🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مجموعه ضعيف احاديث سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:


نیند سے بیدار ہونے کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1078
لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ (صبح کے وقت) بندے میں روح لوٹاتے ہیں، پھر وہ یہ دعا پڑھتا ہے «لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ بخش دیتے ہیں خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہو۔“ [مجموعه ضعيف احاديث/حدیث: 1078]
تخریج الحدیث: { «ضعیف جدا» }:
[ابن السني في عمل اليوم و الليلة 10] ، [الأذكار للنووي 40] ، حاظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ حدیث بہت زیادہ ضعیف ہے۔ [نتائج الأفكار 112/1]
شیخ سلیم ہلالی نے بھی اسے ضعیف کہا ہے۔ [التعليق على الأذكار للنووي 76/1]
اسی طرح شیخ محمد بن ریاض اللبابیدی نے بھی اس حدیث کو ضعیف کہا ہے۔ [التعليق على عمل اليوم و الليلة ص: 12]

الحكم على الحديث:
ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1079
الحمد لله الذى خلق النوم واليقظة، الحمد لله الذى بعثنى سالما سويا، أشهد أن الله يحى الموتى وهو على كل شىء قدير
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نیند سے بیدار ہوتے وقت یہ دعا پڑھتا ہے: «الحمد لله الذى خلق النوم واليقظة، الحمد لله الذى بعثنى سالما سويا، أشهد أن الله يحى الموتى وهو على كل شىء قدير» اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ میرے بندے نے سچ کہا۔“ [مجموعه ضعيف احاديث/حدیث: 1079]
تخریج الحدیث: { «ضعیف جدا» }:
[الكلم الطيب للألباني 13] ، [الأذكار للنووي 41] ، [ابن السني 13] ، شیخ سلیم ہلالی نے اسے بہت زیادہ ضعیف کہا ہے۔ [التعليق على الأذكار للنووي 77/1]
اسی طرح شیخ محمد بن ریاض اللبابیدی نے بھی اسے ضعیف کہا ہے۔ [التعليق على عمل اليوم و الليلة لابن السني ص: 13] ، اس روایت کی سند میں محمد بن عبیداللہ راوی متروک ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے متروک کہا ہے۔
امام احمد رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ لوگوں نے اس کی حدیث کو ترک کر دیا تھا۔
امام ابن معین رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس کی حدیث نہیں لکھی جاتی۔
امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے غیر ثقہ قرار دیا ہے۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف الحدیث کہا ہے۔ دیکھئے: [التقريب 6877] ، [العلل 90/1] ، [تاريخ الدوري 529/2] ، [الضعفاء 521] ، [المجروحين 246/2] ، [الجرح و التعديل 1/8]

الحكم على الحديث:
ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں