Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1131 ترقیم فقہی: -- 3262
-" أخر عني يا عمر! إني خيرت فاخترت وقد قيل (لي): * (استغفر لهم أو لا تستغفر لهم إن تستغفر لهم سبعين مرة فلن يغفر الله لهم) *. لو أعلم أني لو زدت على السبعين غفر له لزدت".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ جب عبداللہ بن ابی (‏‏‏‏منافق) مرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی نماز جنازہ کے لیے بلایا گیا، آپ صلی الله علیہ وسلم تشریف لےگئے اور جب نماز کے ارادے سے کھڑے ہوئے تو میں گھوم کر آپ صلی الله علیہ و سلم کے سامنے کھڑا ہو گیا اور کہا: اے الله کے رسول! کیا الله تعالیٰ کے دشمن عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ (‏‏‏‏پڑھنے لگے ہیں)، جس نے فلاں فلاں دن ایسے ایسے کہا تھا؟ ان دنوں کو شمار بھی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواباً مسکرا دیے۔ جب میں نے بہت زیادہ اصرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! پیچھے ہٹ جاؤ، مجھے اختیار دیا گیا اور میں نے (‏‏‏‏ ‏‏‏‏اس اختیار کو) قبول کر لیا، مجھے (‏‏‏‏ ‏‏‏‏اللہ تعالیٰ کی طرف سے) کہا گیا ہے: ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اے محمد! آپ ان کے لیے بخشش طلب کریں یا نہ کریں، اگر آپ ستر دفعہ بھی بخشش طلب کریں تو پھر بھی اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز معاف نہیں کرے گا۔ (‏‏‏‏سورۃ التوبہ: ۸۰) اگر مجھے علم ہوتا کہ ستر سے زائد دفعہ بخشش طلب کرنے سے اسے بخش دیا جائے گا تو میں زیادہ دفعہ کر دیتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، اس کی میت کے ساتھ چلے اور فارغ ہونے تک اس کی قبر پر کھڑے رہے۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جرات کرنے پر بڑا تعجب ہو رہا تھا، اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ اللہ کی قسم! تھوڑے وقت کے بعد ہی یہ دو آیات نازل ہوئیں: ‏‏‏‏ اے محمد! منافقوں میں سے جو بھی مرے، آپ نہ کبھی اس کی نماز جنازہ پڑھائیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں، انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے اور فسق کی حالت میں مرے ہیں۔ (‏‏‏‏سوره توبہ: ٨٤) (‏‏‏‏ان آیات کے نزول کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کسی منافق کی نماز جنازہ پڑھی اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ فوت ہو گئے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3262]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1131

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1233 ترقیم فقہی: -- 3263
-" اقتدوا باللذين من بعدي من أصحابي أبي بكر وعمر، واهتدوا بهدي عمار، وتمسكوا بعهد ابن مسعود".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد ابوبکر اور عمر کی پیروی کرنا، عمار کی سیرت اختیار کرنا اور ابن مسعود کے عہد کو تھام لینا۔ یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا حذیفہ بن یمان، سیدنا انس بن مالک اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت کی گئی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3263]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1233

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3603 ترقیم فقہی: -- 3264
- (إيه يا ابن الخطّاب! والذي نفسي بيده! ما لَقِيكَ الشيطانُ سالكاً فجّاً؛ إلا سلك فجّاً غير فجك).
محمد بن سعد اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، اس وقت آپ کے پاس قریشی عورتیں بیٹھی تھیں، وہ آپ سے سوال کر رہی تھیں، کثرت کا مطالبہ کر رہی تھیں اور بلند آواز میں (‏‏‏‏ اپنے مطالبات کا) اظہار کر رہی تھیں۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت لی تو انھوں نے جلدی جلدی پردہ کر لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اجازت دی، جب وہ داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اور اللہ تعالیٰ آپ کو ہنساتا رہے (‏‏‏‏بھلا مسکرانے کی وجہ کیا ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان عورتوں پر بڑا تعجب ہو رہا ہے، یہ میرے پاس بیٹھی تھیں، جب انہوں نے تمہاری آواز سنی تو جلدی جلدی پردہ کر لیا۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ آپ سے ڈرا جائے۔ پھر وہ ان عورتوں پر متوجہ ہوئے اور کہا: اپنے نفسوں کے دشمنو! کیا تم مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتی؟ انہوں نے کہا: تم رسول اللہ کی بہ نسبت زیادہ سخت رو ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن خطاب! بس کرو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب شیطان تجھے کسی گلی میں چلتے دیکھتا ہے تو وہ (‏‏‏‏تجھ سے خوفزدہ ہو کر) دوسری گلی میں چلا جاتا ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3264]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3603

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 815 ترقیم فقہی: -- 3265
-" أبو بكر وعمر من هذا الدين كمنزلة السمع والبصر من الرأس".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دین اسلام میں ابوبکر اور عمر کی اہمیت سر میں کان اور آنکھ کی سی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3265]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 815

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 875 ترقیم فقہی: -- 3266
-" اثبت حراء، فإنه ليس عليك إلا نبي أو صديق أو شهيد".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حرا! تھم جا، نہیں ہے تجھ پر مگر نبی یا صدیق یا شہید۔ یہ حدیث سیدنا سعید بن زید، سیدنا عثمان بن عفان، سیدنا انس بن مالک، سیدنا بریدہ بن حصیب اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایت کی گئی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3266]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 875

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں