صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ قَوْلِ الإِمَامِ لأَصْحَابِهِ اذْهَبُوا بِنَا نُصْلِحُ:
باب: حاکم لوگوں سے کہے ہم کو لے چلو ہم صلح کرا دیں۔
حدیث نمبر: 2693
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ أَهْلَ قُبَاءٍ اقْتَتَلُوا حَتَّى تَرَامَوْا بِالْحِجَارَةِ، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَقَالَ:" اذْهَبُوا بِنَا نُصْلِحُ بَيْنَهُمْ".
ہم سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی اور اسحاق بن محمد فروی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قباء کے لوگوں نے آپس میں جھگڑا کیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک نے دوسرے پر پتھر پھینکے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کی اطلاع دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چلو ہم ان میں صلح کرائیں گے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الصُّلْحِ/حدیث: 2693]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل قباء ایک مرتبہ لڑ پڑے یہاں تک کہ انہوں نے ایک دوسرے کو پتھر مارے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے ساتھ چلو تاکہ ہم ان کی آپس میں صلح کرادیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الصُّلْحِ/حدیث: 2693]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة