مختصر صحيح بخاري سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
بنی اسرائیل کے حالات کا بیان۔
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے بارے میں کیا سنا ہے؟ تو سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”طاعون ایک عذاب ہے جو بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر بھیجا گیا تھا یا (یہ کہا کہ) تم سے پہلے لوگوں پر (یہ راوی کو شک ہے) پھر جب تم سنو کہ کسی ملک میں طاعون پھیلا ہے تو وہاں مت جاؤ اور جب اس ملک میں پھیلے جہاں تم لوگ رہتے ہو تو بھاگنے کی نیت سے وہاں سے مت نکلو۔“ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1451]
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طاعون ایک عذاب ہے، اللہ تعالیٰ جن پر چاہتا ہے یہ عذاب بھیجتا ہے اور اللہ نے اس کو مسلمانوں کے لیے رحمت بنا دیا ہے، جب کہیں طاعون پھیلے اور مسلمان صبر کر کے ثواب کی نیت سے اپنی ہی بستی میں ٹھہرا رہے (بھاگے نہیں) اس کا یہ اعتقاد ہو کہ اللہ نے جو مصیبت قسمت میں لکھ دی ہے وہی پیش آئے گی تو اس کو شہید کا ثواب ملے گا۔“ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1452]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ گویا میں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسرائیل کے پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر کا حال بیان کر رہے تھے: ”ان کی قوم کے لوگوں نے ان کو مار مار کر لہولہان کر دیا اور وہ اپنے منہ سے خون کو صاف کرتے جاتے اور (جب ہوش آتا) یہ کہتے کہ اے اللہ! میری قوم والوں کو بخش دے، کیونکہ یہ نہیں جانتے۔“ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1453]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص غرور سے اپنی تہبند (لٹکائے) کھینچ رہا تھا، وہ (زمین میں) دھنسا دیا گیا، قیامت تک اس میں تڑپتا (چیختا چلاتا) اترتا جائے گا۔“ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1454]