🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

مدعو لوگوں کا داعی سے زائد افراد کے لیے اجازت طلب کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3552 ترقیم فقہی: -- 2769
- (إنّك دعوتنا خامس خمسة، وهذا رجلٌ قد تبعنا، فإن شئت أذنت له، وإن شئت تركته. قال: بلٌ أذنتُ له) .
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی، جسے ابوشعیب کہا جاتا تھا، کا غلام قصاب تھا۔ اس نے اپنے غلام سے کہا: کھانا تیار کرو، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پانچ آدمیوں سمیت دعوت دینے کے لیے جا رہا ہوں۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پانچ افراد سمیت بلایا۔ (‏‏‏‏جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانے لگے تو) ایک آدمی ان کے پیچھے چل پڑا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ہم پانچ افراد کو دعوت دی ہے، یہ آدمی ہمارے پیچھے چلتا رہا، اگر تمہاری مرضی ہو تو اسے اجازت دے دو اور مرضی نہ ہونے کی صورت میں رہنے دو۔ اس نے کہا۔ کیوں نہیں، میں اسے (‏‏‏‏کھانا کھانے کی) اجازت دوں گا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2769]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3552

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3579 ترقیم فقہی: -- 2770
- (إنّه اتبعنا رجلٌ لم يكن معنا حين دعوتنا؛ فإن أذنتَ له دخل) .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی ہمارے پیچھے چلتا رہا، جب تم نے ہمیں دعوت دی تھی، اس وقت وہ موجود نہیں تھا، اب اگر تم اسے اجازت دے دو تو وہ اندر آ جائے۔ یہ حدیث سیدنا ابومسعود بدری اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ یہ ابومسعود بدری کی حدیث کے الفاظ ہیں، (‏‏‏‏پوری روایت یوں ہے): سیدنا ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جسے ابوشعیب کہا جاتا تھا، اپنے قصاب غلام کے پاس آیا اور اسے حکم دیا کہ پانچ آدمیوں کے لیے کھانا تیار کرو کیونکہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے محسوس کیا ہے کہ آپ بھوکے ہیں۔ اس نے کھانا تیار کیا، پھر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ہم نشینوں کو بلا بھیجا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو ایک آدمی ان کے پیچھے چل پڑا، جو اس وقت موجود نہیں تھا جب دعوت دی گئی تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (‏‏‏‏داعی کے گھر کے) دروازے پر پہنچے تو گھر والے سے فرمایا: . . . اس نے کہا: میں اسے اجازت دیتا ہوں، وہ اندر آ جائے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2770]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3579

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں