علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب قول الإمام لأصحابه اذهبوا بنا نصلح:
باب: حاکم لوگوں سے کہے ہم کو لے چلو ہم صلح کرا دیں۔
حدیث نمبر: 2693
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ أَهْلَ قُبَاءٍ اقْتَتَلُوا حَتَّى تَرَامَوْا بِالْحِجَارَةِ، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَقَالَ:" اذْهَبُوا بِنَا نُصْلِحُ بَيْنَهُمْ".
ہم سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی اور اسحاق بن محمد فروی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قباء کے لوگوں نے آپس میں جھگڑا کیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک نے دوسرے پر پتھر پھینکے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کی اطلاع دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چلو ہم ان میں صلح کرائیں گے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلح/حدیث: 2693]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2693
| اذهبوا بنا نصلح بينهم |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2693 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2693
حدیث حاشیہ:
گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کے لیے خود پیش قدمی فرمائی، یہی باب کا مقصد ہے۔
باہمی جھگڑے کا ہونا ہر وقت ممکن ہے، مگر اسلام کا تقاضا بلکہ انسانیت کا تقاضا ہے کہ حسن تدبیر سے ایسے جھگڑوں کو ختم کرکے باہمی اتفاق کرادیا جائے۔
گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کے لیے خود پیش قدمی فرمائی، یہی باب کا مقصد ہے۔
باہمی جھگڑے کا ہونا ہر وقت ممکن ہے، مگر اسلام کا تقاضا بلکہ انسانیت کا تقاضا ہے کہ حسن تدبیر سے ایسے جھگڑوں کو ختم کرکے باہمی اتفاق کرادیا جائے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2693]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2693
حدیث حاشیہ:
(1)
سنگین اختلافات کے وقت قابل اعتبار اہل علم اور اثرورسوخ کی حامل شخصیات کو چاہیے کہ وہ صلح میں اپنا کردار ادا کریں اور اس بات کا انتظار نہ کریں کہ کوئی انہیں صلح کروانے کی دعوت دے تو پھر وہ جائیں گے۔
اگرچہ امام اور حاکم وقت کا کام مناسب کاروائی کرنا اور سزا وغیرہ دینا ہے لیکن اگر وہ فیصلہ کرنے کے بجائے فریقین میں صلح کرا دے تو اس کا یہ اقدام بہتر ہے۔
(2)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جائے وقوعہ پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لینا چاہیے تاکہ نتیجے تک پہنچنے میں آسانی ہو اور صلح کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ نکل آئے۔
(1)
سنگین اختلافات کے وقت قابل اعتبار اہل علم اور اثرورسوخ کی حامل شخصیات کو چاہیے کہ وہ صلح میں اپنا کردار ادا کریں اور اس بات کا انتظار نہ کریں کہ کوئی انہیں صلح کروانے کی دعوت دے تو پھر وہ جائیں گے۔
اگرچہ امام اور حاکم وقت کا کام مناسب کاروائی کرنا اور سزا وغیرہ دینا ہے لیکن اگر وہ فیصلہ کرنے کے بجائے فریقین میں صلح کرا دے تو اس کا یہ اقدام بہتر ہے۔
(2)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جائے وقوعہ پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لینا چاہیے تاکہ نتیجے تک پہنچنے میں آسانی ہو اور صلح کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ نکل آئے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2693]
Sahih Bukhari Hadith 2693 in Urdu
سلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي