مختصر صحيح بخاري سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک اور اخلاق کا بیان۔
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز پڑھائی پھر پیدل تشریف لے گئے (راستے میں) سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انھیں اپنے کاندھے پر اٹھایا اور کہا کہ میرا باپ تجھ پر تصدق ہو (تو بالکل) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہے اور علی رضی اللہ عنہ کے مشابہ نہیں ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہ سن کر ہنس رہے تھے۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1479]
سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے مشابہ تھے تو ان (ابوحجیفہ) سے کہا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت بیان کرو تو انھوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفید رنگ تھے، بال کچھ سفید کچھ سیاہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تیرہ اونٹ دینے کا حکم دیا لیکن یہ اونٹ بھی ہم نے نہیں لیے تھے کہ آپ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی وفات ہو گئی۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1480]
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے، کہا گیا کہ کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے تھے؟ تو انھوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نچلے ہونٹ اور ٹھوڑی کے درمیان کچھ بال سفید تھے۔“ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1481]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میانہ قامت تھے، نہ بہت لمبے اور نہ بہت چھوٹے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ سرخی مائل سفید تھا، نہ ایسے کہ بالکل سفید (چونے کی طرح) نہ بہت گندمی (زرد) رنگ (بلکہ سرخی مائل)، بال نہ سخت گھونگھریالے تھے اور نہ بالکل ہی سیدھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر چالیس برس کی عمر میں وحی نازل ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس برس مکہ میں رہے۔ وحی (قرآن) نازل ہوتی رہی اور دس برس مدینہ میں رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور داڑھی مبارک میں بیس بال بھی سفید نہ تھے۔ (فائدہ: اہل عرب گنتی میں کبھی دہائیاں گنتے ہیں اور اکائیاں چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ مکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بعثت کے بعد تیرہ سال رہے تھے۔) [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1482]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ایک دوسری روایت میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو بہت لمبے تھے اور نہ پست قد، نہ ایسے بالکل سفید رنگ نہ بالکل گندمی زرد رنگ، نہ سخت گھونگھریالے بال والے اور نہ بالکل سیدھے بال والے، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمر مبارک کے چالیسویں سال کے آخر میں بعثت (وحی قرآن) سے نوازا .... اور باقی تمام حدیث بیان کی (دیکھئیے پچھلی حدیث:)۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1483]
سیدنا براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں میں خوبرو خوش رو، خوبصورت اور اخلاق میں بھی سب سے اچھے تھے، قد میں نہ بہت لمبے اور نہ بہت چھوٹے تھے۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1484]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب کیا تھا؟ انھوں نے کہا کہ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں کنپٹیوں پر تھوڑی سی سفیدی آئی تھی۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1485]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میانہ قامت تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں کندھوں میں فاصلہ تھا (سینہ چوڑا تھا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کان کی لو تک پہنچتے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سرخ (دھاری دار) حلہ پہنے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر خوبصورت میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1486]
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری روایت میں منقول ہے کہ آپ سے کہا گیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک تلوار کی طرح (لمبا پتلا) تھا؟ انھوں نے کہا کہ نہیں بلکہ چاند کی طرح گول اور چمکدار۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1487]
سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو (دوپہر کو) وادی بطحاء میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک برچھی (بطور سترہ) گڑی تھی .... یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے (دیکھئیے کتاب: نماز کا بیان۔۔۔ باب: امام کا سترہ مقتدیوں کا (بھی) سترہ ہے) اور اس روایت میں سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگ اٹھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ تھام کر اپنے (برکت کے لیے) چہروں پر پھیرنے لگے۔ سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھاما اور اپنے منہ پر رکھا تو وہ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ خوشبودار تھا۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1488]