صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
187. باب إذا غنم المشركون مال المسلم ثم وجده المسلم:
باب: کسی مسلمان کا مال مشرکین لوٹ کر لے جائیں پھر (مسلمانوں کے غلبہ کے بعد) وہ مال اس مسلمان کو مل گیا۔
حدیث نمبر: 3069
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّهُ كَانَ عَلَى فَرَسٍ يَوْمَ لَقِيَ الْمُسْلِمُونَ وَأَمِيرُ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بَعَثَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَأَخَذَهُ الْعَدُوُّ فَلَمَّا هُزِمَ الْعَدُوُّ رَدَّ خَالِدٌ فَرَسَهُ".
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ‘ ان سے موسیٰ بن عقبہ نے ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جس دن اسلامی لشکر کی مڈبھیڑ (رومیوں سے) ہوئی تو وہ ایک گھوڑے پر سوار تھے۔ سالار فوج ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر گھوڑے کو دشمنوں نے پکڑ لیا ‘ لیکن جب انہیں شکست ہوئی تو خالد رضی اللہ عنہ نے گھوڑا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو واپس کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3069]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب مسلمانوں نے (رومیوں سے) مقابلہ کیا تو وہ ایک گھوڑے پر سوار تھے۔ اس وقت مسلمان فوج کے سربراہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔ انہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے امیر مقرر کیا تھا۔ اس (گھوڑے) کو دشمن نے پکڑ لیا۔ جب دشمن شکست کھا گئے تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کا گھوڑا واپس کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3069]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد موسى بن عقبة القرشي ← نافع مولى ابن عمر | ثقة فقيه إمام في المغازي | |
👤←👥زهير بن معاوية الجعفي، أبو خيثمة زهير بن معاوية الجعفي ← موسى بن عقبة القرشي | ثقة ثبت | |
👤←👥أحمد بن يونس التميمي، أبو عبد الله أحمد بن يونس التميمي ← زهير بن معاوية الجعفي | ثقة حافظ |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3069 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3069
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ کسی مسلمان کا کوئی مال کسی دشمن حربی کافر کے حوالہ پڑ جائے تو فتح اسلام کے بعد وہ مال اس کے اصلی مالک مسلمان ہی کو ملے گا وہ اموال غنیمت میں داخل نہ کیا جائے گا۔
معلوم ہوا کہ کسی مسلمان کا کوئی مال کسی دشمن حربی کافر کے حوالہ پڑ جائے تو فتح اسلام کے بعد وہ مال اس کے اصلی مالک مسلمان ہی کو ملے گا وہ اموال غنیمت میں داخل نہ کیا جائے گا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3069]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3069
حدیث حاشیہ:
امام بخاری ؒ کا مطلب یہ ہے کہ کفار پر غلبے کے باوجود ان کے قبضے میں موجود مسلمان کا مال بطور غنیمت تقسیم نہیں کیا جاسکتا بلکہ وہ مال اسی مسلمان کو لوٹا دیا جائے گا جس کی وہ ملکیت تھا، خواہ وہ تقسیم غنیمت سے پہلے اسے شناخت کرلے یا اس کے بعد اس کی پہچان کرے۔
کچھ حضرات کا خیال ہے کہ کافر جب مال لوٹ کر لے جائیں اور اپنے ملک پہنچ جائیں تو وہ اس کے مالک بن جاتے ہیں۔
ان احادیث میں مذکورہ واقعے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اگر کسی مسلمان کا مال کسی حربی کافر کے ہاتھ لگ جائے تو فتح کے بعد وہ مال اس کے اصلی مالک مسلمان ہی کو ملے گا۔
اسے اموال غنیمت میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
امام بخاری ؒ کا مطلب یہ ہے کہ کفار پر غلبے کے باوجود ان کے قبضے میں موجود مسلمان کا مال بطور غنیمت تقسیم نہیں کیا جاسکتا بلکہ وہ مال اسی مسلمان کو لوٹا دیا جائے گا جس کی وہ ملکیت تھا، خواہ وہ تقسیم غنیمت سے پہلے اسے شناخت کرلے یا اس کے بعد اس کی پہچان کرے۔
کچھ حضرات کا خیال ہے کہ کافر جب مال لوٹ کر لے جائیں اور اپنے ملک پہنچ جائیں تو وہ اس کے مالک بن جاتے ہیں۔
ان احادیث میں مذکورہ واقعے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اگر کسی مسلمان کا مال کسی حربی کافر کے ہاتھ لگ جائے تو فتح کے بعد وہ مال اس کے اصلی مالک مسلمان ہی کو ملے گا۔
اسے اموال غنیمت میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3069]
Sahih Bukhari Hadith 3069 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي