🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
127. باب الردف على الحمار:
باب: ایک گدھے پر دو آدمیوں کا سوار ہونا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2987
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَكِبَ عَلَى حِمَارٍ عَلَى إِكَافٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ، وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ وَرَاءَهُ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوصفوان نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے، ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر اس کی پالان رکھ کر سوار ہوئے۔ جس پر ایک چادر بچھی ہوئی تھی اور اسامہ رضی اللہ عنہ کو آپ نے اپنے پیچھے بٹھا رکھا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2987]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أسامة بن زيد الكلبي، أبو حارثة، أبو يزيد، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو زيدصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← أسامة بن زيد الكلبي
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن سعيد الأموي، أبو صفوان
Newعبد الله بن سعيد الأموي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← عبد الله بن سعيد الأموي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5663
ركب على حمار على إكاف على قطيفة فدكية وأردف أسامة وراءه يعود سعد بن عبادة قبل وقعة بدر مر بمجلس فيه عبد الله بن أبي ابن سلول وذلك قبل أن يسلم عبد الله وفي المجلس أخلاط من المسلمين والمشركين عبدة الأوثان واليهود وفي المجلس عبد الله بن رواحة فلما غشيت المجل
صحيح البخاري
2987
ركب على حمار على إكاف عليه قطيفة وأردف أسامة وراءه
صحيح البخاري
5964
ركب على حمار على إكاف عليه قطيفة فدكية وأردف أسامة وراءه
صحيح البخاري
6207
ركب على حمار عليه قطيفة فدكية وأسامة وراءه يعود سعد بن عبادة في بني حارث بن الخزرج قبل وقعة بدر مرا بمجلس فيه عبد الله بن أبي ابن سلول وذلك قبل أن يسلم عبد الله بن أبي فإذا في المجلس أخلاط من المسلمين والمشركين عبدة الأوثان واليهود وفي المسلمين عبد الله ب
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2987 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2987
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ ایک گدھے پر دو آدمی سوار ہوسکتے ہیں‘ بشرطیکہ وہ طاقتور ہو لفظ إکاف گدھے کے پالان کے لئے اسی طرح مستعمل ہے جس طرح گھوڑے کے لئے لفظ سرج مستعمل ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2987]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5663
5663. حضرت اسامہ بن زیدسے روایت ہے انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ گدھے کے پالان (جھول یا کاٹھی) پر فدک کی چادر ڈال کر اس پر سوار ہوئے اور اسامہ بن زید ؓ کو اپنے پیچھے سوار کیا۔ آپ غزوہ بدر سے پہلے حضرت سعد بن عبادہ ؓ کی عیادت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے آپ چلتے رہے کہ ایک مجلس کے پاس سے گزرے جس میں عبداللہ بن ابی ابن سلول بھی تھا وہ ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا۔ اس مجلس میں ملے جلے لوگ مسلمان، مشرک یعنی بت پرست اور یہودی تھے۔ ان میں عبداللہ بن رواحہ ؓ بھی تھے۔ جب سواری کی گرد و غبار مجلس تک پہنچی تو عبداللہ بن ابی چادر سے اپنی ناک ڈھانپ لی اور کہنے لگا کہ ہم پر غبار نہ اُڑاؤ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور سواری روک کر وہاں اتر گئے۔ پھر آپ نے انہیں دعوت اسلام دی اور قرآن کریم پڑھ کر سنایا تو عبداللہ بن ابی نے کہا: تمہاری باتیں میری سمجھ میں نہیں آتیں اگر حق بھی ہیں تو ہماری۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:5663]
حدیث حاشیہ:
اس موقع پر آنحضرت گدھے پر سوار ہو کر مذکورہ صورت میں تشریف لے گئے تھے۔
باب اور حدیث میں یہی مطابقت ہے۔
اس میں عبداللہ بن ابی منافق کا ذکر ضمنی طور پر آیا ہے۔
یہ منافق آپ کے مدینہ آنے سے پہلے اپنی بادشاہی کا خواب دیکھ رہا تھا جو آپ کی تشریف آوری سے غلط ہو گیا، اسی لیے یہ بظاہر مسلمان ہو کر بھی آخر وقت تک اسلام کی بیخ کنی کے درپے رہا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5663]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5964
5964. حضرت اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان تھا اور اس پر فدک کی بنی ہوئی چادر تھی آپ نے اسامہ کو اپنے پیچھے بٹھایا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5964]
حدیث حاشیہ:
اس میں اشارہ ہے کہ جب آدمی اپنے سواری پر بیٹھے تو گویا وہ سواری کا لباس بن جاتا ہے۔
اگر جانور طاقتور ہو تو دو یا تین تک ایک جانور پر سواری کر سکتے ہیں مگر کمزور پر نہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5964]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6207
6207. حضرت اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ گدھے پر سوار ہوئے جس پر فدک کی نبی ہوئی چادر بچھی تھی جبکہ اسامہ آپ کے پیچھے سوار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ حارث بن خزرج میں حضرت سعد بن عبادہ ؓ کی عیادت (بیمار پرسی) کے لیے تشریف لے جا رہے تھے یہ واقعہ غزوہ بدر سے پہلے کا ہے۔ دونوں حضرات چلتے رہے حتٰی کہ ایک مجلس کے پاس سے گزرے جس میں عبداللہ بن ابی ابن سلول بھی تھا جبکہ وہ ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا۔ اس مجلس میں کچھ مسلمان بھی تھے، بتوں کی پرستش کرنے والے مشرک اور یہودی بھی تھے۔ مسلمانوں میں حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ بھی موجود تھے، جب مجلس پر سواری کا غبار اڑکر پڑا تو عبداللہ بن ابی نے چادر سے اپنی ناک ڈھانپ لی اور کہنے لگا: ہم پر غبار نہ اڑاؤ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مجلس کو سلام کہا۔ پھر وہاں ٹھہر گئے اور سواری سے اترے اور انہیں اللہ کے دین کی دعوت دی، نیز انہیں قرآن پڑھ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:6207]
حدیث حاشیہ:
سند میں عروہ بن زبیر فقہائے سبعہ مدینہ سے ہیں جن کے اسماء گرامی اس نظم میں ہیں۔
إذا قیل من في العلم سبعة أبحر روایتھم لیست عن العلم خارجة فقل ھم عبیداللہ عروة قاسم سعید أبو بکر سلیمان خارجة۔
یہ ساتوں بزرگ مدینہ طیبہ میں ایک ہی زمانے میں تھے۔
اکثر ان میں سے 94ھ میں فوت ہوئے تو اس سال کا نام ہی عام الفقہاء پڑ گیا آخر باری باری 106ھ یا 107ھ تک سب رخصت ہوگئے۔
رحمهم اللہ أجمعین۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6207]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5663
5663. حضرت اسامہ بن زیدسے روایت ہے انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ گدھے کے پالان (جھول یا کاٹھی) پر فدک کی چادر ڈال کر اس پر سوار ہوئے اور اسامہ بن زید ؓ کو اپنے پیچھے سوار کیا۔ آپ غزوہ بدر سے پہلے حضرت سعد بن عبادہ ؓ کی عیادت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے آپ چلتے رہے کہ ایک مجلس کے پاس سے گزرے جس میں عبداللہ بن ابی ابن سلول بھی تھا وہ ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا۔ اس مجلس میں ملے جلے لوگ مسلمان، مشرک یعنی بت پرست اور یہودی تھے۔ ان میں عبداللہ بن رواحہ ؓ بھی تھے۔ جب سواری کی گرد و غبار مجلس تک پہنچی تو عبداللہ بن ابی چادر سے اپنی ناک ڈھانپ لی اور کہنے لگا کہ ہم پر غبار نہ اُڑاؤ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور سواری روک کر وہاں اتر گئے۔ پھر آپ نے انہیں دعوت اسلام دی اور قرآن کریم پڑھ کر سنایا تو عبداللہ بن ابی نے کہا: تمہاری باتیں میری سمجھ میں نہیں آتیں اگر حق بھی ہیں تو ہماری۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:5663]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سوار ہو کر اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا کر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی تیمارداری کے لیے تشریف لے گئے۔
امام بخاری رحمہ اللہ کا یہ حدیث پیش کرنے سے یہی مقصد ہے۔
(2)
حدیث میں عبداللہ بن ابی کا ذکر ضمنی طور پر آ گیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ طیبہ آمد سے پہلے یہ منافق اپنی سرداری کے خواب دیکھ رہا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے خاک میں مل گئے، اس لیے یہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر آخر وقت تک اسلام کو ختم کرنے کے درپے رہا، پھر غم کے گھونٹ بھرتے بھرتے اسے موت نے آ لیا۔
اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ وہی معاملہ کرے جس کے وہ لائق ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5663]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5964
5964. حضرت اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان تھا اور اس پر فدک کی بنی ہوئی چادر تھی آپ نے اسامہ کو اپنے پیچھے بٹھایا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5964]
حدیث حاشیہ:
(1)
سواری کی زینت یہ ہے کہ اس پر پالان رکھا جائے، پھر اس پر بہترین چادر بچھائی جائے اس طرح وہ سواری انسان کے لیے بھی باعث زینت ہے جس کی طرف قرآن کریم نے اشارہ کیا ہے۔
ایسے حالات میں انسان کو چاہیے کہ وہ اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کسی ضرورت مند کو سواری پر اپنے پیچھے بٹھا لے، اس سے وہ زینت قطعاً متاثر نہیں ہو گی۔
(2)
دور حاضر میں لمبی لمبی کاریں اس مقصد کے لیے کام میں لائی جاتی ہیں جو انسان کے لیے زینت کا کام بھی دیتی ہیں، اس لیے اگر کار میں جگہ ہو اور پردہ داری متاثر نہ ہوتا ہو تو کسی مسافر کو ساتھ بٹھا لینا باعث اجروثواب ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5964]