صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
145. بَابُ فَضْلِ مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ:
باب: یہود یا نصاریٰ مسلمان ہو جائیں تو ان کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 3011
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ حَيٍّ أَبُو حَسَنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْأَمَةُ، فَيُعَلِّمُهَا فَيُحْسِنُ تَعْلِيمَهَا، وَيُؤَدِّبُهَا فَيُحْسِنُ أَدَبَهَا، ثُمَّ يُعْتِقُهَا فَيَتَزَوَّجُهَا فَلَهُ أَجْرَانِ، وَمُؤْمِنُ أَهْلِ الْكِتَابِ الَّذِي كَانَ مُؤْمِنًا ثُمَّ آمَنَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَالْعَبْدُ الَّذِي يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ وَيَنْصَحُ لِسَيِّدِهِ"، ثُمَّ قَالَ الشَّعْبِيُّ: وَأَعْطَيْتُكَهَا بِغَيْرِ شَيْءٍ وَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَرْحَلُ فِي أَهْوَنَ مِنْهَا إِلَى الْمَدِينَةِ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے صالح بن حی ابوحسن نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے شعبی سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ مجھ سے ابوبردہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے اپنے والد (ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تین طرح کے آدمی ایسے ہیں جنہیں دوگنا ثواب ملتا ہے۔ اول وہ شخص جس کی لونڈی ہو ‘ وہ اسے تعلیم دے اور تعلیم دینے میں اچھا طریقہ اختیار کرے ‘ اسے ادب سکھائے اور اس میں اچھے طریقے سے کام لے ‘ پھر اسے آزاد کر کے اس سے شادی کر لے تو اسے دہرا اجر ملے گا۔ دوسرا وہ مومن جو اہل کتاب میں سے ہو کہ پہلے (اپنے نبی پر ایمان لایا تھا) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لایا تو اسے بھی دہرا اجر ملے گا ‘ تیسرا وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کے حقوق کی بھی ادائیگی کرتا ہے اور اپنے آقا کے ساتھ بھی بھلائی کرتا ہے۔“ اس کے بعد شعبی (راوی حدیث) نے کہا کہ میں نے تمہیں یہ حدیث بلا کسی محنت و مشقت کے دے دی ہے۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب اس سے بھی کم حدیث کے لیے مدینہ منورہ تک کا سفر کرنا پڑتا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3011]
حضرت ابو بردہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے والد (حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں جنھیں دوگنا ثواب ملے گا: پہلا وہ شخص جس کی کوئی لونڈی ہو، وہ اسے زیور تعلیم سے آراستہ کرے اور آداب فاضلہ سکھائے، پھر اسے آزاد کرکے اس سے شادی کرے تو اسے دوہرا اجر ملے گا۔ دوسرا اہل کتاب سے مومن شخص جو پہلی کتاب پر ایمان لایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لایا تو اسے بھی دوہرا اجر ملے گا۔ تیسرا وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرے اور اپنے آقا کا بھی مخلص ہو، اسے بھی دوہرا اجر ملے گا۔“ (راوی حدیث) امام شعبی رحمہ اللہ نے (اپنے شاگرد سے) فرمایا: میں نے یہ حدیث تمھیں بلامعاوضہ بتا دی ہے، حالانکہ اس سے چھوٹی بات سننے کے لیے لوگ مدینہ طیبہ کا سفر کیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3011]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة