🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

پہلوان کون؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3295 ترقیم فقہی: -- 2416
- (ألا أدُلُّكم على مَن هو أشدُّ منه؟ (يعني: الصَّريعَ) رجل ظلمَه رجل، قكظم غيظه؛ فغلبه، وغلب شيطانه، وغلب شيطان صاحبه، (وفي رواية) : الذي يملك نفسه عند الغضب) .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ ‏‏‏‏سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو پتھر اٹھا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ پتھر اٹھا رہے ہیں۔ ان کی مراد لوگوں کی مضبوطی (‏‏‏‏اور طاقت) بیان کرنا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو اس سے بھی زیادہ مضبوط ہے؟ یہ وہ شخص ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر کنٹرول رکھتا ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے، جو کشتی کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ‏‏‏‏یہ کیا ہے؟ ‏‏‏‏لوگوں نے کہا: یہ فلاں پہلوان ہے، جو کشتی میں ہر ایک کو پچھاڑ دیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسا شخص نہ بتاؤں، جو اس سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔ یہ وہ آدمی ہے، جس پر کسی شخص نے زیادتی کی ہو۔ لیکن وہ اپنا غصہ پی گیا ہو اور اس طرح (‏‏‏‏ظالم) پر، اپنے شیطان پر اور اپنے مقابل کے شیطان پر غالب آ گیا ہو۔ یعنی اس نے تینوں کو پچھاڑ دیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2416]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3295

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3406 ترقیم فقہی: -- 2417
- (ما تَعُدُّون الرَّقُوب فيكم؟ قال: قلنا: الذي لا يولدُ له. قالَ: ليسَ ذاكَ بالرّقُوبِ، ولكنّه الرّجلُ الذي لم يقدِّم من ولده شيئاً. قال: فما تعدُّون الصُّرَعةَ فيكُم؟ قال: قلنا: الذي لا يصرَعُه الرجِال. قال: ليسَ بذلكَ، ولكنّه الذي يملِكُ نفسهُ عند الغَضَبِ) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‏‏‏‏تم اپنے مابین کس کو «رقوب» ‏‏‏‏ یعنی لاولد شمار کرتے ہو؟ صحابہ نے کہا: جس کی اولاد نہیں ہوتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے آدمی کو «رقوب» نہیں کہتے، بلکہ ایسے شخص کو کہتے ہیں جس نے اپنی اولاد میں سے (‏‏‏‏ ‏‏‏‏کوئی بچہ) آگے نہ بھیجا ہو۔ (‏‏‏‏ ‏‏‏‏یعنی اس کا کوئی بچہ فوت نہ ہوا ہو) پھر فرمایا: تم کس کو زبردست پہلوان شمار کرتے ہو؟ صحابہ نے کہا: جسے کوئی آدمی پچھاڑ نہ سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا شخص تو پہلوان نہیں ہوتا، بلکہ پہلوان تو وہ ہے جو غصے کی وقت اپنے نفس پر قابو پا لے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2417]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3406

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں