صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ فَضْلُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ:
باب: جہاد کی فضیلت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کے بیان میں۔
حدیث نمبر: Q2782
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ وَالْقُرْءَانِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ إِلَى قَوْلِهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ سورة التوبة آية 111 - 112 قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْحُدُودُ: الطَّاعَةُ.
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا «إن الله اشترى من المؤمنين أنفسهم وأموالهم بأن لهم الجنة يقاتلون في سبيل الله فيقتلون ويقتلون وعدا عليه حقا في التوراة والإنجيل والقرآن ومن أوفى بعهده من الله فاستبشروا ببيعكم الذي بايعتم به» ”بیشک اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جان اور ان کے مال اس بدلے میں خرید لیے ہیں کہ انہیں جنت ملے گی ‘ وہ مسلمان اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں اور اس طرح (محارب کفار کو) یہ مارتے ہیں اور خود بھی مارے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ (کہ مسلمانوں کو ان کی قربانیوں کے نتیجے میں جنت ملے گی) سچا ہے ‘ تورات میں ‘ انجیل میں اور قرآن میں اور اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدہ کا پورا کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟ پس خوش ہو جاؤ تم اپنے اس سودا کی وجہ سے جو تم نے اس کے ساتھ کیا ہے۔“ آخر آیت «وبشر المؤمنين» تک ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ کی حدوں سے مراد اس کے احکام کی اطاعت ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: Q2782]
حدیث نمبر: 2782
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْوَلِيدَ بْنَ الْعَيْزَارِ ذَكَرَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، سَأَلْت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" الصَّلَاةُ عَلَى مِيقَاتِهَا، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ، قَالَ: ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ، قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَسَكَتُّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي".
ہم سے حسن بن صباح نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے مالک بن مغول نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ولید بن عیزار سے سنا ‘ ان سے سعید بن ایاس ابوعمرو شیبانی نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ دین کے کاموں میں کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وقت پر نماز پڑھنا۔“ میں نے پوچھا اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔“ میں نے پوچھا اور اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔“ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سوالات نہیں کئے ‘ ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح ان کے جوابات عنایت فرماتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2782]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بروقت نماز ادا کرنا۔“ میں نے عرض کیا: اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”والدین کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آنا۔“ میں نے عرض کیا: پھر اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔“ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے میں سکوت اختیار کیا۔ اگر میں زیادہ پوچھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مزید جوابات سے نوازتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2782]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2783
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے منصور بن معتمر نے بیان کیا مجاہد سے ‘ انہوں نے طاؤس سے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”فتح مکہ کے بعد اب ہجرت (فرض) نہیں رہی البتہ جہاد اور نیت بخیر کرنا اب بھی باقی ہیں اور جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکل کھڑے ہوا کرو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2783]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فتح مکہ کے بعد اب ہجرت نہیں رہی، البتہ جہاد کرنا اور اچھی نیت کرنا اب بھی باقی ہیں اور جب تمہیں جہاد کی خاطر نکلنے کے لیے کہا جائے تو فوراً نکل پڑو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2783]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2784
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ:" يَا رَسُولَ اللَّهِتُرَى الْجِهَادَ أَفْضَلَ الْعَمَلِ أَفَلَا نُجَاهِدُ، قَالَ: لَكِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ حَجٌّ مَبْرُورٌ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حبیب بن ابی عمرہ نے بیان کیا عائشہ بنت طلحہ سے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا (ام المؤمنین) نے کہ انہوں پوچھا یا رسول اللہ! ہم سمجھتے ہیں کہ جہاد افضل اعمال میں سے ہے پھر ہم (عورتیں) بھی کیوں نہ جہاد کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لیکن سب سے افضل جہاد مقبول حج ہے جس میں گناہ نہ ہوں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2784]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے خیال کے مطابق جہاد تمام اعمال سے افضل ہے، تو کیا ہم عورتیں جہاد نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن (تمہارے لیے) سب سے افضل جہاد حج مقبول ہے (جس میں گناہ نہ ہو)۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2784]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2785
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حَصِينٍ أَنَّ ذَكْوَانَ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ، قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَعْدِلُ الْجِهَادَ، قَالَ: لَا أَجِدُهُ، قَالَ: هَلْ تَسْتَطِيعُ إِذَا خَرَجَ الْمُجَاهِدُ أَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدَكَ فَتَقُومَ، وَلَا تَفْتُرَ، وَتَصُومَ، وَلَا تُفْطِرَ، قَالَ: وَمَنْ يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنَّ فَرَسَ الْمُجَاهِدِ لَيَسْتَنُّ فِي طِوَلِهِ، فَيُكْتَبُ لَهُ حَسَنَاتٍ".
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عفان بن مسلم نے خبر دی ‘ کہا ہم سے ہمام نے ‘ کہا ہم سے محمد بن حجادہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے ابوحصین نے خبر دی ‘ ان سے ذکوان نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب (نام نامعلوم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئیے جو ثواب میں جہاد کے برابر ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا کوئی عمل میں نہیں پاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اتنا کر سکتے ہو کہ جب مجاہد (جہاد کے لیے) نکلے تو تم اپنی مسجد میں آ کر برابر نماز پڑھنی شروع کر دو اور (نماز پڑھتے رہو اور درمیان میں) کوئی سستی اور کاہلی تمہیں محسوس نہ ہو، اسی طرح روزے رکھنے لگو اور کوئی دن بغیر روزے کے نہ گزرے۔ ان صاحب نے عرض کیا بھلا ایسا کون کر سکتا ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجاہد کا گھوڑا جب رسی میں بندھا ہوا زمین (پر پاؤں) مارتا ہے تو اس پر بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2785]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا: آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو جہاد کے برابر ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کوئی ایسا عمل نہیں پاتا جو جہاد کے برابر ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ”کیا تجھ میں طاقت ہے کہ جب مجاہد جہاد کے لیے نکلے تو تو اپنی مسجد میں داخل ہو جائے، وہاں اللہ کی عبادت کرتا رہے اور ذرہ بھر سستی نہ کرے اور تو مسلسل روزے رکھتا رہے، کوئی روزہ ترک نہ کرے؟“ اس شخص نے عرض کیا: اس عمل کی کون طاقت رکھتا ہے؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجاہد کا گھوڑا جب رسی میں بندھا ہوا زمین پر پاؤں مارتا ہے تو اس پر بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2785]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة