🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
127. باب الردف على الحمار:
باب: ایک گدھے پر دو آدمیوں کا سوار ہونا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2988
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ يُونُسُ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَقْبَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مُرْدِفًا أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَمَعَهُ بِلَالٌ، وَمَعَهُ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ مِنَ الْحَجَبَةِ حَتَّى أَنَاخَ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْتِيَ بِمِفْتَاحِ الْبَيْتِ فَفَتَحَ وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أُسَامَةُ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ فَمَكَثَ فِيهَا نَهَارًا طَوِيلًا، ثُمَّ خَرَجَ فَاسْتَبَقَ النَّاسُ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ فَوَجَدَ بِلَالًا وَرَاءَ الْبَابِ قَائِمًا، فَسَأَلَهُ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَشَارَ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ، قَالَ: عَبْدُ اللَّهِ فَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى مِنْ سَجْدَةٍ؟".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، انہیں نافع نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے بالائی علاقے سے اپنی سواری پر تشریف لائے۔ اسامہ رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر پیچھے بٹھا دیا تھا اور آپ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ بھی جو کعبہ کے کلید بردار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد الحرام میں اپنی سواری بٹھا دی اور عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ بیت اللہ الحرام کی کنجی لائیں۔ انہوں نے کعبہ کا دروازہ کھول دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسامہ، بلال اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافی دیر تک اندر ٹھہرے رہے۔ اور جب باہر تشریف لائے تو صحابہ نے (اندر جانے کے لیے) ایک دوسرے سے آگے ہونے کی کوشش کی سب سے پہلے اندر داخل ہونے والے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے۔ انہوں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دروازے کے پیچھے کھڑا پایا اور ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کہاں پڑھی ہے؟ انہوں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھے یہ پوچھنا یاد نہیں رہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2988]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ کے بالائی علاقے سے اپنی سواری پر تشریف لائے، جبکہ آپ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا رکھا تھا۔ آپ کے ہمراہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ بھی، جو کعبہ کے کلید (چابی) بردار تھے۔ آپ نے مسجد کے صحن میں اپنی سواری بٹھائی اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ بیت اللہ کی چابی لائیں۔ چنانچہ انہوں نے دروازہ کھولا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ، حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ بھی داخل ہوئے۔ آپ کافی دیر اندر ٹھہرے رہے۔ پھر جب باہر تشریف لائے تو لوگ اندر داخل ہونے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھے۔ سب سے پہلے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما داخل ہوئے تو انہوں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دروازے کے پیچھے کھڑا پایا۔ انہوں نے ان سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اس جگہ کی نشاندہی کی جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں یہ بات پوچھنا بھول گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعات پڑھی تھیں؟ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2988]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥يحيى بن بكير القرشي، أبو زكريا
Newيحيى بن بكير القرشي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2988 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2988
حدیث حاشیہ:
ترجمہ باب اس سے نکلا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی پر اپنے پیچھے حضرت اسامہ بن زید ؓ کو بھی بٹھلا رکھا تھا۔
اونٹنی بھی ایک جانور ہے جب اس پر دو آدمیوں کا سوار ہونا ثابت ہوا تو گدھے کو بھی اس پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔
حضرت امام بخاری ؒ اس حدیث کو کئی جگہ لائے ہیں اور اس سے بہت سے مسائل کا استنباط فرمایا ہے جیسا کہ اپنے اپنے مقام پر بیان ہوا ہے۔
یہی آپ کے مجتہد مطلق ہونے کی اہم دلیل ہے اور یہ امر روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ ایک مجتہد مطلق کے لئے جن شرائط کا ہونا ضروری ہے وہ سب آپ کی ذات گرامی میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔
اللہ سارے مجتہدین کرام کو جزائے خیر دے جنہوں نے خدمت اسلام کے لئے اپنے آپ کو کلیۃً وقف کردیا تھا‘ رضي اللہ عنهم و رضوا عنه۔
حدیث میں لفظ حجبة حاجب کی جمع ہے جو دربان کے لئے بولا جاتا ہے۔
کعبہ شریف کے کلید بردار اور دربان یہی خاندان چلا آرہا ہے۔
علاقہ بھوج کچھ کے تاریخی دورہ از ۲۰ مئی تا ۸ جون ۷۱ء کے دوران اس پارے کی حدیث ۲۹۴۸ اور ۲۹۸۸ تک تسوید و تبیض کی گئی‘ اللہ پاک کی خدمت حدیث کو جملہ برادران شائقین بخاری شریف کے حق میں بطور صدقہ جاریہ قبول فرمائے آمین۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2988]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2988
حدیث حاشیہ:

پہلی حدیث میں صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے پر سواری کی اور حضرت اسامہ ؓ کو اپنے پیچھے بٹھایا۔
اس حدیث سے رسول اللہ ؓ کی تواضع ظاہر ہوتی ہے کیونکہ گدھے پر سواری کرنا پالان پر سوار ہو جانا یا کسی چھوٹے بچے کو سواری پر اپنے پیچھے بٹھا نا بہت بڑی تواضع ہے۔

امام بخاری ؒ کا مقصد مطلق طور پر کسی کو اپنے پیچھے بٹھانے کو ثابت کرنا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو سواری پر اپنے پیچھے بٹھانے کو عار خیال نہیں کیا۔
یہ بات دونوں احادیث سے ثابت ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2988]

Sahih Bukhari Hadith 2988 in Urdu