صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
127. بَابُ الرِّدْفِ عَلَى الْحِمَارِ:
باب: ایک گدھے پر دو آدمیوں کا سوار ہونا۔
حدیث نمبر: 2987
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَكِبَ عَلَى حِمَارٍ عَلَى إِكَافٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ، وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ وَرَاءَهُ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوصفوان نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے، ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر اس کی پالان رکھ کر سوار ہوئے۔ جس پر ایک چادر بچھی ہوئی تھی اور اسامہ رضی اللہ عنہ کو آپ نے اپنے پیچھے بٹھا رکھا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2987]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سوار ہوئے جس کی زین پر ایک دھاری دار چادر پڑی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2987]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2988
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ يُونُسُ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَقْبَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مُرْدِفًا أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَمَعَهُ بِلَالٌ، وَمَعَهُ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ مِنَ الْحَجَبَةِ حَتَّى أَنَاخَ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْتِيَ بِمِفْتَاحِ الْبَيْتِ فَفَتَحَ وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أُسَامَةُ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ فَمَكَثَ فِيهَا نَهَارًا طَوِيلًا، ثُمَّ خَرَجَ فَاسْتَبَقَ النَّاسُ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ فَوَجَدَ بِلَالًا وَرَاءَ الْبَابِ قَائِمًا، فَسَأَلَهُ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَشَارَ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ، قَالَ: عَبْدُ اللَّهِ فَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى مِنْ سَجْدَةٍ؟".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، انہیں نافع نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے بالائی علاقے سے اپنی سواری پر تشریف لائے۔ اسامہ رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر پیچھے بٹھا دیا تھا اور آپ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ بھی جو کعبہ کے کلید بردار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد الحرام میں اپنی سواری بٹھا دی اور عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ بیت اللہ الحرام کی کنجی لائیں۔ انہوں نے کعبہ کا دروازہ کھول دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسامہ، بلال اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافی دیر تک اندر ٹھہرے رہے۔ اور جب باہر تشریف لائے تو صحابہ نے (اندر جانے کے لیے) ایک دوسرے سے آگے ہونے کی کوشش کی سب سے پہلے اندر داخل ہونے والے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے۔ انہوں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دروازے کے پیچھے کھڑا پایا اور ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کہاں پڑھی ہے؟ انہوں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھے یہ پوچھنا یاد نہیں رہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2988]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ کے بالائی علاقے سے اپنی سواری پر تشریف لائے، جبکہ آپ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا رکھا تھا۔ آپ کے ہمراہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ بھی، جو کعبہ کے کلید (چابی) بردار تھے۔ آپ نے مسجد کے صحن میں اپنی سواری بٹھائی اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ بیت اللہ کی چابی لائیں۔ چنانچہ انہوں نے دروازہ کھولا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ، حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ بھی داخل ہوئے۔ آپ کافی دیر اندر ٹھہرے رہے۔ پھر جب باہر تشریف لائے تو لوگ اندر داخل ہونے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھے۔ سب سے پہلے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما داخل ہوئے تو انہوں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دروازے کے پیچھے کھڑا پایا۔ انہوں نے ان سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اس جگہ کی نشاندہی کی جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں یہ بات پوچھنا بھول گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعات پڑھی تھیں؟ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2988]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة