🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

جھوٹے مدعیانِ نبوت، (قادیانیوں اور ابن عربی کا عقیدہ باطل ہے)
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3611 ترقیم فقہی: -- 3722
- (بينما أنا نائمُ؛ أتيت بخزائن الأرض، فَوُضِعَ في يدي سِوَارَان من ذهب، فكَبُرا عليَّ وأهمَّاني، فأوُحي إليَّ: أن انفُخُهُما؛ فَنَفَخْتُهُما فذهبا؛ فأوَّلْتُهُما: الكذَّابَيْنِ اللذين أنا بينهما: صاحب صنعاء، وصاحب اليمامة) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا، میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے، میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن رکھ دیے گئے، وہ مجھ پر گراں گزرے اور انہوں نے مجھے مغموم و بے چین کر دیا، میری طرف وحی کی گئی کہ پھونک مارو، میں نے پھونک ماری، وہ دونوں (‏‏‏‏میرے ہاتھ سے) ہٹ گئے۔ میں نے اس خواب کی تاویل یہ کی کہ ان سے مراد وہ دو جھوٹے ہیں، کہ میں جن کے درمیان ہوں، (‏‏‏‏ ‏‏‏‏۱) صاحب صنعاء (‏‏‏‏ ‏‏‏‏یعنی اسود عنسی) اور (‏‏‏‏ ‏‏‏‏۲) صاحب یمامہ (‏‏‏‏ ‏‏‏‏یعنی مسیلمہ کذاب)۔ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3722]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3611

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1999 ترقیم فقہی: -- 3723
-" في أمتي كذابون ودجالون، سبعة وعشرون، منهم أربعة نسوة، وإني خاتم النبين، لا نبي بعدي".
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں ستائیس آدمی انتہائی جھوٹے اور کذاب ہوں گے، ان میں سے چار عورتیں ہوں گی (‏‏‏‏ ‏‏‏‏یاد رکھنا کہ) میں خاتم النبین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔[سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3723]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1999

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2253 ترقیم فقہی: -- 3724
-" إن بين يدي الساعة سنين خداعة يصدق فيها الكاذب ويكذب فيها الصادق ويؤتمن فيها الخائن ويخون فيها الأمين وينطق فيها الرويبضة. قيل: وما الرويبضة. قيل: المرء التافه يتكلم في أمر العامة".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک کوفی آدمی بیٹھا ہوا تھا، اس نے مختار سے احادیث بیان کرنا شروع کر دیں۔ سیدنا عبداللہ نے کہا: اگر بات ایسے ہی ہے جیسے تو کہہ رہا ہے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: قیامت سے پہلے تیس انتہائی جھوٹے اور کذاب افراد ہوں گے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3724]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2253

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں