صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ إِخْرَاجِ الْيَهُودِ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ:
باب: یہودیوں کو عرب کے ملک سے نکال باہر کرنا۔
حدیث نمبر: Q3167
وَقَالَ عُمَرُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللَّهُ بِهِ".
اور عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (خیبر کے یہودیوں سے) فرمایا کہ میں تمہیں اس وقت تک یہاں رہنے دوں گا جب تک اللہ تم کو یہاں رکھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِزْيَةِ والموادعہ/حدیث: Q3167]
حدیث نمبر: 3167
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ، فَقَالَ: أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَرْضِ فَمَنْ يَجِدْ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ، وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعد مقبری نے بیان کیا، ان سے ان کے والد (ابوسعید) نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہم ابھی مسجد نبوی میں موجود تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور فرمایا کہ یہودیوں کی طرف چلو۔ چنانچہ ہم روانہ ہوئے اور جب بیت المدراس (یہودیوں کا مدرسہ) پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اسلام لاؤ تو سلامتی کے ساتھ رہو گے اور سمجھ لو کہ زمین اللہ اور اور اس کے رسول کی ہے۔ اور میرا ارادہ ہے کہ تمہیں اس ملک سے نکال دوں، پھر تم میں سے اگر کسی کی جائیداد کی قیمت آئے تو اسے بیچ ڈالے۔ اگر تم اس پر تیار نہیں ہو، تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ زمین اللہ اور اس کے رسول ہی کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِزْيَةِ والموادعہ/حدیث: 3167]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک دفعہ ہم مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”یہودیوں کے پاس چلیں۔“ چنانچہ ہم روانہ ہوئے حتیٰ کہ بیت المدراس میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان سے) فرمایا: ”مسلمان ہو جاؤ تو سلامتی کے ساتھ رہو گے۔ خوب جان لو! زمین اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے اور میرا ارادہ ہے کہ تمہیں اس زمین سے جلا وطن کر دوں، لہذا تم میں سے کوئی کچھ مال و اسباب پائے تو اسے فروخت کر دے بصورتِ دیگر تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ زمین تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِزْيَةِ والموادعہ/حدیث: 3167]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3168
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ الْأَحْوَلِ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ثُمَّ بَكَى حَتَّى بَلَّ دَمْعُهُ الْحَصَى: يَوْمُ الْخَمِيسِ قُلْتُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ مَا يَوْمُ الْخَمِيسِ؟ قَالَ: اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ، فَقَالَ" ائْتُونِي بِكَتِفٍ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا فَتَنَازَعُوا وَلَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ، فَقَالُوا: مَا لَهُ أَهَجَرَ اسْتَفْهِمُوهُ، فَقَالَ: ذَرُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونِي إِلَيْهِ فَأَمَرَهُمْ بِثَلَاثٍ، قَالَ: أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ وَالثَّالِثَةُ خَيْرٌ إِمَّا أَنْ سَكَتَ عَنْهَا وَإِمَّا أَنْ قَالَهَا فَنَسِيتُهَا، قَالَ سُفْيَانُ: هَذَا مِنْ قَوْلِ سُلَيْمَانَ.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان احول نے، انہوں نے سعید بن جبیر سے سنا اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا آپ نے جمعرات کے دن کا ذکر کرتے ہوئے کہا، تمہیں معلوم ہے کہ جمعرات کا دن، ہائے! یہ کون سا دن ہے؟ اس کے بعد وہ اتنا روئے کہ ان کے آنسووں سے کنکریاں تر ہو گئیں۔ سعید نے کہا میں نے عرض کیا، یا ابوعباس! جمعرات کے دن سے کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا کہ اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف (مرض الموت) میں شدت پیدا ہوئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مجھے (لکھنے کا) ایک کاغذ دے دو تاکہ میں تمہارے لیے ایک ایسی کتاب لکھ جاؤں، جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو۔ اس پر لوگوں کا اختلاف ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا کہ نبی کی موجودگی میں جھگڑنا غیر مناسب ہے، دوسرے لوگ کہنے لگے، بھلا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بےکار باتیں فرمائیں گے اچھا، پھر پوچھ لو، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے میری حالت پر چھوڑ دو، کیونکہ اس وقت میں جس عالم میں ہوں، وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کا حکم فرمایا، کہ مشرکوں کو جزیرہ عرب سے نکال دینا اور وفود کے ساتھ اسی طرح خاطر تواضع کا معاملہ کرنا، جس طرح میں کیا کرتا تھا۔ تیسری بات کچھ بھلی سی تھی، یا تو سعید نے اس کو بیان نہ کیا، یا میں بھول گیا۔ سفیان نے کہا یہ جملہ (تیسری بات کچھ بھلی سی تھی) سلیمان احول کا کلام ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِزْيَةِ والموادعہ/حدیث: 3168]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا: جمعرات کا دن، آہ! جمعرات کا دن کیسا (ہیبت ناک) تھا! پھر وہ رو پڑے یہاں تک کہ ان کے آنسوؤں سے کنکریاں تر ہوگئیں۔ میں نے عرض کیا: اے ابن عباس رضی اللہ عنہما! جمعرات کا دن کیسا تھا؟ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری سنگین ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس شانے کی کوئی ہڈی لاؤ، میں تمہارے لیے کچھ تحریر کردوں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔“ اس کے بعد لوگ باہم جھگڑنے لگے، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑنا نہیں چاہیے تھا۔ لوگوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا ہوگیا ہے؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم (دنیا سے) ہجرت فرمارہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات اچھی طرح سمجھو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھے چھوڑ دو، میں جس حال میں ہوں وہ اس حال سے اچھا ہے جس کی طرف تم مجھے بلارہے ہو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تین امور کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو، اور دوسرے ممالک سے آنے والے وفود کو عطایا دیا کرو، جیسے میں انہیں عطایا دیا کرتا تھا۔“ تیسری بات سے آپ نے سکوت فرمایا یا آپ نے بیان کی تھی لیکن میں بھول گیا۔ سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آخری مقولہ سلیمان راوی کا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِزْيَةِ والموادعہ/حدیث: 3168]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة