صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
194. بَابُ لاَ هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ:
باب: فتح مکہ کے بعد وہاں سے ہجرت کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔
حدیث نمبر: 3077
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ لَا هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا ‘ ان سے منصور نے ‘ ان سے مجاہد نے ‘ ان سے طاؤس نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا ”اب ہجرت (مکہ سے مدینہ کے لیے) باقی نہیں رہی ‘ البتہ حسن نیت اور جہاد باقی ہے۔ اس لیے جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو فوراً نکل جاؤ۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3077]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”اب ہجرت باقی نہیں رہی، البتہ حسن نیت اور جہاد باقی ہے۔ اور جب تمہیں جہاد کے لیے نکلنے کا حکم دیا جائے تو فوراً نکل جاؤ۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3077]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3078
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: جَاءَ مُجَاشِعٌ بِأَخِيهِ مُجَالِدِ بْنِ مَسْعُودٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هَذَا مُجَالِدٌ يُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: لَا هِجْرَةَ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ وَلَكِنْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو یزید بن زریع نے خبر دی ‘ انہیں خالد نے ‘ انہیں ابوعثمان نہدی نے اور ان سے مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجاشع اپنے بھائی مجالد بن مسعود رضی اللہ عنہ کو لے کر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یہ مجالد ہیں۔ آپ سے ہجرت پر بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد اب ہجرت باقی نہیں رہی۔ ہاں میں اسلام پر ان سے بیعت لے لوں گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3078]
حضرت مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے بھائی حضرت مجالد بن مسعود رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یہ مجالد ہیں اور آپ سے ہجرت پر بیعت کرنا چاہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فتح مکہ کے بعد تو ہجرت باقی نہیں رہی، البتہ دین اسلام پر (استقامت کی) بیعت ان سے لے لیتا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3078]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3079
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: جَاءَ مُجَاشِعٌ بِأَخِيهِ مُجَالِدِ بْنِ مَسْعُودٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هَذَا مُجَالِدٌ يُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: لَا هِجْرَةَ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ وَلَكِنْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو یزید بن زریع نے خبر دی ‘ انہیں خالد نے ‘ انہیں ابوعثمان نہدی نے اور ان سے مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجاشع اپنے بھائی مجالد بن مسعود رضی اللہ عنہ کو لے کر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یہ مجالد ہیں۔ آپ سے ہجرت پر بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد اب ہجرت باقی نہیں رہی۔ ہاں میں اسلام پر ان سے بیعت لے لوں گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3079]
حضرت مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے بھائی حضرت مجالد بن مسعود رضی اللہ عنہما کو ساتھ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یہ مجالد ہیں اور آپ سے ہجرت پر بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فتح مکہ کے بعد تو ہجرت باقی نہیں رہی، البتہ دین اسلام پر (استقامت کی) بیعت ان سے لے لیتا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3079]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3080
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو: وَابْنُ جُرَيْجٍ سَمِعْتُ عَطَاءً، يَقُولُ: ذَهَبْتُ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَهِيَ مُجَاوِرَةٌ بِثَبِيرٍ، فَقَالَتْ:" لَنَا انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ مُنْذُ فَتَحَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا کہ عمرو اور ابن جریح بیان کرتے تھے کہ ہم نے عطا سے سنا تھا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ میں عبید بن عمیر کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ ثبیر پہاڑ کے قریب قیام فرما تھیں۔ آپ نے ہم سے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ پر فتح دی تھی ‘ اسی وقت سے ہجرت کا سلسلہ ختم ہو گیا تھا (ثبیر مشہور پہاڑ ہے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3080]
حضرت عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں عبید بن عمیر کے ہمراہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ وہ ثبیر پہاڑ کے دامن میں تشریف فرما تھیں۔ انہوں نے ہمیں فرمایا: جب سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ پر فتح دی ہے، اس وقت سے ہجرت کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3080]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة