🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

187. بَابُ إِذَا غَنِمَ الْمُشْرِكُونَ مَالَ الْمُسْلِمِ ثُمَّ وَجَدَهُ الْمُسْلِمُ:
باب: کسی مسلمان کا مال مشرکین لوٹ کر لے جائیں پھر (مسلمانوں کے غلبہ کے بعد) وہ مال اس مسلمان کو مل گیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3067
قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" ذَهَبَ فَرَسٌ لَهُ فَأَخَذَهُ الْعَدُوُّ فَظَهَرَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ فَرُدَّ عَلَيْهِ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَقَ عَبْدٌ لَهُ، فَلَحِقَ بِالرُّومِ فَظَهَرَ عَلَيْهِمُ الْمُسْلِمُونَ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
اور عبداللہ بن نمیر نے کہا ‘ کہ ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ان کا ایک گھوڑا بھاگ گیا تھا اور دشمنوں نے اس کو پکڑ لیا تھا۔ پھر مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہوا تو ان کا گھوڑا انہیں واپس کر دیا گیا۔ یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کا ہے۔ اسی طرح ان کے ایک غلام نے بھاگ کر روم میں پناہ حاصل کر لی تھی۔ پھر جب مسلمانوں کو اس ملک پر غلبہ حاصل ہوا تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کا غلام انہیں واپس کر دیا۔ یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3067]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں ان کا ایک گھوڑا بھاگ نکلا اور اسے دشمن نے پکڑ لیا، پھر جب مسلمانوں نے کفار پر غلبہ پایا تو وہ گھوڑا انہیں واپس کر دیا گیا۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بعد ان (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا ایک غلام بھی بھاگ کر روم کے کافروں سے مل گیا تھا، جب مسلمان ان پر غالب آئے تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے وہ غلام انہیں واپس کر دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3067]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3068
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ: أَنَّ" عَبْدًا لِابْنِ عُمَرَ أَبَقَ فَلَحِقَ بِالرُّومِ فَظَهَرَ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَرَدَّهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ، وَأَنَّ فَرَسًا لِابْنِ عُمَرَ عَارَ فَلَحِقَ بِالرُّومِ فَظَهَرَ عَلَيْهِ، فَرَدُّوهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: عَارَ مُشْتَقٌّ مِنَ الْعَيْرِ وَهُوَ حِمَارُ وَحْشٍ أَيْ هَرَبَ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ‘ ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا ‘ انہیں نافع نے خبر دی کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک غلام بھاگ کر روم کے کافروں میں مل گیا تھا۔ پھر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں (اسلامی لشکر نے) اس پر فتح پائی اور خالد رضی اللہ عنہ نے وہ غلام انکو واپس کر دیا۔ اور یہ کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک گھوڑا بھاگ کر روم پہنچ گیا تھا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو جب روم پر فتح ہوئی ‘ تو انہوں نے یہ گھوڑا بھی عبداللہ کو واپس کر دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3068]
حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک غلام بھاگ کر اہل روم سے جا ملا۔ جب ان پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے غلبہ حاصل کر لیا تو انہوں نے وہ غلام حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو واپس کر دیا۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک گھوڑا بھاگ کر روم پہنچ گیا۔ جب روم پر مسلمانوں کا غلبہ ہو گیا تو انہوں نے وہ گھوڑا بھی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو واپس کر دیا۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ روایت میں لفظ «عَارَ» «عَيْرٍ» سے مشتق ہے جس کے معنی جنگلی گدھے کے ہیں لیکن اس جگہ معنی بھاگ جانے کے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3068]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3069
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّهُ كَانَ عَلَى فَرَسٍ يَوْمَ لَقِيَ الْمُسْلِمُونَ وَأَمِيرُ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بَعَثَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَأَخَذَهُ الْعَدُوُّ فَلَمَّا هُزِمَ الْعَدُوُّ رَدَّ خَالِدٌ فَرَسَهُ".
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ‘ ان سے موسیٰ بن عقبہ نے ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جس دن اسلامی لشکر کی مڈبھیڑ (رومیوں سے) ہوئی تو وہ ایک گھوڑے پر سوار تھے۔ سالار فوج ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر گھوڑے کو دشمنوں نے پکڑ لیا ‘ لیکن جب انہیں شکست ہوئی تو خالد رضی اللہ عنہ نے گھوڑا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو واپس کر دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3069]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب مسلمانوں نے (رومیوں سے) مقابلہ کیا تو وہ ایک گھوڑے پر سوار تھے۔ اس وقت مسلمان فوج کے سربراہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔ انہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے امیر مقرر کیا تھا۔ اس (گھوڑے) کو دشمن نے پکڑ لیا۔ جب دشمن شکست کھا گئے تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کا گھوڑا واپس کر دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3069]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں