🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. بَابُ إِثْمِ الْغَادِرِ لِلْبَرِّ وَالْفَاجِرِ:
باب: دغا بازی کرنے والے پر گناہ خواہ وہ کسی نیک آدمی کے ساتھ ہو یا بےعمل کے ساتھ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3186
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ: أَحَدُهُمَا يُنْصَبُ، وَقَالَ: الْآخَرُ يُرَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان اعمش نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اور ثابت نے انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن ہر دغا باز کے لیے ایک جھنڈا ہو گا، ان میں سے ایک صاحب نے بیان کیا کہ وہ جھنڈا (اس کے پیچھے) گاڑ دیا جائے گا اور دوسرے صاحب نے بیان کیا کہ اسے قیامت کے دن سب دیکھیں گے، اس کے ذریعہ اسے پہچانا جائے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِزْيَةِ والموادعہ/حدیث: 3186]
حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت انس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: قیامت کے دن ہر غدار کے لیے ایک جھنڈا ہوگا۔ ان راویوں میں سے ایک کا بیان ہے: وہ جھنڈا نصب کیا جائے گا۔ اور دوسرے کا بیان ہے: وہ قیامت کے دن دکھایا جائے گا جس سے دغاباز کی شناخت ہوگی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِزْيَةِ والموادعہ/حدیث: 3186]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3187
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ: أَحَدُهُمَا يُنْصَبُ، وَقَالَ: الْآخَرُ يُرَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان اعمش نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اور ثابت نے انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن ہر دغا باز کے لیے ایک جھنڈا ہو گا، ان میں سے ایک صاحب نے بیان کیا کہ وہ جھنڈا (اس کے پیچھے) گاڑ دیا جائے گا اور دوسرے صاحب نے بیان کیا کہ اسے قیامت کے دن سب دیکھیں گے، اس کے ذریعہ اسے پہچانا جائے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِزْيَةِ والموادعہ/حدیث: 3187]
حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت انس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ہر غدار کے لیے ایک جھنڈا ہوگا۔ ان راویوں میں سے ایک کا بیان ہے: وہ جھنڈا نصب کیا جائے گا۔ اور دوسرے کا بیان ہے: وہ قیامت کے دن دکھایا جائے گا جس سے دغا باز کی شناخت ہوگی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِزْيَةِ والموادعہ/حدیث: 3187]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3188
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يُنْصَبُ لغَدْرَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر دغا باز کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا جو اس کی دغا بازی کی علامت کے طور پر (اس کے پیچھے) گاڑ دیا جائے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِزْيَةِ والموادعہ/حدیث: 3188]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ہر غدار کے لیے ایک جھنڈا ہوگا جو اس کی دغا بازی کے سبب گاڑا جائے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِزْيَةِ والموادعہ/حدیث: 3188]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3189
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ لَا هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا، وَقَالَ: يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ الْقِتَالُ فِيهِ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَلَمْ يَحِلَّ لِي إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهُ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ، قَالَ: إِلَّا الْإِذْخِرَ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے مجاہد نے، ان سے طاؤس نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا تھا، اب (مکہ سے) ہجرت فرض نہیں رہی۔ البتہ جہاد کی نیت اور جہاد کا حکم باقی ہے۔ اس لیے جب تمہیں جہاد کے لیے نکالا جائے تو فوراً نکل جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن یہ بھی فرمایا تھا کہ جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین پیدا کئے، اسی دن اس شہر (مکہ) کو حرم قرار دے دیا۔ پس یہ شہر اللہ کی حرمت کے ساتھ قیامت تک کے لیے حرام ہی رہے گا، اور مجھ سے پہلے یہاں کسی کے لیے لڑنا جائز نہیں ہوا۔ اور میرے لیے بھی دن کی صرف ایک گھڑی کے لیے جائز کیا گیا۔ پس اب یہ مبارک شہر اللہ تعالیٰ کی حرمت کے ساتھ قیامت تک کے لیے حرام ہے، اس کی حدود میں نہ (کسی درخت کا) کانٹا توڑا جائے، نہ یہاں کے شکار کو ستایا جائے، اور کوئی یہاں کی گری ہوئی چیز نہ اٹھائے سوا اس شخص کے جو (مالک تک چیز کو پہنچانے کے لیے) اعلان کرے اور نہ یہاں کی ہری گھاس کاٹی جائے۔ اس پر عباس رضی اللہ عنہ نے کہا، یا رسول اللہ! اذخر کی اجازت دے دیجئیے۔ کیونکہ یہ یہاں کے سناروں اور گھروں کی چھتوں پر ڈالنے کے کام آتی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا اذخر کی اجازت ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِزْيَةِ والموادعہ/حدیث: 3189]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: اب (مکہ سے) ہجرت نہیں رہی، البتہ جہاد کی نیت اور اس کا حکم باقی ہے، اس لیے جب تمہیں جہاد کے لیے نکلنے کا حکم دیا جائے تو فوراً نکل پڑو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن یہ بھی فرمایا: جس دن اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اسی دن اس شہر کو حرام قرار دے دیا، اس لیے یہ شہر اللہ کی حرمت کے باعث قیامت تک کے لیے حرام ہی رہے گا۔ واقعہ یہ ہے کہ مجھ سے پہلے یہاں کسی کے لیے لڑنا جائز نہیں ہوا اور میرے لیے بھی دن کی صرف ایک گھڑی کے لیے جائز کیا گیا۔ یہ شہر اللہ تعالیٰ کی حرمت کی وجہ سے قیامت تک کے لیے حرام ہے، لہٰذا اس کا کانٹا نہ توڑا جائے اور نہ اس کا شکار ہی ستایا جائے، نیز یہاں کی گری پڑی چیز بھی نہ اٹھائی جائے، البتہ جو شخص (مالک تک پہنچانے کے لیے) اس کی شہرت کرے وہ اٹھا سکتا ہے، اس جگہ کی گھاس بھی نہ کاٹی جائے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اذخر کی اجازت دیں کیونکہ یہ لوہاروں کے لیے اور گھروں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا، اذخر کاٹنے کی اجازت ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِزْيَةِ والموادعہ/حدیث: 3189]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں