🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

«لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ» کی فضیلت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2166 ترقیم فقہی: -- 2984
-" أمرني خليلي صلى الله عليه وسلم بسبع: أمرني بحب المساكين والدنو منهم، وأمرني أن أنظر إلى من هو دوني ولا أنظر إلى من هو فوقي، وأمرني أن أصل الرحم وإن أدبرت، وأمرني أن لا أسأل أحدا شيئا، وأمرني أن أقول بالحق وإن كان مرا، وأمرني أن لا أخاف في الله لومة لائم، وأمرني أن أكثر من قول:" لا حول ولا قوة إلا بالله"، فإنهن من كنز تحت العرش، (وفي رواية: فإنها كنز من كنوز الجنة) ".
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سات امور کا حکم دیا: (‏‏‏‏۱) مساکین سے محبت کرنے اور ان سے قریب رہنے کا حکم دیا (۲) اپنے سے کم تر شخص کو دیکھنے اور اپنے سے برتر شخص کی طرف توجہ نہ کرنے کا حکم دیا (‏‏‏‏۳) مجھے صلہ رحمی کرنے کا حکم دیا اگرچہ وہ رخ پھیرنے لگے (‏‏‏‏۴) مجھے حکم دیا کہ میں کسی سے کوئی سوال نہ کروں (‏‏‏‏۵) مجھے حکم دیا کہ میں حق بات کہوں اگرچہ وہ کڑوی ہو (‏‏‏‏٦) مجھے حکم دیا کہ میں اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈروں اور (‏‏‏‏٧) مجھے حکم دیا میں کثرت سے «لاحول ولا قوة الا بالله» پڑھوں۔ کیونکہ یہ کلمات عرش کے نیچے والے خزانوں میں سے ہیں۔“ اور ایک روایت ہے: ”یہ کلمات جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 2984]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2166

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1746 ترقیم فقہی: -- 2985
-" ألا أدلك على باب من أبواب الجنة؟ لا حول ولا قوة إلا بالله".
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرا باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھوڑ آیا۔ (‏‏‏‏ایک دن) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور میں نماز پڑھ چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنا پاؤں مارا اور فرمایا: ”کیا میں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے کی طرف تیری رہنمائی کروں؟ (‏‏‏‏اور وہ ہے یہ ذکر) «لاحول ولا قوة الا بالله» (‏‏‏‏برائی سے بچنے کی قوت اور نیکی کرنے کی طاقت نہیں ہے مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 2985]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1746

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1528 ترقیم فقہی: -- 2986
-" أكثروا من قول لا حول ولا قوة إلا بالله، فإنها كنز من كنوز الجنة".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لاحول ولا قوة الا بالله» ‏‏‏‏ ”برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے“، کا زیادہ سے زیادہ ورد کیا کرو، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 2986]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1528

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں