صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ مَنْ قَاتَلَ لِلْمَغْنَمِ هَلْ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ:
باب: اگر کوئی غنیمت حاصل کرنے کے لیے لڑے مگر نیت ترقی دین کی بھی ہو تو کیا ثواب کم ہو گا؟
حدیث نمبر: 3126
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ أَعْرَابِيٌّ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ، وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ، وَيُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ مَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ:" مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے ‘ ان سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے ابووائل سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک اعرابی (لاحق بن ضمیرہ باہلی) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ایک شخص ہے جو غنیمت حاصل کرنے کے لیے جہاد میں شریک ہوا ‘ ایک شخص ہے جو اس لیے شرکت کرتا ہے کہ اس کی بہادری کے چرچے زبانوں پر آ جائیں ‘ ایک شخص اس لیے لڑتا ہے کہ اس کی دھاک بیٹھ جائے ‘ تو ان میں سے اللہ کے راستے میں کون سا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جنگ میں شرکت اس لیے کرے تاکہ اللہ کا کلمہ (دین) ہی بلند رہے۔ فقط وہی اللہ کے راستے میں ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ/حدیث: 3126]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ایک شخص حصول غنیمت کے لیے لڑتا ہے، دوسرا شہرت و ناموری کے لیے میدان جنگ میں آتا ہے، تیسرا اس لیے لڑتا ہے کہ اس کی دھاک بیٹھ جائے تو ان میں سے اللہ کے راستے میں کون ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس لیے جنگ میں شرکت کرتا ہے تاکہ اللہ کا دین سربلند ہو، صرف وہ اللہ کے راستے میں لڑتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ/حدیث: 3126]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة