کر لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جلدی کرو، جو چیز خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ، مگر دانت اور ناخن سے ذبح نہ کرو۔ میں اس کی تمہیں وجہ بتاتا ہوں کہ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن اہل حبشہ کی چھری ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّرِكَةِ/حدیث: 2507]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں