صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ إِذَا وَقَفَ أَوْ أَوْصَى لأَقَارِبِهِ وَمَنِ الأَقَارِبُ:
باب: اگر کسی نے اپنے عزیزوں پر کوئی چیز وقف کی یا ان کے لیے وصیت کی تو کیا حکم ہے اور عزیزوں سے کون لوگ مراد ہوں گے۔
حدیث نمبر: Q2752
وَقَالَ ثَابِتٌ: عَنْ أَنَسٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ:" اجْعَلْهَا لِفُقَرَاءِ أَقَارِبِكَ، فَجَعَلَهَا لِحَسَّانَ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ".
اور ثابت نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ سے فرمایا تو یہ باغ اپنے ضرورت مند عزیزوں کو دے ڈال۔ انہوں نے حسان اور ابی بن کعب کو دے دیا (جو ابوطلحہ کے چچا کی اولاد تھے) اور محمد بن عبداللہ انصاری نے کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ‘ انہوں نے ثمامہ سے ‘ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے ثابت کی طرح روایت کی ‘ اس میں یوں ہے اپنے قرابت دار محتاجوں کو دے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا۔ تو ابوطلحہ نے وہ باغ حسان اور ابی بن کعب کو دے دیا ‘ وہ مجھ سے زیادہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے قریبی رشتہ دار تھے اور حسان اور ابی بن کعب کی قرابت ابوطلحہ سے یوں تھی کہ ابوطلحہ کا نام زید ہے وہ سہیل کے بیٹے ‘ وہ اسود کے ‘ وہ حرام کے ‘ وہ عمرو بن زید مناۃ بن عدی بن عمرو بن مالک بن نجار کے اور حسان ثابت کے بیٹے ‘ وہ منذر کے ‘ وہ حرام کے تو دونوں حرام میں جا کر مل جاتے ہیں جو پردادا ہے تو حرام بن عمرو بن زید ‘ مناۃ بن عدی بن عمرو بن مالک بن نجار حسان اور ابوطلحہ کو ملا دیتا ہے اور ابی بن کعب چھٹی پشت میں یعنی عمرو بن مالک میں ابوطلحہ سے ملتے ہیں، ابی بن کعب کے بیٹے ‘ وہ قیس کے ‘ وہ عبید کے ‘ وہ زید کے ‘ وہ معاویہ کے ‘ وہ عمرو بن مالک بن نجار کے تو عمرو بن مالک حسان اور ابوطلحہ اور ابی تینوں کو ملا دیتا ہے اور بعضوں نے (امام ابویوسف امام ابوحنیفہ کے شاگرد نے) کہا عزیزوں کے لیے وصیت کرے تو جتنے مسلمان باپ دادا گزرے ہیں وہ سب داخل ہوں گے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوَصَايَا/حدیث: Q2752]
حدیث نمبر: 2752
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ" أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ، وَبَنِي عَمِّهِ". وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَادِي يَا بَنِي فِهْرٍ، يَا بَنِي عَدِيٍّ لِبُطُونِ قُرَيْشٍ. وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ‘ انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ سے فرمایا (جب انہوں نے اپنا باغ بیرحاء اللہ کی راہ میں دینا چاہا) میں مناسب سمجھتا ہوں تو یہ باغ اپنے عزیزوں کو دیدے۔ ابوطلحہ نے کہا بہت خوب ایسا ہی کروں گا۔ پھر ابوطلحہ نے وہ باغ اپنے عزیزوں اور چچا کے بیٹوں میں تقسیم کر دیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا جب (سورۃ الشعراء کی) یہ آیت اتری «وأنذر عشيرتك الأقربين» اور اپنے قریب کے ناطے والوں کو (اللہ کے عذاب سے) ڈرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے خاندانوں بنی فہر ‘ بنی عدی کو پکارنے لگے (ان کو ڈرایا) اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا جب یہ آیت اتری «وأنذر عشيرتك الأقربين» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے قریش کے لوگو! (اللہ سے ڈرو)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوَصَايَا/حدیث: 2752]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”میری رائے کے مطابق آپ اپنا باغ قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کردیں۔“ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایسا ہی کروں گا، چنانچہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے وہ (باغ) اپنے قرابت داروں اور چچا زاد بھائیوں میں تقسیم کردیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب یہ آیت ﴿آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔﴾ [سورة الشعراء: 214] نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنو فہر! اے بنو عدی!“ یہ قریش کے مختلف خاندانوں کے نام ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب یہ آیت ﴿آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو خبردار کریں۔﴾ [سورة الشعراء: 214] نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے قریش کے لوگو! (اللہ سے ڈرو)۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوَصَايَا/حدیث: 2752]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة